Sun. Nov 1st, 2020

شندور روڈ کو ہر قسم کی آمد ورفت کے لئے کھول دیا جائے: سید سردار حسین شاہ

اسلام آباد- (نمائندہ خصوصی ) چترال کے معروف سیاسی و سماجی شخصیت سید سردار حسین شاہ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کوہستان ہربن نالے کے قریب راولپنڈی سے گلگت آنے والی مسافر بس پر فائیرنگ اور 18 بے گناہ اور معصوم جانوں کے سفاکانہ قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس گھناونے جرم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سانحے کے طور پریاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں چترال کے تمام باسی گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور اس اندوہ ناک غم میں ہم اُن کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شاہراہ قراقرم کی غیر محفوظ صورتحال اور پنڈی میں پھنسے ہوئے مسافروں سے ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور اپیل کی کہ شاہراہ قراقرم گزشتہ کئی سالوں سے قدرتی آفات اور دہشت گردی کی زد میں آتا رہا ہے اور نتیجے کے طور پر کئی ایک قیمتی جانوں کے نقصان کی مثالیں موجود ہیں،لہذا شندور کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ حفاظتی اور معاشی اعتبار سے اگرچہ شاہراہ قراقرم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا حامل ہے تاہم حالیہ صورت حال جیسے حالات یا کسی اور ہنگامی صورت حال میں پاکستان کے دوسرے شہروں تک رسائی کا واحد ذریعہ گلگت شندور روڈ ہے ۔ انہوں نے خصوصی طور پر حکومت خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ یہ دونوں صوبے آپس میں باہمی افہام و تفہیم سے شندور کو موسم سرما میں ہر قسم کی آمدو رفت کے لیئے کھلا رکھنے کا حکم صادر فرمائیں ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حساس منطقہ ہے جس کی سرحدیں جگہ جگہ سے دشمن ملک سے ملتی ہیں ، ایسے ناگفتہ بہ حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پڑوسی دشمن ملک چونک اُٹھتا ہے لہذا میری حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ شندور کا راستہ فوری طور پر کھول دیا جائے۔ انہوں نے حکومت گلگت بلتستان کو یقین دلایا ہے کہ اگر راستہ براہ شندور منظور ہوا تو گلگت کے عوام کو مستقبل میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔یہ وہ خطہ ہے جہاں لوگ اپنے گھروں میں غلیل بھی نہیں رکھتے ۔ لواری ٹنل تعمیر ہونے کے بعد چترال سے پنڈی کی مسافت صرف آٹھ گھنٹہ رہ گئی ہے اور گلگت سے چترال450 کلومیٹر کا فاصلہ ہے سڑک گلگت سے چترال تک مکمل طور پر پکی ہو تو گلگت سے چترال تک کی مسافت پانچ گھنٹوں کی رہ جائے گی ۔ انہوں نے حکومت سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ پھنڈر سے چترال بونی تک سڑک کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے ، یہ سڑک اگر پکی ہوجائے تو گلگت سے پنڈی کا راستہ صرف 14 گھنٹے کا ہوگا ۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: