Sat. Oct 31st, 2020

خواب یا حقیقت ؟

تحریر: محمدجان رحمت جان
mohdjan21@gmail.com
گزشتہ دِنوں شاہراہ قراقرم میں سانحہ کوہستان کی وجہ سے گلگت بلتستان کے پیرو جوان غم سے نڈھال ہیں۔ہر طرف مایوسی اور دکھ کی فضاپائی جاتی ہے۔اس وقت مختلف لوگ مختلف سوچ کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار بھی کررہے ہیں۔ہرایک اپنے معلومات کی روشنی میں تجزیہ پیش کررہاہے۔اخباری بیانات اور میڈیا کے دوسرے ذرائع سے اس واقعے کے حوالے سے خبریں پڑھتے پڑھتے روز رات دو بج جاتے ہیں۔ مقامی اور قومی اخبارات اور آن لائن خبریں دُکھتی رَک پر اور بھی نمک چھڑکاتے ہیں۔ ایسے میں نیند آنا کسی بھی وفادار شہری کے نصیب میں کیسے ہوسکتاہے۔تجزیہ نگاراس حوالے کہتے ہیں کہ یہ امریکی‘ صہونی‘ غیرملکی‘ غیر انسانی‘ ایجنسیوں کا کارنامہ‘ گلگت بلتستان پیکج‘ چینی مفادات‘ معاشی کمزوری‘ مذہبی منافرت‘ دہشت گردی‘ بدلہ‘ جدیدیت سے خوف‘ جہالت کی تجدید‘ خون کا بدلہ خون‘ زمانہ جہالیت کا منظر‘ کالعدم تنظیمیں‘ طاقتور مافیا‘ سیاسی چالیں‘ اپیلٹ کورٹ کا کردار‘ مسلکی مسائل‘ گندم کی سبسیڈی کی باتیں‘تاریخی پس منظر اور موجودہ حکومت کا عوام کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانے کا حربہ قرار دیتے ہیں۔
کیا صحیح ہے کیا غلط یہ میرے علم سے بالا تر ہے۔ ہم عام لوگ امن کے پجاری ہیں۔ ہمارے ہاں امن اور جینے دو کے علاوہ کوئی الفاظ نہیں۔ ہماری غرض بھی امن وامان ہی ہے۔ اس ملک میں جہاں اتنی محنت کے بعد بھی تین ٹائم کی روٹی نصیب نہیں رہنے کے لئے مکان نہیں پڑھنے کے لئے مواقع نہیں۔ پھر اس قسم کے خوف کا ماحول بھی ہو تو عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔ عام لوگ تو گلگت سے پنڈی پہنچنے کےلئے کرایے اور سستے سفر کے سوچ میں تھے لیکن اب یہ بھی ان سے چھین گئی۔ ہمارے آباﺅ اجداد کھیتی باڑی اور مال مویشیوں سے گزر بسر کرسکتے تھے اب وہ ذرائع بھی نہ رہے۔ اب شہر سے وابستگی کے بغیر کوئی بھی بہترزندگی نہیں گزار سکتا ہے کیونکہ تعلیم و تربیت اور اعلیٰ مہارتوں کا حصول صرف شہر جاکر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت قوم سے شہر جانے کے مواقع بھی چھن گئی تو کیا حالات ہونگے؟ اس سوچ میں ایک دن سوچتے سوچتے سو گیا اور ایک خواب دیکھا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں گاﺅں میں ہوں اور گلگت جانے کی تیاری کررہاہوں۔ صبح سویرے جاگتا ہو اور گاڑی کی تلاش میں نکلتا ہو۔ راستے میں لوگ ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ’ کہاں جاتے ہو؟ میں کہتا ہو کہ گلگت جاناہے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ کا دماغ ٹھیک ہے؟ گلگت اس وقت جل رہاہے روڈ بند ہے آپ کو وہاں جانے کی پڑی ہے۔۔۔ میں بضد ہو کہ نہیں، گلگت جانا ہے۔۔۔ صبح دس بج گئے کوئی گاڑی نہیں ملی۔ سب لوگ روڈ پر تھے ان میں سے ایک خاتون بہت بیمار تھی‘ ایک فوجی کی چھٹی ختم ہوچکی تھی۔ اس نے کوئٹہ جاتا تھا‘ ایک سٹوڈنٹ تھا اُس کے کل سے سمسٹر کے امتحانات شروع ہونے تھے‘ اس کو کراچی پہنچنا ہے‘ ایک جوان نے کہا کہ اُس کا آج ٹیسٹ تھا، آج وہ نہ جاسکا تو وہ بے روز گار رہ جائے گا‘.
اتنے میں ایک اور آدمی دو بچوں کے ساتھ آیا کہا کہ اُس نے اپنے بچوں کو لاہور لے جانا ہے وہاں مڈیکل کالجز میں ٹسٹ ہے .ایک دکاندار بھی آگئے ان کا کہنا تھا کہ گاﺅں میں ضروریات زندگی ختم میں کچھ سامان لینے گلگت جارہا ہو۔ سب پریشان ہیں۔ سب کے چہروں پر خوف وحراس اور مایوسی۔
میں نے اُن سے کہا کہ کیا مسئلہ ہے آج گاڑی کیوں نہیں آئی ہے؟ کہنے لگے کہ کوہستان میں معصوم شہری مارے گئے ہیں۔ اس لئے چار دن سے گاڑیاں نہیں ہے۔ میں نے کہاکہ کیوں ہم تو کوہستان سے 540کلومیٹر دور ہیں ہمارے یہاں گاڑیاں کیوں نہیں چلتیں ہیں؟ ایک عاقل آدمی بولے ’جناب آپ کو پتہ نہیں کہ آج ہم سب ایک عالمی گاﺅں کی طرح رہتے ہیں کوہستان تو اپنا گھر ہے ملک کے کسی بھی حصے میں حالات ٹھیک نہ تو اُس کے اثرات ہم سب پر پڑتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کا ہمارے گاﺅں کے ساتھ تعلق ہے۔ وہی سے کھانے پینے اور دیگر ضروریات آتے ہیں۔ وہ نہ آئے تو ہم سب متاثر ہوتے ہیں‘۔ میں نے کہا ہم خود کیوں نہیں اپنے لئے انتظام کرتے ہیں۔ وہ بولے’ جناب یہ وہ زمانہ نہیں کہ آپ ہر چیز گاﺅں میں فراہم کرسکے۔ کالج‘ یونیورسٹی‘ کارخانے‘ بڑے پیمانے پر کھانے پینے کے سامان اور ملازمتیں‘۔ میں نے سوال کہا ہمارے آباﺅاجداد کرتے تھے۔ وہ ہستے ہوئے بولے’ اُ ن کا زمانہ اور تھا اُن کی زندگی کے ضروریات‘ آبادی کم تھی‘ معیار زندگی بہت خوفناک تھی۔ وہ اپنے گاﺅں کے علاوہ کسی اور جگے کو جانتے بھی نہیں تھے۔ مال مویشی اور زمینداری سے محض پیٹ بھرنے کو کچھ ملتا تھا باقی وہ ایک راجہ یا پولیٹیکل ایجنٹ کی غلامی میں تھے۔ اُن کی رضا ہی سب کچھ ہوتی تھی۔ راجہ بچارے کے پاس بھی وہ سہولیات نہیں تھے جو آج ایک غریب آدمی کے پاس ہوتے ہیں۔ ایک تنگ وتاریک کمرے میں ایک قالین ڈال کر وہ گاﺅں کے سیاہ وسفید کا مالک تھا۔ کھانے پینے کو اُسے بھی کوئی خاص چیزیں نہیں ملتی تھی۔ آج ہم ملک کے دوسرے علاقوں سے لنک ہوئے بغیر معیاری زندگی نہیں گزار سکتے ہیں‘۔
میں نے کہا چلو پھر سب کے ضروری کام ہے تو آج ہی چلتے ہیں۔ سب نے کہا ٹھیک۔ ہم سب مل کر پیدل ہی چلنے لگے۔ ایک صاحب بولنے لگے’ دوستوں یہاں سے تو جائیں گے وہاں جاکے کہاں قیام کرینگے؟‘۔ ایک نے کہا ہوٹل میں۔ ایک بزرگ بولے’ خدا کا خوف کھاﺅ ہوٹل کہاں کھلا ہے وہ بھی بند ہے‘۔ ایک نے کہا رشتہ داروں کے گھر جائیں گے۔ فوراَ وہ فوجی بولے’ کیسے جاﺅ گےکرفیو میں رشتہ دار کے گھر‘۔ اتنے میں وہ مریض بولی’ چلو اللہ کے لئے مجھے ہسپتال تک لے جاﺅ؟‘ ایک مسافر بولے’ آنٹی ہسپتال بھی تو بند ہے‘۔ ’مجھے دوائی تو ملے گی‘ خاتون بولی۔ میں نے کہا دوائی بھی تو شہر سے آتے ہیں جو دکانوں میں تھے وہ ختم ہوچکی ہے۔ اب کہاں سے آپ کو دوائی دیں گے‘۔ خاتون بولی! ہم نے کیا جرم کیا ہے جو ہمیں سزا مل رہی ہے؟ اس کے جواب میں ایک شخص بولے’ہم جرم کریں یا نہ کریں ہمارے علاقے میں جرم ہوتو اُس جرم کی سزا سب کو بھگتنا ہوگا‘ کیونکہ کسی قوم یا ملک کے ایک شہری کی وجہ سے عالمی سطح تک ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے۔ آپ نے نہیں دکھا کہ سندھ میں سیاسی لیڈر نے حکومتی اہلکار خاتون کو کیسے تھپڑ مارا؟ جس کی وجہ سے عالمی سطح تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوریت پر کیا اثر ہوا؟ الغرض سب نے اپنے مسائل آپس میں شیر کیا۔ مگر لاحاصل! کیونکہ ہم نے دیکھا کہ معاشرے کے سب شعبوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے لہذا ہم اِس وقت سفر نہیں کرسکتے ہیں بلے ہم دیامر‘ استور‘ ہنزہ نگر‘ غذر‘ اسکردو‘ گانچھے یا گلگت کے کیوں نہ ہو ہم سب اِس واقعے کی سزا بھگت لیں گے۔ ہماری نسل‘ زبان‘ رنگ‘ مذہب‘ روّےے ‘ بودوباش ایک ہے۔
اتنے میں ایک بزرگ شخص وہاں نمودار ہوئے اور ہم سب سے کہا”آپ سب مسلمان ہیں‘ قرآن اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے ہیں۔ آپ دین اسلام پر جان دینے کے لئے تیار ہیں۔ آپ کو دین سے محبت ہے پیار ہے۔ آپ کی زندگیوں میں سب سے اہم چیز دین ہے پھر کیوں آپ اس دین کا چہرہ دنیا میں خراب کرتے ہو؟ آپ کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری خطبہ میں فرمایا تھا ’تمہارا خون‘ تمہارا مال‘تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہے جیسے اس دن‘شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ ۔۔ عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر‘ کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔ ایک دوسرے کا قتل اور بدلہ لینا زمانہ جہالت میں تھا میں اس طرح کے قدیم جہالیت کے رسومات ختم کرتا ہو۔ اب آپ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔۔۔“ بزرگ مزید بولے کہ اللہ نے قرآن میں بھی فرمایا ہے کہ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے کا شکار نہ ہوجاﺅ۔جب آپ آپس میں دشمن تھے تو اُس نے اپنی رحمت سے آپ کو بھائی بھائی بنا دیا“۔  یہ کہہ کر وہ بزرگ غائب ہوا اور میں بھی خواب سے بیدار ہوا۔ دیکھتا ہوں تو میں اسلام آباد میں ہو لیکن مجھے احساس ہوا کہ اس قسم کے واقعات سے پورے علاقے میں بے چینی ہوتی ہے۔ سب اِس قسم کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔بیمار‘ طالبعلم‘ ملازم‘ کاروباری لوگ‘ تجارت‘ امن‘ بھائی چارہ‘ اسلامی تعلیمات اور علاقائی ثقافت اور برادری یہ سب معدوم ہوجاتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں کہ معاشرے کی بے چینی کی بجائے امن کا باعث بن کر اسلام کا سفیر بنے۔ شیخ سعدی کا شعر ہے۔
بنی آدم عضائے یک دیگرم‘ کہ درآفرنیش زیک جوہر اند
چو عضوئے بدردآورد روزگار ‘اگرعضو ہارانماقراند
ترجمہ: بنی انسان ایک دوسرے کے جسم کے مانند ہیں کہ جن کی خلقت ایک ہی جوہر سے ہوتی ہے۔اگر زمانہ جسم کسی ایک عضو میں درد پیدا کرے تودیگر عضا کو قرار نہیں آتا ہے.
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: