Mon. Oct 26th, 2020

بے آئین دھرتی کے بے زبان سپوت

صفدر علی صفدر
عالمی وملکی سطح پرمخصوص زبانوں میں تعلیم کا فروغ،لوگوں کی نقل مکانی اور دیگر ثقافتوں اور زبانوں کو اختیار کرنے کے زجحان کے باعث نہ صرف مقامی زبانوں کی اہمیت کم ہوگئی ہے بلکہ انہیں اپنی بقاءکے بھی شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ 21فروری کومادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پرقومی اخبارات میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم وثقافت (یونیسکو)کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بولی جانے والی7000سے زائد زبانوں کے ایک بڑے حصے کو نئی صدی کے آخر تک خاتمے کاخطرہ درپیش ہے جس میں 28پاکستانی زبانوں سمیت 43فیصد زبانوں کواپنی بقاءکے خطرات لاحق ہیں۔ان میں سے10فیصدزبانیں غیر محفوظ،11فیصد کو ناپیدی کے یقینی خطرہ کا سامنا،9فیصد کو خاتمے کے شدید ترین خطرات،10فیصد زبانوں کو تشویشناک حد تک خطرات جبکہ تقریبا4فیصد زبانیں متروک ہوچکی ہیں۔یوں دنیا میں بولی جانے والی57فیصد زبانوں کو محفوظ قرار دیاگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ27 فیصدبولی جانے والی زبان انگریزی جبکہ22.5فیصدچینی زبان کا استعمال ہوتا ہے۔ یونیسکو نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات،خیبر پختونخواں،بلوچستان اور کشمیر سمیت بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سر حدی علاقوں میں بولی جانے والی 7زبانوں کو بھی غیر محفوظ قرار دیا ہے جن میں گلگت بلتستان میں کثرت سے بولی جانے والی ایک زبان بھی شامل ہے۔15فیصد زبانیں خاتمے کے یقینی خطرے میں ہیں جن میں گلگت بلتستان کے 2 جبکہ 6فیصد زبانیں ناپید ہونے کے شدید خطرے میں ہیں جن میں بدقسمتی سے گلگت بلتستان کی ایک مقامی زبان بھی شامل ہے۔
یونیسکو کی طرف سے زبانوں کے حوالے سے یہ ا عدادوشمار یقینا ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ آج کے اس دور میں انسان جہاں جانی ومالی لحاظ سے عدم تحفظ کا شکار ہے وہاں اسے اپنی مادری زبان کی بقاءکے حوالے سے بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ زبان انسان کی قومیت،مذہب،علاقہ،گروہ اور ثقافت کی پہچان ہوتی ہے اوریہ انسانی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے ۔پس مادری زبان سے محبت انسان کی فطرت بن چکی ہے اسی لئے اس کا تحفظ بھی انسان کی ذمہ داری ہے۔اگر ہمیں اپنی زبان کی اہمیت و افادیت ، اس کی ترویج اور اس کے تحفظ کا ادراک نہیں تو باقی ماندہ چیزیں بھی ہمارے لئے بے سود ہیں۔ترقیافتہ ممالک میں یہ ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے جو نہ صرف خودمقامی زبان،ادب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے اقدامات کرتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے کام کرنے والے اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بدقسمتی سے حکمرانوں میں وہ شعور نہ ہونے کے سبب انگریزی اور اردو مقامی زبانوں پر غلبہ پارہی ہے جس کے نتیجے میں ہم میں سے کوئی بھی انگریزی اور اردو مکس کئے بغیر اپنی مادری زبان میں ایک مکمل جملہ بولنے کا قابل نہیں رہا ہے اور نہ ہی کوئی لکھنے کا قابل رہا ہے جبکہ اس کی نسبت انگریزی اور اردو میں ہم آسانی سے بول اور لکھ سکتے ہیں۔ دیگر زبانوں کو اختیار کرنے کا رجحان خاص طور پر جدیدیت پسند اور آزاد خیال گھرانوں ہیںکچھ زیادہ ہی نظر آتاہے۔ ان کے ہاں انگریزی اور اوردو کا بول بالا ہے اور ان حلقوں میں تو ابتداءہی سے اولاد کی تربیت غیر مقامی زبانوں میںکی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے بڑے ہوکر اپنی مادری زبان کی اصلیت کھو جاتے ہیں اور مادری زبان میں بات کرتے وقت ان کا لہجہ ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔حالانکہ ماہرین کے مطابق بچے کی نشونمامیں مادری زبان کا کلیدی کردار ہے جبکہ بچہ اگر اپنی ابتدائی بنیادی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرے تواس کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بہت بڑسکتی ہے۔
خیر سب لوگ ایک جیسے کبھی نہیں ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان جیسے علاقے میں جہاںایک طبقہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنی مادری زبان کو فنا کرنے کی کوششیں کررہا ہے تو وہی پر دوسرا طبقہ اسکے تحفظ اور بقاءکی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے ہی ایک طبقہ کا میں آج کی اس تحریر میں ذکر کرنا مناسب سمجھونگا جس نے مقامی زبان اور ثقافت کے حوالے سے اپنی کاوشوں کو ”شیناءلینگویج اینڈ کلچر پروموشن سوسائٹی ‘ کے نام سے ایک باقائدہ ادارے کی شکل میں عملی جامع پہنایا ہے۔ اس ادارے کا پودہ آج سے گیارہ برس قبل یعنی2001میںمشہور مصنف وماہر لسانیات و بشریات شکیل احمد شکیل المعروف (شکیل استاد) اور معروف شاعر ودانشور اورمیرے استاد محترم اشتیاق احمد یاد کے ہاتھوں لگایا گیا تھا جو بہت ہی کم عرصے میں ان کے اور ان کے دیگر رفقاءکار کی انتھک محنت اور کوششوںسے ایک تناور درخت بنتاجارہا ہے۔یہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے اندرشیناءزبان،ادب اور ثقافت کے ماہرین پر مشتمل ٹیم بہت بنیادی چیزوں پر ماہرانہ انداز میں کام کر رہی ہے اور ہر ایک چیز کا بڑی باریکی سے مطالعئہ کررہی ہے۔ادارے کے اندر تخلیقی وتحقیقی کاموں پر زور دیا جاتا ہے جبکہ اس سلسلے میں قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں ادب اور لسانیات و بشریات کے شعبے کے
میں زیر تعلیم طلباءوطالبات کی بھر پور رہنمائی کی جاتی ہے۔ادارے کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ اس ادارے کی وساطت سے اب تک شیناءزبان اور ثقافت کے حوالے سے آٹھ تصانیف منظرعام پر آچکی ہیں جبکہ عنقریب شیناءکے نامور ادیب وشاعر خلیفہ رحمت جان ملنگ(مرحوم) کی تخلیقات پر مشتمل کتاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکے وارث معروف صحافی ودانشور اسرارالدین اسرار کی کاوشوں سے شیناءاردو ترجمہ کے سات منظر عام پر آرہی ہے۔ ادارے کی طرف سے نوجوانوں کو وقتا فوقتا قومی سطح پر زبانوں کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایونٹس میں شرکت کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جاتاہے اور حال ہی میں خود شکیل استاد ریڈیو پاکستان گلگت کے زیر اہتمام ہونے والے شیناءلوک کہانی کا مقابلہ جیت کر انعام بھی حاصل کر چکے ہیں۔
علاوہ ازیں شیناءزبان اور ادب وثقافت کے حوالے سے حلقہ ارباب زوق گلگت کے کارواں محمد امین ضیائ،عبدالخالق تاج،جمشید خان دکھی،خوشی محمد طارق،غلام عباس نسیم،عبدالحفیظ شاکر،ظفروقار تاج ودیگر کی خدمات بھی قابل ستائش ہیں جو نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کے کاموں میں مصروف عمل ہیں بلکہ علاقے میں امن وامان کے قیام کے لئے بھی ادبی انداز میں تلقین کرتے رہتے ہیں۔
جی ہاں! اب بات کرے قراقرم انٹرنیشنل کے اس اقدام کی جو مقامی زبان اور ثقافت کے تحفط پر کام کرنے والے طبقہ کے لئے ایک نئی امید کی کرن ہے۔جس کے مطابق جامعہ ہذا کے لئے بڑٹش کونسل نے’ ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پارٹنر شپ پروگرام‘ کے تحت مقامی زبانوں پر تحقیق اور انکے تحفظ کے لئے پنتیس ہزا رپاﺅنڈ کی مالیت کے ایک اہم منصوبے پررضامندی ظاہر کی ہے جبکہ ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ضمن میں کے آئی یو کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔اگرچہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرانے کی زمہ داری شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر شمیم آراءکو سونپی گئی ہے جوخود ایک مایہ ناز ماہر لسا نیات ہیں اور ایک مقامی زبان پر بہت گہرائی سے تحقیق کرچکی ہیں۔ ان کے میاں پروفیسر ضیاءالحق انور بھی اسی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وہ اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق بھی مقامی زبانوں پر ہی کررہے ہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں برطانیہ کے مشہور درسگاہ کیمبرج یونیورسٹی کا بھی تعاون حاصل ہوگا۔تاہم علاقائی سطح پر اپنی نویت کے اس اہم منصوبے پر کامیابی سے عمل درآمد کرنے اور اس کے دیرپا نتائج کے حصول کے لئے متزکرہ بالا حلقوں کے تجربات زیادہ معاون ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں نہ صرف شیناءبلکہ گلگت بلتستان کی تمام مقامی زبانوںپر کام کر نے والے افراد اور اداروں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیںاور ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کو بھی علاقائی زبانوںکی قدروقیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں باقائدہ نصاب کا حصہ بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ کہی ایسا نہ ہو کہ آنے والے وقتوں میں ہماری نئی نسل بے آئین دھرتی کے بے زبان سپوت بن جائے۔

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: