Sun. Oct 25th, 2020

ہاتھی کے دانت، کھانے کے اور، دکھانے کے اور

محمد جان

تحریر: محمدجان رحمت جان
mohdjan21@gmail.com
حالیہ دنوں میں وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے ایک برادر خلیجی اسلامی ملک قطر کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران کئی ایک حقائق میڈیا نے دکھایا۔ مثال کے طورپر دولتِ قطر کی فی کس آمدنی ایک لاگھ تین ہزار ڈالر ہے جبکہ اس ملک کی آبادی صرف آٹھارہ لاکھ اور رقبہ گیارہ ہزار چار سو پنتیس مربع کلومیٹرہے۔ دارالحکومت کا نام دوھا ہے۔قطر کے امیر شیخ حامد بن خلیفہ التہانی ہے۔ تیل اور گیس سے مالامال یہ ملک دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔معیشت اور تعلیمی لحاظ سے یہ ملک ترقی یافتہ ملکوں کے برابر یا اُن سے بھی بہتر ہے۔ اب ہم اس ملک کا مقابلہ پاکستان سے کرائیں تو بہت سے حقائق کا پردہ چاک ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی آبادی آٹھارہ کروڑ سے تجاویز کر گئی ہے اور رقبہ سات لاگھ چھیانوے ہزار چھیانوے ہے۔ قدرتی وسائل سے یہ ملک بھی مالامال ہے۔ یہاں پہاڑ‘ دریا‘ سمندر‘ تیل‘ گیس اور دیگر معدنیات کے ذخائر کی کوئی کمی نہیں۔چار موسم کے ساتھ جغرافیائی حدود ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں معیشت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ آزادی سے اب تک قطرکے حکمرانوں نے اس خطے کو دنیا کا معاشی مرکز بناکے رکھ دیا جبکہ پاکستان نے یہ مواقع گنوا دیا۔ سٹرک‘ آئیرپورٹ‘ بندرگاہ‘ ریلوے اورمواصلاتی ذرائع ہونے کے باوجود ہمارے حکمران اِن کے میعار کو عالمی نہ بنا سکے۔ خلیجی ممالک کی ترقی کے دوسرے حقائق کے باوجود اُن کے حکمرانوں کی محنت قابل ستائش ہے۔ خلیجی ممالک کے لوگ بھی عیاش پسند ہیں لیکن عیاشی کے طریقے وہ نہیں جو پاکستان کے ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کی فی کس آمدنی پندرہ سو ڈالر ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ اعداوشمار بھی ٹھیک نہیں۔ ہم نے دکھاوے کی ترقی کی ہے حکمران طبقہ یا سفید پوش لوگ عیاشی کے لیول پر ہے لیکن عوام کی حالت زار قابل رحم ہے۔ اگرچہ دنیا کے ہر امیر ملک میں بھی غریب لوگ موجود ہیں لیکن پاکستان میں جو غربت ہے وہ بہت بری حالت میں ہے۔
گلگت بلتستان کی مثال لی جائے یہاں کی آبادی گیارہ لاکھ سے زیادہ ہے اور رقبہ اٹھائیس ہزارمربع کلومیٹر ہے۔یہاں بھی قدرت نے معدنیات کے خزانے دئیے ہے لیکن وہ پہاڑوں میں چھپے ہیں۔ وسائل تلاش کرنے والا کوئی نہیں صرف پاکستان کے سامنے کشکول اٹھائے بیٹھے ہیں۔ وفاقی حکومت کچھ دے تو ٹھیک نہیں تو فاقے۔پاکستانی صدر اور وزیراعظم کچھ عنایت کریں تو غنیمت‘ نہیں تو خشک سبزی اور مکئی کی روٹی پر گزارہ اور زندگی کی بقا کی جنگ۔ہمیں آزادی بھی قطر سے بہت پہلے ملی ہے لیکن اندونی اختلافات اور مسائل کی وجہ سے ہمارے ملک میں سب وسائل صرف فوج کے لئے مخصوص ہے۔ بجٹ کا ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم کے لئے مخصوص ہے جبکہ دفاع پر ستر فیصد سے زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں صرف ہم ہی اپنی دفاع کرتے ہیں باقی کوئی ملک نہیں۔دفاع کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں اور نہ ہی فوج کی اہمیت سے لیکن تعلیم‘ صحت اور معیشت بھی کوئی چیز ہے جس پر توجہ دی جائے۔ ہمارے حکمرانوں کا ذاتی گھر بھی وزیر بننے کے بعد بنتا ہے۔ ذاتی گاڑی سے لیکر بچوں کی فیس تک عوام کے خزانے سے لیا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران کھرب پتی بھی ہیں تو سفر سرکاری خرچ پر کرینگے۔ دسویں پشت تک مال بچاکے رکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے والدین ہی ہمارے مقدر کے مالک ہیں۔ بچوں کو ہنر دینے کے بجائے پیسے ورثے میں دئیے جاتے ہیں۔
محمد جان

بعض ایسے سیاست دان ہیں جن کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں لیکن اُن کے بچے ہزار کا نوٹ بھی نہیں پہچان سکتے ہیں ناخواندگی کا یہ عالم اُن کو زمانے کا قارون بناکے رکھ دیتا ہے اور دوسروں کی مدد کی بجائے دوسروں کے سہارے ہی جیتے ہیں۔ہمارے ملک کے بارگر‘ مکڈونل اور فاسٹ فوڈ کھانےوالے عادتاَ زمانے کا فرعوں بنے ہیں۔ ملک میں غربت اور جہالت کا دور دورہ ہے لیکن حکمران اتنے عیاش کہ یوں لگتا ہے کہ ہم قطر سمیت دینا کے سب امیر ملکوں سے بھی زیادہ امیر ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا پروٹکول دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔

 گلگت بلتستان کے وزیر اور وزراعلیٰ جب سرکاری دوروں پر نکلتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری فی کس آمدنی پانچ لاگھ ڈالر سالانہ ہے جبکہ حقائق یہ ہے کہ فی کس آمدنی بارہ سو روپیہ سالانہ بھی نہیں ہے۔ گاﺅں اور دور درراز علاقوں کے لوگوں کی حالت زار یہ ہے کہ ایک بچے کی سکول کی ماہانہ فیس مبلغ پانچ روپے بھی انڈے یا مرغی‘ غلہ یا لکڑی بیج کر ادا کیا جاتا ہے۔ سال میں ایک مرتبہ بھی سکول کی وردی اپنے بچوں کو نہیں بنا سکتے ہیں۔کتابیں ہمسائے یا رشتہ دار دے تو غنیمت نہ دے تو والدین مال مویشی بیج کر لیتے ہیں۔ گھی‘ انڈا‘ خشک میوہ جات‘ اور مال مویشی بیج کر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ نعمتیں بھی چند محنتی لوگوں کے پاس ہوتے ہیں بصورت دیگر ہر کسی کے پاس یہ بھی نہیں۔ سکول کے بچے زیادہ تر پلاسٹک کے چائنا جوتے پہنتے ہیں اور اُن پر بھی پچاس قسم کے جوڑ لگے ہوتے ہے۔سونے کے بسترے اور کھانے پینے کے برتنوں کی حالت بھی صرف سروے کرنے والوں کے علم میں ہے۔ کئی گاﺅں میں اب بھی لوگ روشنی کے لئے چیڑ کا لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کو مقامی زبان میں لائی(چراغ) کہتے ہیں۔ بجلی تو دور کی بات ہے لالٹین بھی دستیاب نہیں۔
گوپس‘ غذر میں گم سنگھ اور درمدر اس داستان کی مثال ہے۔ گزشتہ جولائی کو پلان پاکستان کے تعاون سے نیشنل انسٹیٹوٹ فار پاپولیشن ویلفئیراسلام آبادنے سیلاب زدہ علاقوں میں بنیادی سہولیات یعنی پانی‘ صحت وصفائی کے بارے میں ایک سروے کرایا تھا۔ جس میں گلگت بلتستان کے پچانوے گاﺅں‘ تیرہ سو تیس گھرانوں کا سروے کیا گیا۔ اس سروے کے مطابق تعلیمی شرح چالیس فیصد‘ واش روم صرف پچپن فیصد‘ صاف پانی پنتالیس فیصد لوگوں کو نصیب ہے۔ کچھ گاﺅں میں پانی‘ صحت اور مکانات کی حالت زمانہ غار سے کچھ بہتر نہیں۔خواتین کی تعلیم اور صحت کے بارے میں اعدادوشمار بتانے کے نہیں چھپانے کے برابر ہے۔ یعنی ہر گھر میں ساٹھ فیصد خواتین ناخواندہ ہے۔ خیر یہ تمام صورتحال ہمارے حکمرانوں کے علم میں ہے کیونکہ وہ بھی اُن علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اب وہ اُن علاقوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے آبائی گاﺅں میں شاید گھر بھی ہو اگر ہے تو وہ بھی ممبر بننے کے بعد کا ہوگا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے لیڈوں کے گھر گاﺅں میں سب سے نمایاں لگتے ہیں کیونکہ باقی گھر اور کمپونڈ مٹی کے ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر ہماری معیشت کا پتہ چلتا ہے۔ گلگت بلتستان کے مکانات بھی نمایاں ہیں جس گاﺅں میں کوئی نیا گھر بن رہا ہے یا بہت وی آئی پی بنا ہے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ گھر کسی سرکاری اہلکار یا سیاسی نمائندے کا ہوگا۔ عام آدمی کا کبھی نہیں۔
اس پورے صورتحال کے باوجود ہمارے ملک کے دور دراز علاقوں کے لوگ جب شہر میں ہوتے ہیں ہیں تو فاسٹ فوڑ‘ برگر‘ اور مکڈونلڈ  کی باتیں کرتے ہیں۔ اپنی حالت کے صحیح حقائق چھپاکر جینے کا یہ انداز صرف ہماری قوم نے سیکھی ہے۔ باتیں اور عادتیں ترقی یافتہ لوگوں کے ہیں لیکن تعلق ایک غریب ملک کے دور دراز کے پسماندہ علاقے سے ہے۔ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ دوسرے ملکوں سے سبق سیکھ کر اپنے ملک و قوم کے بارے میں بھی سوچا جائے۔ حکمرانوں کے چارٹر طیاروں میں غیر ملکی دوروں اور اندون ملک بڑے بڑے پروٹکول سے قوم کی حقیقی زندگی پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ آپ کا اپنے گاﺅں اور گاﺅں کے لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کبھی اپنے لوگوں کو قریب سے دیکھا ہے؟حقیقت چھپ نہیں سکتی ہے بناوٹ کے اصولوں سے !
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: