Sat. Oct 24th, 2020

چاچا گل کی چور کو نصیحت

کہاجاتاہے کہ ایک بزرگ آدمی عرصے کے بعد اپنی کاروبار کے سلسلے میں شہر کی طرف جارہے تھے۔ اس زمانے میں سواری کےلئے گھوڑے ہیں میسر تھے۔ سڑک اور پکے روڈ کا تصور نہ تھا۔ شہر کی گہماگہمی کے بارے میں دیہات کے لوگ سنتے رہتے تھے۔ ہر ایک کے دل میں شہرجانے کی تمنا ہوتی تھی۔ گردش لیل ونہار کے بعد دیہات میں بھی کاروبار کے سلسلے شروع ہوئے لوگوں نے بازاری چیزوں کی لین دین شروع کی لیکن اتنی ترقی کے باوجود سامان پہنچانا کافی مشکل کام تھا۔
چچا گل نے عرصے کی کمائی کے بعد شہرجانے کا فیصلہ کیا تاکہ سامان تجارت لاسکے۔ پورے چھے مہینے کے بعد شہرکی طرف نکل رہے تھے اس لئے کافی پیسہ جمع ہوچکا تھا۔ ان دنوں گاﺅں میں کام کاج کاموسم تھا اس لئے چچا گل نے اکیلے ہی جانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ شہر کی امن وامان کا چرچا تھا یہاں تک کہ سامان زیست رات بھر گھر سے باہر ہوتی تھی لیکن کوئی نامحرم اٹھاتا نہیں تھا۔ گاﺅں کے رشتے ناطے اور سادگی کا یہ عالم کہ خواتین بھی اکیلی اکیلی دور دورتک جاتی تھی۔ مال مویشیوں ‘ پانی اور لکڑی لانے کےلئے کسی بھی وقت کوئی شخص اکیلے قریبی جنگل سے بھی گزرسکتے تھے۔ خوف وحراس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
چچا گل اپنے پیسوں سے جیبیں بھرکر گھوڑے پر سوار ہوئے اور شہر کی طرف نکلے۔ اپنی دنیا میں گم بچپن کی یادیں‘ شباب کی مستی‘ عشق ومحبت کی ہلکی مگر پُر لطف داستان‘ گاﺅں میں کاروبار کی صورتحال ‘ دکان کی وسعت‘ بال بچوں کے مستقبل کی فکر اور نہ جانے کتنے سہانے خواب لیکر گھرسے دور افق میں گم ہوگئے۔ چلتے چلتے راستے میں ایک نوجوان ملے جس نے چچا گل سے اپنی مجبوری بتاکر سواری کی درخواست کی۔ وہ بڑے مہربا ن اور رحم دل انسان تھے۔ اُسے منع نہیں کر سکے۔ اگرچہ گھوڑے کی پیار اور دوستی بھی اہم تھی تاہم آپ نے انسانیت کی لاج رکھی۔ نوجوان کو اپنے ساتھ بٹھایا اور منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں چچا گل اپنے خیالات کی دنیا کے ساتھ مہما ن مسافر کا بھی خیال رکھا اور اپنی پوری کہانی اس کوسنادی۔ چچاگل نے اپنی سادگی میں اپنے پاس موجود مال و جائیداد کا بھی نوجوان کو بتایا۔
ادھر نوجوان کے دل میں لالچ نے جنم لیا اور اور چچا گل سے رقم چھننے کی ترکیب سوجننا شروع کیا۔ چچا نے راستے میں دو تین دفعہ اُس نوجوان کو کھانا بھی کھلایااور سفر کرتے رہے۔ شہر کے قریب ہوٹل میں کھانا کھا نے کے بعد ایک بیابان اور پہاڑی راستہ شروع ہوگئی۔ نوجوان کے دل میں شیطان نے مزید وسوسہ ڈال دیااور وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی طرف مائل ہوئے۔ اچانک چچا گل کو گھوڑا روکنے کا کہا اور گھوڑے سے اتر کر چچا گل کی خوب پٹائی کی اور رقم کے ساتھ گھوڑے کو لیکر فرار ہونے لگے۔ چچا اپنے کئے پر بہت پچتائے اور چلاچلا کر بولے ،” اے نوجوان آپ نے میرے ساتھ جو سلوک کیا اللہ کےلئے کسی اور کو نہ بتانا“۔ وہ بزرگ باربار یہ کہنے لگے۔ وہ نوجوان سوچنے لگا کہ یہ آدمی ایسا کیوں کہتاہے ۔ وہ واپس آیا اور پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ چچا گل آنکھوں میں آنسو لئے بولے،” اے نوجوان بے شک آپ یہ مال اور گھوڑا لیکر جائیں میرا اللہ مالک ہے اوروہ عطا فرمائے گا لیکن اس واقعے کو کسی اور کو اس لئے نہ بتائے کیوں کہ اِس کے بعد شہر کے لوگ نیکی کرنا چھوڑ دیں گے!“۔
قارئین کرام! یہ ایک کہانی ہے آپ اپنے ادرگر کی دنیا کے بارے میں سوچئے۔ کیا آپ اپنی گاڑی میں کسی اجنبی کو بیٹھا سکتے ہیں؟ کیا آپ کسی اجنبی کو اپنے بارے میں اطمینان سے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ فقیر کو بغیر نام ونسب پوچھے کچھ دیتے ہیں؟ آج کل ہمارے معاشرے کی کہانی ہی کچھ اور ہے۔ راستے میں مریض ہو یا معذور‘ ضرورت مند ہو یا محتاج ہم کسی کی کوئی خدمت نہیں کرسکتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ جن لوگوں نے یہ نیکی کی اُن کا انجام صحیح نہ ہوا۔ ایک دوسرے سے اس قسم کے کہانیاں سنتے سنتے آج کل مستحقین بھی اپنے حق سے گئے۔ آج کے معاشرے میں مصنوعی بیکاریوں اور فقیروں کی کثرت کی وجہ سے مستحق لوگ بھی اپنی حق سے محروم ہوگئے ہیں۔ رات کا وقت ہو یا دن کا ہم کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتے ہیں۔ سب آستین کے ثانپ ثابت ہورہے ہیں۔ جس کسی کو آپ نے نیکی کی وہی آپ کی جان کے درپے نکلتا ہے۔ جس دوست کو آپ نے اپنا سمجھا ایک عرصے کے بعد وہی آپ کا سب سے بڑا دشمن نکلا۔ کیوں ؟ یہ اس لئے ہم اپنی سادگی میں ہر کسی کو اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ مذہب اور مجبوریوں کو بتا بتاکر اپنا کام نکال دیتے ہیں۔ یہ منافقت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب گاﺅں میں ایک اور کہانی چل رہی ہے۔ لوگ مختلف رشتے داروں کے ریفرنس سے وہ کچھ کرجاتے ہیں جس کا دکھ کے ساتھ ازالہ بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے اب بھروسہ اور اعتماد کی دنیا میں وسعتیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ آپ کسی دکاندار سے کچھ اُدھار لینے کی بات کرو سیکنڈ میں پچاس واقعات آپ کو بتائے گا کہ فلاں فلاں آدمی نے ایسا کہہ کے رقم ‘مال لے لیا اور نو دو گیارہ ہوگئے آج تک ان کا پتہ بھی نہیں۔ کچھ دکاندار آپ کو فوراََ آپ کے گاﺅں دس لوگوں کے نام دیں گے کہ فلاں فلاں نے میرے ساتھ فراٹ کیا اس لئے معذرت! دیانداری‘ ایمانداری‘ اخلاص‘ اعتماد‘ حلیمی‘ رحمدلی‘ نیکی‘ ثواب‘ مدد‘ خدمت‘ بھائی چارہ‘ دکھ درد میں شرکت اور برداشت وغیرہ اب اخلاقیات کی کتابوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات اور روّیے معاشرے سے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کی زوال کی طرف جارہے ہیں جس کی مثال بھی اس سے پہلے شاید نہیں ملے گی۔
آج کے معاشرتی خوف وحراس میں لوگ کیا نیکی کریں؟ ایک نیکی کےلئے سو دفعہ سوچنا پڑھتا ہے۔ آپ آفس‘ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی یا ہسپتال کی جانب جارہے ہو آپ لف لینے کی کوشش میں رہو گے تو دن بھر روڈ پہ رہ جاﺅگے۔ کہی سفر کرنا ہے تواپنی مقامی گاڑی میں جاﺅ یا ٹیکسی بصورت دیگر رہ جاﺅگے۔ بحرحال خوف و دہشت کے ماحول میں اخلاقی اقدار کمزور پڑتے جارہے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی چاہئے۔ مذہب کو اپنے دل میں پورا جگہ دینی چاہئے نہ کہ بازار کی زینت۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہرچیز کا اپنا مقام ہونا چاہئے مذہب کا اپنا مقام ہے۔ اس طرح تاریخ‘ ثقافت‘ عقائد‘ زبان‘ لباس اور اقدار کا بھی اپنا ایک مقام ہے اُن میں سے کسی کو بھی کسی کیلئے قربان نہیں کیاجاسکتا ہے۔
محسوس کرہاہوں میں جینے کی تلخیاں
شایدمجھے کسی سے محبت نہیں رہی
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: