Mon. Oct 25th, 2021

قاضی نثار، حقانی اور نصرة الاسلام

عبدالکریم کریمی
یہ غالباً جنوری ۲۱۰۲ئ کی بات ہے۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھے ”فکرونظر“ کے کسی شمارے کی پروف ریڈنگ کر رہا تھا۔ ڈاکیا میرے دفتر میں داخل ہوا اور ایک خوبصورت لفافہ مجھے تھماکر چلا گیا۔ اس لفافے سے ایک خوبصورت مجلہ برآمد ہوا۔ جس کے سرورق پر سہ ماہی ”نصرة الاسلام“ گلگت لکھا ہوا تھا۔ جونہی میں نے ورق گردانی کی۔ پہلے صفحے پر ہی میری نظریں دو ناموں پر ٹک کر رہ گئیں۔ ان میں ایک نام گلگت بلتستان کے نامور عالم دین جناب مولانا قاضی نثار احمد کا تھا جو اس خوبصورت مجلہ کے مدیر اعلیٰ تھے۔ اس کے ساتھ اپنے بہت ہی پیارے دوست خوش فکر و خوش خیال قلمکار امیر جان حقانی کا نام بحیثیت مدیر دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ امیر جان حقانی کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ اپنی تعلیمی مصروفیات کے سلسلے میں کراچی میں ہوا کرتے تھے اور ابن شہزاد حقانی کے قلمی نام سے مختلف پرچوں کو لکھا کرتے تھے۔ اب جبکہ موصوف دینی و دنیاوی علوم سے فراغت کے بعد ڈگری کالج گلگت میں سیاسیات کے لیکچرر ہیں۔
اس مجلے کے ساتھ حقانی صاحب نے میرے نام ایک خط بھی لکھا تھا۔ جس میں سہ ماہی ”نصرة الاسلام“ کی اشاعت کے اغراض و مقاصد پر گفتگو کی گئی تھی۔ ساتھ اس مجلے کے بارے میں اپنی رائے دینے کا حکم بھی تھا۔
مجلے میں رنگارنگ دینی و علمی تحریریں بینائی کو ملیں۔ مولانا قاضی نثار احمد صاحب کے قلم سے لکھے ہوئے اداریے میں اس مجلے کی اشاعت کے اغراض و مقاصد اور جامعہ نصرة الاسلام کنوداس کی علمی و دینی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ گلگت بلتستان کے سیاحتی پس منظر، جغرفیائی اہمیت اور اپنوں اور اغیار کی کارستانیوں پر بہت ہی فکرانگیز بحث کی گئی تھی۔ اس اداریے کو پڑھتے ہوئے مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آیا تھا
میرا عزم اتنا بلند کہ مجھے پرائے شعلوں سے ڈر نہیں
مجھے خوف آتشِ گُل سے ہے کہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
اس کے علاوہ سیرتِ ہادی دو عالم پر پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین ثانی کی خوبصورت تحریر نظر نواز تھی۔ اس طرح سیرتِ صحابہؓ، سفرنامے، ابلاغیات و تا¿ثرات، سوانح عمری، سماجی و عوامی خدمات، فن و شخصیت، مسائل و فضائل، پریس کارنر، اخباری سرگرمیاں اور مدیر کے نام خطوط شامل اشاعت تھے۔
ابھی پہلے شمارے کی لذّت باقی تھی۔ مذکورہ مجلہ کا دوسرا شمارہ اپریل تا جون ٢٠١٢ ئ بھی موصول ہوا۔ دیدہ زیب سرورق کے ساتھ یہ شمارہ بھی دینی و علمی نگارشات سے مزّین تھا۔ ”گلگت بلتستان اذیت کے کٹہرے میں“ کے عنوان سے مجلے کے مدیراعلیٰ مولانا قاضی نثار احمد صاحب نے بہت ہی فکرانگیز اداریہ زیبِ قرطاس کیا تھا۔ جس میں سانحہ کوہستان و چلاس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی تھی۔ جس سے مولانا صاحب کی روشن خیالی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ اس مجلے میں مجھے سب سے زیادہ جس تحریر نے متاثر کیا وہ ”آہ! صد آہ! گلگت جل رہا ہے“ کے عنوان سے صفحہ ۹۴ پر میرے دوست حقانی صاحب کی تحریر تھی۔ جو گلگت کے دلخراش واقعات کی حقیقی منظر کشی کر رہی تھی۔ اللہ رب العزت نے میرے دوست کے قلم کو جو مضبوطی عطا کی ہے وہ شاید کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔
پہلے شمارے سے لے کر اب تک ہر شمارہ مجھے تواتر سے موصول ہوتا رہا۔ جس پر میں اپنے دوست جناب حقانی کا مشکور ہوں کہ وہ اپنی ہر علمی کامیابی پر بندہ¿ حقیر کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اب جبکہ میرے سامنے سہ ماہی ”نصرة الاسلام“ کا چوتھا شمارہ اکتوبر تا دسمبر ٢٠١٢ ئ ہے۔ تمام شمارے علمی کسوٹی پر پرکھنے کے قابل ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک علمی معیار کا ہے۔ کسی میں کوئی جھول نہیں۔ البتہ ایک مخصوص دینی مدرسہ کے زیر انتظام شائع ہونے کی وجہ سے اکثر تحریریں یک طرفہ معلوم ہوتی ہیں۔ ہونی بھی چاہئےں۔ کیونکہ یہ ایک مخصوص مکتبِ فکر اور ادارے کا ترجمان ہے اس لیے اس ادارے کی دینی و علمی کاوش کو منظر عام پر لانا کوئی حیران کن بات نہیں۔
گلگت بلتستان کے پُرفتن اور پُرآشوب حالات میں ایسی کاوشیں لائقِ تکریم ہیں۔ آج کا دَور ”ٹیبل ٹاک“ کا دَور ہے۔ علمی مناظرے کا دَور ہے۔ ایسے میں اس مجلے کا اجراءکرکے یقینا مولانا قاضی نثار احمد صاحب نے علمی معاشرے کی جانب پہلا قدم رکھ کر دیگر مکاتبِ فکر کے جیّد علمائے دین کو بھی راہ دکھائی ہے۔ مولانا صاحب سے البتہ میری شناسائی نہیں ہے۔ لیکن ان کے لیے غذر کا حوالہ ہی ان کو گلگت بلتستان کے دینی و علمی منظر نامے پر بہت معتبر مقام دیتا ہے۔ کیونکہ آپ کا تعلق محبتوں کی سرزمین غذر کے ایک علمی و مذہبی گھرانے سے ہے۔ آپ کی تربیت و پرورش بھی قاضی عبدالرزاق جیسی نابغہ¿ روزگار دینی و علمی شخصیت کی زیر نگرانی ہوئی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ مولانا قاضی نثار احمد صاحب اس مجلے کے ذریعے محبتیں بانٹتا رہے۔
محبت اور خلوص مسلک کی دیواروں سے آزاد ہوا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دوست امیر جان حقانی گوکہ آپ کا تعلق چلاس گوہر آباد سے ہے۔ دِکھنے میں تو ڈھیٹ مولوی لگتے ہیں مگر پیاز کے چھلکوں کی طرح تہہ در تہہ وہ اپنی شخصیت کے بےشمار نمایاں پہلو رکھتے ہیں۔ مذہبی محفلوں میں آپ پر مذہبی رنگ غالب نظر آتا ہے تو یارانِ محفل میں دلداری کے تقاضے پورے کرتے نظر آتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کرے تو خوش الحان قاری کا گمان گزرتا ہے جبکہ اپنی نثری نگارشات میں محو ہوتے ہیں تو ایسے ایسے ادب پارے تخلیق کرتے ہیں کہ جہاں اس نوجوانی میں ہی آپ پر ایک پختہ قلمکار ہونے کا یقین ہوجاتا ہے تو وہاں اپنے سفرناموں میں وہ ایک دِل پھینک عاشق نظر آتے ہیں۔
یہ بات تمام سچے قلمکاروں کے ہاں یکساں ملتی ہے کہ محبت کی حدیں نہیں ہوتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے جب کبھی گلگت میں خیمہ زن ہوتا ہوں تو کشروٹ کے میرے دوست عبدالسلام ناز اپنے گھر میں بنائی ہوئی بریانی لے کر میرے پاس میرے ہوٹل پہنچ جاتے ہیں اور ہم ساتھ مل کر کھاتے ہیں۔ جمشید خان دُکھی اور عبدالخالق تاج کا شمار ہمارے محسنوں میں ہوتا ہے۔ ان کے دولت کدے میں حاضر ہونا یا ان کو اپنے پاس ہوٹل بلانا اور ان سے کسبِ فیض کرنا میں بذاتِ اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ شاید یہی محبت ہے کہ جو میرے دوست احمد سلیم سلیمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ گلگت شہر سے دُور امپھری میں میں رہنے کے باوجود میرے ساتھ میرے ہوٹل میں لنچ کرنے تشریف لاتے ہیں۔ پھر جناب حقانی چلاس گوہر آباد اپنے گھر سے میرے لیے جلغوزے لے کر آتا ہے کہ اپنے اسماعیلی الواعظ دوست کو چلاس کی سوغات ہی پیش کرکے اپنی محبت کا اظہار کرے۔
عبدالخالق تاج نے کسی محفل میں بڑے پتے کی بات کی تھی:
”جب میں اور جان علی مل کر گانا گا سکتے ہیں تو کیا ہمارے علمائے دن مل کر قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرسکتے؟“
میں اُن لوگوں کا بہت ہی مخالف ہوں جو یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم ایک کیوں نہیں ہوسکتے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے پیچھے پوری تاریخ ہے۔ ہم ایک نہیں ہوسکتے۔ لیکن “Let us agree to disagree” پر بھی ہم متفق ہوجاتے ہیں تو اس میں ہماری کامیابی کا رازمضمر ہے۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہماری مشترکات ٩٥  فیصد ہے جبکہ اختلافات صرف ۵ فیصد۔ تو کیا ہم ٩٥  فیصد مشترکات کے لیے ۵ فیصد اختلافات کو برداشت نہیں کرسکتے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ آج گلگت شہر کو جو قتل گاہ بنا دیا گیا ہے اس میں اغیار کی سازشیں کارفرما ہوسکتی ہیں۔ ہماری تو پوری تاریخ شاہد ہے کہ اس خطے میں ایسے لوگ تھے جو پیار و محبت سے رہا کرتے تھے۔ بس آج اغیار کی سازشوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے جو ہمیں مزید ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
المختصر سہ ماہی ”نصرة الاسلام“ قیامِ امن کی جانب اُمیدکی ایک کرن ہے۔ میں اس مجلے کی مستقل اور کامیاب اشاعت کے ایک سال مکمل ہونے پر اس مجلہ کے مدیراعلیٰ جناب مولانا قاضی نثار احمد اور مدیر اپنے دوست جناب امیر جان حقانی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
میری دُعا ہے کہ ”نصرة الاسلام“ محبتوں کا پیام ثابت ہو۔ آمین!

7 thoughts on “قاضی نثار، حقانی اور نصرة الاسلام

  1. A good attribution dear Karimi, to the journal “Nusrat-ul Islam” and its editor, writers and other contributors. I join you appreciating their efforts, more specifically of Qazi Nisar sb. No doubt, there is a considerable proportion of people feeling and thinking positively about the region and its inhabitant but since this majority keeps mum, its strength is unearthed.

    Through such publications, reviews, comments, columns and other media, the constructive side of the region need to be brought at surface, enabling the nation(s) to rethink about the real profile of the region and its inhabitants.

    I salute your tribe for untiring efforts in this context.

  2. Thankz all 4 ur nice and value able comments…
    GB main qiayaam e aman k liye is tarah ki kawishain layiq-e-tehsin hain…
    baz nawjawan aj kal FB pe logon ki kirdar kushi pe waqt sarf kertay hain plz meri reguest hogi ki apki age padnay ki hay logo ki kirdar kushi ki nahi so be possitive, khud mehnat ker k naam or maqam paida kernar ki koshish kary kisi or ki kamyabi per hasad ki aag main jalny ki koshish na kia jaye…

  3. Kareemi Sahab! Ap ki naseehat sar ankhon per… Kuch waqt k liye apko b realistic hona paday ga… Khara aur khota sub kuch waza hota hai… mazeed proofs ki zaroorat nai hoti….
    1. Kya ap ne ye tehreer haqani ko, jaisay ap ne fermayish kar k apni shaan pak per tehreer likhwayi thi(Fiker-o-nazar k liye)us k reply ma nai likhi hai???? Majboori jo thi…
    2. Kya ap ne jo mawad chori kar k as it is paste kiya hai….. is se badha aur koi ADBI jurm ho sakta Hai?????
    3. Ap ne apni fiker-o-nazar k sumaroon ma jis LARKI k real name… aur sari purani kahanian batayee hain… kya ap aik maslak k khateeb ka darja raktay huway apka maslak iski ijazat daita hai???? kya aik bar b ap ko sharam ya nidamat nai huyi????
    4. Faraq nami jis larkay ne apkay khilaf proofs k sath article paish kya tha… kya ap us k aik proof ka b apnay reply walay article wo apnay FB k wall pe paste kiya hai wahan da sakay ho???? yaqeenan us k zaat ko chedhnay k elawa kuch nai kiya….
    5. Kya zinda hotay huway apnay no ka shumara nikalna… aur GB k baqi shura ko pechay chor daina…. ap k apnay ADAB k elawa aur kahin jaiz hai????
    6. Kya ap k samnay copy paste aur adbi nuskhay churana jaiz hai???? Plagrism b koi shay hoti hai/hota hai???
    7. Kya apnay magazine k title page pe laganay k liye apko apnay se badi azeem shaksiyat ki picture mil nai rahi????
    8. Kya apnay magazine ma apnay 60 se zaid pictures dunya ma kahin lagay hain????.(If u will contact World Guinness Record.. i am sure you will be a record holder.)
    9.
    10.
    ……..
    itnay points mazeed hain…. magar time kam hai next time sahi….

    Ap aik magazine nikal kar koi tees mar khan nai ban gaye ho… jo log ap se hasad karain… agar ap realistic ho k haqeeqat pasandana sahafat ya adab k liye kam karaingay… yaqeenan sub ap k sath hai…. ye ap k AAMMAAL hi hain… jis ki waja se ap ahsas e kamtari ki taraf ja rahay ho…. log asiliat jan kar side ho rahay hain…. adab k sath sath sahafat ka b janaza nikala jaraha hai….. Ye tanqeed nahi hai…. balki apki ayenda ki islah k liye aik feedback hai…. Umeed hai samajh jao gay…. Hum ap ki asal aur haqeeqat pasandana kamiyabi k liye duago hain….
    @Kaeemi sahab mujhe isi plateform pe is comment k nechay uper walay comment ki tarah reply ka intazar rahay ga…

    Aur haan ueed hai PT se is comment ko delete kar wanay ki farmaish nai karo gay….

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.