Tue. Oct 20th, 2020

تھرڈ کلاس کے مزے

تحریر: محمدجان رحمت جان
اوّل‘ دوّم اور سوّم درجے کی تعلیم کا نظریہ کوئی نیا نہیں روز اوّل سے ہی تعلیمی میدان میں اس نظریے کے تحت طلباءو طالبات کی درجہ بندی کی جاتی رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مختلف شعبہ زندگی میں سرکاری و نجی خدمات کے لئے بھی اس کلیے کی بنیاد پر انتخاب کیاجاتاہے۔ ہر میدان میں معیار کے مطابق اوّل درجے کو ترجیح دی جاتی ہے اور دوسرے درجے کی بھی کسی حد تک خیال داری ہوتی ہے لیکن تیسری درجے کو لوگThird Classکہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ نتیجتاََ تھرڈ کلاس کے معیار کے لوگ سماج میں سیاسی و سماجی خدمات شروع کردیتے ہیں اور ایک دم پورے معاشرے کو سنبھال لیتے ہیں اور جمہوریت کے نظام کے تحت وہ نہ صرف اپنی زندگی میں اعلیٰ درجہ پا لیتے ہیں بلکہ پورے نظام حکومت کو بھی سنبھال کر یہی لوگ دیگر لوگوں کے لئے عملی اقدامات اور پالیسیاں وضح کرتے ہیں۔ اوّل اور دوّم درجے کے معیاری لوگ اپنی انفرادی زندگی کو اتنا وقت دیتے ہیں کہ سماج ان کو کچھ نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ سماج کو اور سماج ان کو نظرانداز کردیتا ہے۔ عملی زندگی سے کنارہ کش یہ لوگ اپنے لئے ہی جیتے ہیں اور دوسروں کو تھرڈ کلاس سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ ”میں تھرڈ ڈیویژنر ہو مجھے مار ڈالیئے‘ ڈگری میرا اُٹھائیں اچار ڈالیئے“۔ یہ سب اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ لیکن ہمارے عملی معاشرے میں نتائج اس کے برعکس ہے۔
پچھلے دنوں ایس ایم ایس پر ایک پیغام مزاح کی صورت میں آئی تھی جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ ”ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ تمام فرسٹ پوزیشن کے لوگ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پائلیٹ‘ ٹیچر وغیرہ بنتے ہیں۔ دوسری پوزیشن کے لوگ منیجرز‘ سیکریٹریز‘ بروکریٹس بنتے ہیں اور پہلی پوزیشن والوں کو قیادت فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح تیسری پوزیشن کے لوگ سیاسی ‘ تجارتی اور سماجی لیڈر بنتے ہیں اور پہلی اور دوسری پوزیشن کے لوگوں کے لئے پالیسی اور منصوبے بنانے کے ساتھ پوری حکومت بھی چلاتے ہیں“۔ بظاہر یہ ایک ایس ایم ایس ہے لیکن غور کرنے والوں کے لئے یہ ایک پیغام ہے جو دل کی انکھیں کھول دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں کم ازکم ۰۸ فیصد یہی صورتحال ہے۔ آج کل تیسرے درجے کے لوگ ہی خوب کماتے ہیں اور بڑے بڑے مکانات اور آمدن کے مالک ہیں۔ اب آپ سوچئے کہ جس سماج میں تیسرے درجے کی معیار کے لوگ ملک کی قیادت سنبھالیں اس ملک کی معیشت اور ترقی کا کیا معیار ہوگا؟ ہمارے ملک کے اہم شعبہ زندگی میں یہی لوگ برجما ہیں باقی کو وہ اپنی دانش کے مطابق چلاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہے جو نہ ریٹائر ہونے کا نام لیتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو کام کرنے دیتے ہیں۔ آج کل تو المیہ یہ ہے کہ وہ مالیاتی اور تعلیمی اداروں کے بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور کمپیوٹر جیسے مشین کو جو اب بہت پرانی بات ہوگئی ہے‘ کو چلانا بھی نہیں جانتے اور نہ ہی انٹرنٹ جیسی اہم دنیا سے واقف ہیں ان کو صرف ایک کام آتا ہے کہ وہ زیرزمین جائیداد سمیٹنے کے بڑے ماہر ہیں۔ یہ محض ایک علاقے کا نہیں پورے ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
لیڈرشب میں موجود یہ صاحبان ہر محفل کے لئے لوگوں کی لکھی ہوئی تقریریں پڑھ پڑھ کر زندگی گزار دیتے ہیں اُن کی اپنی کوئی شناخت نہیں اس لئے ہر ایک کی مشورے پر میدان مار دیتے ہیں۔ احتساب کا کوئی طریقہ کار نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے دیا جاتا ہے۔ بحرحال اس کالم کو پڑھ کر وہی لوگ کہہ رہے ہونگے ”یہ اخبار والے ٹائم ضائع کرتے ہیں ان کو کون پڑھتا ہے“۔ خیر بات کو طول دیئے بغیر ایک منٹ کے لئے رک جاﺅ، کالم پڑھنا بند کرو اور اپنے ارد گرد کے ان لوگوں کو گننا شروع کر دوجو اس معیار کے حامل ہیں۔ اسمبلی سے لیکر یونین کونسل تک‘ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک‘ تعمیرات عامہ سے لیکرمالیات تک اور انتظامیہ کے اعلی عہدوں پر برجما طاقتور لوگ آپ کو کیسے لگتے ہیں؟ ہوسکتا ہے ایس ایم ایس والے پیغام میں حقیقت ہو یا دغابازی اس کا فیصلہ آپ خود سوچئے! ظاہر ہے ایسے موقع پر اخبار پھینگ کر آپ چائے پینا شروع کردینگے یا کسی دوست کے ساتھ اس بارے میں اظہار خیال کرینگے یہ آپ کی ذہنی معیار اور شوق پر انحصار ہے۔
ہم کسی خیالی معاشرے کے قائل نہیں جہاں ہر آدمی فلسفی ہو بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں ہمیں باقی دنیا کے مقابلے میں سوچنے کی کوشش کرنی چایئے۔ آج دنیا تعلیم عامہ(Mass Education) سے نکل کر تعلیم خاصہ (Quality Education or Specialization ) کی طرف جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں تخصیصی تعلیم کا تصور ضرور ہے لیکن عملی میدان اس پر تقرریاں بہت کم ہوتی ہیں۔ جس معاشرے میں عوامی خدمات کے شعبے پیسے میں بِکتے ہو اُن میدانوں میں ترقی کیا خاک ہوگی۔ تیسرے درجے کے لوگ پھر بھی صحیح ہیں یہاں تو ایسے لوگ حاکم ہیں جن کے پاس کوئی درجہ(تعلیمی معیار) ہی نہیں۔ جالی ڈگریوں کی عدالتی خبریں اس بات کی واضح دلیل ہے جسے ہم روز میڈیا پر دیکھتے ہیں۔آفرین اس ملک کی تاریخ کو اس ظلم کے باوجود یہاں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں۔ آج بھی بہت سارے سرکاری و نجی اداروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دیکھنے‘ سننے‘ لکھنے‘ پڑھنے اور بولنے کی صلاحیت کم رکھتے ہیں لیکن عہدے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتے ہیں۔ کوئی ان سے کہے کہ آپ کب ریٹائر ہورہے ہیں تواِن کا جواب ہوتا ہے” ریٹائر ہو کر کیا کرینگے اس سے تو گھر چلتا ہے“۔ یعنی لوگوں کی ذاتی زندگی اہم ہے ”ملک وقوم“ اہم نہیں۔ سورة یونس ایت ۰۱ میں اللہ تعالیٰ نے درجات کی نوید ان لوگوں کو سنائی ہے جو اپنے عمل میں سچے ہیں۔ فرماتے ہیں” ایمان والوں کو سنا دو کہ ان کے ہاں سچے لوگوں کے درجات مقرر ہے لیکن کفار نہیں مانتے“۔
یہ ایک رائے ہم نے صرف تعلیمی حوالے سے قائم کی ہے ہوسکتا ہے کسی اور ذہنی معیار میں لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے سماج میں تھرڈ کلاس کے مزے ہیں۔ ہمیں اس صوتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستی نظر آتا ہے کہ فرسٹ کلاس کے لوگ انفردیت سے باہر نکل آئے تو اجتماعیت کو قیادت فراہم کر سکتے ہیں اگر وہ سب اپنے کام سے کام رکھ بڑے بڑے قلعہ نما محلات میں رہے تو ظاہر ہے کم صلاحیتوں کے لوگ ہم پر مسلط ہونگے۔ کم صلاحیت کے لوگوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ سب کو اپنے صلاحیت کے مطابق ساتھ لیکر چلتے ہیں جبکہ اعلیٰ صلاحتوں کے مالک لوگ خود کو اعلیٰ و بالا سمجھ کر پست ترین اہمیت کے حامل رہ جاتے ہیں۔ ہوسکتا آپ کو میرے خیالات سے اختلاف ہو لیکن یہ میرے ایک عرصے کی معاشرتی لوگوں سے ملاقاتوں کی جذبات کی عکاسی ہے۔ یاد رکھیں جذبات اثرات کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان میں تبدیلی ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بہترین صلاحیت کے حامل قیادت عطا فرمائیں تاکہ ایک بہترین قوم کی تشکیل میں معاون ثابت ہو۔

1 thought on “تھرڈ کلاس کے مزے

  1. Absolutely true Muhammad Jan.
    The nation, just after Junnah (RA), is trapped into vicious cycle of failed leadership who has promulgated corrupt laws and practices for its own interest. Everytime its new generation is launched with new hieghts/records of corruption. Masses have forgot to define corruption as an unlawful and shameful practice but started believing these as merit and qualification. A country otherwise blessed by the Nature with all resources plentifully, has bowed down to the extent that it is simply creeping and slithering to the abyss of ignorance (jahiliya)and self-destruction; and the plight is that all this is being attributed to other(s), third-party, hidden-hand, enemy, etc. Who will tell them that no one is our enemy except ourselves.

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: