Sun. Oct 25th, 2020

گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کا دوسرے شہروں کی جانب رُخ کرنے کے اسباب اور مسائل

عباس علی نورؔ گوجالی

abbas.ajnabi@gmail.com

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر دور میں تعلیم بڑی اہمیت کا حامل رہی ہیں اور دور جدیدیت میں بھی اس کی اہمیت سے کوئی فرد انکار نہیں کرسکتا ۔چونکہ تعلیم کے بغیر سماجی ارتقاء ناممکن ہے ۔ گویا تعلیم ایک ایسی رہنمائی کا نام ہے جو انسان کو بہتر سمت دیکھاتی ہے ۔ لہذا تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض قرار پائی ہے ۔چنانچہ یہ ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو ان کا تعلیمی حق فراہم کریں ۔ چونکہ تعلیمی سرگرمی کا بنیادی مقصد اور غرض و غائیت طلبہ کی شخصیت کی موثر نشوونما ہی متعین ہوتی ہیں اور وہ اس ملک اور قوم کی آئندہ تعمیر و ترقی کا آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ لہذا انہیں اپنے تعلیمی فرائض کی بجاآوری اور ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنی چاہئے ۔

تاہم اس متنوع دور میں بھی خطہ گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات بہت سے تعلیمی ذرائع سے محروم ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ علاقہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے ۔چونکہ یہ علاقہ ایک متنازعہ علاقہ رہا ہے اور پنسٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی اس کو وہ خود مختاری نہیں دی گئی جو دی جانی تھی۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ آزادی گلگت بلتستان اور آزادی پاکستان کی الگ الگ تواریخ ہیں اورزیادہ ترروایات کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کے بعد آزاد ہوا تھا۔ جنہوں نے بعدازاں پاکستان سے الحاق ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن حکومت نے اس علاقے پر کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اس خطے کو بھی جموں کشمیر کے ساتھ شامل کردیا گیا اور متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا بلاشبہ دور افتادہ ہونے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کامحل وقوع بھی خاصا دشوارگزار ہے۔یہ خطہ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں تک ہر قسم کے فضائی ،زمینی اور برقی رابطے محدود ہیں اور نہ ہونے کے برابر ہے یہاں کے سڑکیں دشوارگزار ہونے کے ساتھ مختلف حادثات سے پُر ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں ہر قسم کے سہولیات پہنچانے میں دقت ہوتی ہے اوروقتی طور پر وہاں پر تمام سہولیات پہنچانے بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔ مزید براں یہ راستہ حال ہی میں دہشت گردوں سے محفوظ نہیں ہیں۔گرچہ گلگت بلتستان ایک دو افتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے بھی حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے نمائندے بھی اس مد میں اپنے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہے ہیں اور حقیقتاًان کے کارنامے صرف سرکاری دورے تک ہی محدود ہے جبکہ عملی طور پرکچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اس طرح یہاں ہر قسم کے سہولیات کی کمی ہے جن میں بہت سے دوسرے معاشرتی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔تعلیمی سہولیات میں تعلیمی ادارے کی عمارت، ماہرین اساتذہ، اور دوسرے عناصر شامل ہیں جبکہ اس خطے میں ہر قسم کے سرکاریٍ و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی ہے ۔ جن میں اسکول ، کالجز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہے اور پورے گلگت بلتستان یعنی سات بڑے بڑے اضلات کے درمیان صرف ایک جامعہ قائم کیا گیا ہے اور وہاں بھی اعلی ماہرین کی کمی کی وجہ سے چند ہی شعبہ جات میں تعلیم دی جارہی ہے ۔خصوصاً سانئس اور ریاضی کے معلمین کی بہت ہی کمی ہے جن کی وجہ سے بہت سے طلبہ ان مضامین میں کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں۔ ایسے بہت سے وجوہات ہے جن کے بنا پر تعلیم کے حصول کے لیے یہاں کی طلبہ و طالبات کو ملک کے دوسرے شہروں کی جانب رُخ کرنا پڑتا ہے جہاں وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے اورساتھ ہی ساتھ اپنی معاشی و اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطرمختلف نوکریاں اورکام کرکے تعلیمی عمل کو مذید تقویت اور استحکام بخشتے ہیں۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ملک کے کونے کونے میں موجود مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔جبکہ تعلیمی معاملات میں انہیں بہت سے دشواریوں سے گزرنے پڑتے ہیں ۔بہت سے طلبہ و طالبات کے والدین کی آمدنی اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے اور انہیں اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھا سکے جبکہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی راہنمائی کی کمی ہے ۔یعنی ثانوی تعلیم مکمل کرکے اعلیٰ ثانوی تعلیم میں قدم رکتھے ہوئے عموماً ایک طالبعلم کے سوچ میں یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کیاکرنے جا رہا ہے ۔اور اسی حالت میں وہ جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کے لیے قدم رکھتا ہے۔ جب وہ یہاں سے فارغ ہوکر نکلتا ہے تو پچھتا رہا ہوتا ہے کہ کچھ اور کیا ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے والدین زیادہ ترناخواندہ ہیں مگر معلم بھی ان کے مستقبل کے تعین میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہتاہے۔ طلبہ کو صرف اور صرف کتابیں کیڑے بننے پر زور دیا جاتا ہے۔جس کے بنا پر کثیر تعدادمیں تعلیم کی حصول کے لئے گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کو دیگر دوسرے شہروں کی جانب رخ کرنا پڑتا ہے اورجہاں وہ چھوٹے موٹے روزگار کرنے کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھتے ہیں۔ گوکہ شہروں میں ان کے ذاتی مکانات نہیں ہوتے ہیں اورجہاں پرہاسٹل وغیرہ کی سہولیات موجود ہے ۔بظاہروہاں کے اخراجات بھی آسمانوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس لیے ایک متعلم کو اتنے زیادہ اخراجات برداشت کرنے میں دقت ہوتی ہے ۔ جس کے کرن شہروں میں انہیں کرایوں مکانوں میں بالخصوص لڑکوں کو گروہ شکل یعنی اپنے چند ہمراہوں سمیت رہیں کر ان جیسے مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے لیکن بد قسمتی سے کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی انہیں کرائے کے مکانات دینے سے بھی قاصر رکھا جاتا ہے گرچہ انہیں کرائے کے مکان دیئے جاتے ہیں بلاشبہ جو کسی کھنڈر سے کم نہیں ہوتے ہیں یعنی انہیں ایسے مکانات مل جاتے ہیں جو انسانی زندگی کے بنیادی ضروریات مثلاً صاف پانی کی دستیانی ،صاف ستھرا ماحول ، تحفظ زندگی کے لیے بہتر اقدامات ، قدرتی گیس کی فراہمی ، پکے مکانات جیسے اہم ذرائع سے خالی ہوتے ہیں ۔لہذا خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں شہروں میں کسی اچھے فلیٹ یا کالونی میں مکان ملے تاہم اُنہیں بھی جھک جھک کر زندگی گزارنے پڑتے ہیں اور یقیناجو ان کے تعلیمی عمل میں مذید بیگارڈپیدا کرنے کا باعث بنتا ہے ۔اپنے ساتھیوں کے مابین رہ کر اپنے مطالعہ جاری رکھنے والے طلباء کو نہایت حقارت نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور انہیں زبردستی فیملی سمیت رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ بعض دفعہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتاہے ۔ بلاشبہ حصول تعلیم کا زمانہ طلبہ کے لیے نظریاتی و آئینی پختگی کا زمانہ ہوتا ہے اور وہیں سے وہ صیح اور غلط راستوں کاتعین کرکے اپنے مقاصد حیات کے حصول کی جانب کوشاں ہوتا ہے ۔ تاہم بد قسمتی سے گلگت بلتستان کے طلبہ کو بہتر سہولیات ملنے کے بجائے اس دور میں گونا گوں مصائبوں سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ لہذا مندرجہ بالا تذکرہ اور بیانات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں حکومت گلگت بلتستان کے سربراہوں کو یہ پیغام دینا چاہونگا کہ وہ ان مسائلوں پر نظر ثانی کریں ۔اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں مقیم طلبہ و طالبات کو بہتر سے بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں اپنے کردار ادا کریں ۔

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: