Fri. Oct 23rd, 2020

فرقہ واریت کے اسباب اور حل – امجد ایڈوکیٹ

تحریر: امجد ایڈووکیٹ (ممبر گلگت بلتستان کونسل)
راقم نے گزشتہ شمارے میں فرقہ واریت سے متعلق کچھ اسباب کاذکر کیاتھا جس کو جاری رکھتے ہوئے مزید اسباب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ذیل میں عرض ہیں۔
جغرافیائی اہمیت: گلگت بلتستان جغرافیائی حوالے سے نہایت اہم خطہ تصور ہوتا ہے جس کی حدود بھارت‘ افغانستان‘ تاجکستان اور عوامی جمہوریہ چین سے ملتی ہیں ‘ نیز گلگت بلتستان کا شمار دنیا کے بلند ترین علاقوں میں ہوتاہے۔ جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے گلگت بلتستان جیسا خطہ عالمی طاقتوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے حامل ہونے کی وجہ سے بیرونی ہاتھ فرقہ وارانہ کشیدگی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔
وسائل کی بہتات: گلگت بلتستان جغرافیائی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالامال خطہ تصور ہوتا ہے۔ پوری دنیا کو توانائی کے بحران کاسامنا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں توانائی کی پیداواری صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔ معدنیات ٹورازم اور جنگلات کی بہتات ہے۔ گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں انسان کی زندگی سہل اور آسان بنانے والے وسائل موجود ہیں۔ اس خطے میں بسنے والے وسائل کے خزانوں کے اوپر آباد ہیں لیکن وسائل کے ناجائز حصول کی خاطر بے پناہ اہمیت کے حامل خطے میںچند عاقبت نااندیش عناصر امن وسکون کو تہہ وبالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ذاتی مفادات: وسائل کا ناجائز حصول اور ذاتی مفادات کے تحفظ کا آسان ترین ذریعہ مسلکی چھتری قرار پائی ہے۔ وسائل کے حصول کا آسان ترین ذریعہ تلاش کرنا فطرت انسانی ہے۔ اسی طرح ناجائز مفادات کے تحفظ کا آسان ترین ذریعہ تلاش کرنا بھی فطرت انسانی ہے۔ گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں وسائل کے ناجائز حصول کا آسان ذریعہ اور ناجائز ذاتی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ فرقہ واریت بنایاگیا۔ میرٹ‘ اہلیت کی بنیاد پر وسائل کے حصول کا concept ناپید ہوچکا ہے ۔ ملازمت‘ ٹھیکہ‘ ناجائز سرکاری وسائل کے حصول کیلئے مسلکی کارڈ کا استعمال شرعی فریضہ قرار پایا ہے‘ نیز ہر شخص اپنے انفرادی و ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے مسلکی کارڈ کے استعمال کو اپنا جائز شرعی اسلامی و قانونی حق تصور کرتاہے۔
پروپیگنڈہ: علاقے میں مسلکی جذبات ابھارنے اور فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے کیلئے باضابطہ طورپر پروپیگنڈہ مہم جاری وساری ہے۔ ایسے نیٹ ورکس قائم کئے گئے ہیں جومسلکی جذبات پر مبنی پروپیگنڈوں کے ذریعے نفرتیں اور مایوسیاں پھیلانا شرعی فریضہ تصور کرتے ہیں۔ سرکاری اداروں کو ریاست کی ملکیت تصور کرنے کی بجائے مسلکی ملکیت قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک طبقہ ریاست کے ایک ادارے کو مسترد کرتا ہے تو دوسرا طبقہ ریاست کے دوسرے ادارے کو اپنے مسلک کے خلاف قرار دیتا ہے۔ عدالتوں کے ججوں کو قاضی تصور کرنے کے بجائے مسلک کا نمائندہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین‘ ریاست کی ملکیت تصور کرنے کی بجائے مسلکی نمائندے قرار دئےے جاتے ہیں۔ اس طرح ریاست کے تمام اداروں سے مسلک کی نمائندگی کا مطالبہ ہو تاہے۔
خاموش اکثریت: گلگت بلتتستان میں بسنے والے 20لاکھ عوام عرصہ 20سال سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ آئے روز دہشتگردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ہمیشہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ ایسے افراد کو بنایاجاتا ہے جو امن پسند شہری ہوتے ہیں‘ جو حکومت پر بھروسہ کرکے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے خطے میں آباد تمام آبادی متاثر ہوتی ہے لیکن اکثریت ہمیشہ خاموش تماشائی بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکثریتی آبادی کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر فرقہ پرست عناصر اپنے تنظیمی نظم ونسق کے ذریعے فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے میں کامیاب رہتے ہیں جس کی وجہ سے کشیدگی برقرار رہتی ہے۔
بے روزگاری: گلگت بلتستان میں بے روزگار کے ذرائع انتہائی محدود ہوچکے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی عدم دستیابی کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے علاوہ روزگار کا کوئی دیگر ذریعہ موجود نہیں ہے۔ اس طرح بے روزگار طبقے کو چند شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر ناجائز طورپر استعمال کرتے ہیں۔
طاقت کااستعمال تحفظ کی ضمانت: جیسا کہ بھارت اور پاکستان عرصہ 52سال سے طاقت کے حصول اور استعمال کو ملکی تحفظ کا ضامن قرار دے کر وسائل کو ملکی دفاع پر خرچ کرتے رہے ہیں اس طرح گلگت بلتستان کے

امجد حسین ایڈوکیٹ - ممبر گلگت بلتستان کونسل

خطے میں عوام کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خطے میں زندگی گزارنے کا واحد راستہ طاقت کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ گلگت میں طاقت کا استعمال ہم مسلک افراد کے تحفظ کا ضامن قرار دیاگیاہے۔ انڈیا پاکستان متعدد جنگیں لڑنے کے بعد مذاکرات شروع کرچکے ہیں لیکن گلگت بلتستان میں قیام امن کی خاطر مذاکرات کو شجرہ ممنوعہ قرار دے کر علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو برقرار رکھاگیاہے۔

اعتماد کا فقدان: عرصہ دراز سے جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے علاقے میں بسنے والے افراد کے درمیان دوریاں پیدا ہوچکی ہیں۔ نوگو ایریاز وجود میں آچکے ہیں۔ گلگت کا معاشرہ فرقہ وارانہ تقسیم کے عمل سے گزرا ہے نیز سرکاری اداروں کے خلاف آئے روز نت نئے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں سرکاری اداروں پر عدم اعتماد کی فضاءقائم کی گئی ہے۔ حکومت‘ انتظامیہ‘ سیکورٹی فورسز‘ عدلیہ‘ پولیس الغرض تمام اداروں کو متنازعہ بناکر پیش کیاگیا ہے تاکہ فرقہ پرستی میں ہی اپنی بقاءتصور کریں۔
قانون کی عمل داری: گلگت بلتستان دنیا میں واحد بدقسمت خطہ ہے جہاں پر قانون کی عملداری نظر نہیں آتی ہے۔ کوئی بھی شخص جس طرح چاہے قانون کی خلاف ورزی کرے‘ مسلکی چھتری کا سہارا لے کر قانون کی گرفت سے باآسانی بچ سکتاہے۔ اس بدقسمت خطے میں مسلکی چھتری کے سہارے قانون کی خلاف ورزی کو مسلک کےلئے قربانی قرار دے کر متعلقہ فرد کو تمام رعایتیں اور آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے معاشرے میں قانونی ذرائع سے انصاف کے حصول کا رواج غیر مقبول تصور ہوتا ہے۔ شہریوں کو کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لینے کی تبلیغ و تربیت دی جاتی ہے۔ قانون کی عملداری صرف مخالف طبقے پر واجب قرار دی جاتی ہے اور ہم مسلک افراد کے جذبات کو ابھار کر قانون کی عملداری کے خلاف اکسایا جاتا ہے۔
الغرض بہت سارے دیگر اسباب بھی ہیں جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے معاشرے میں فرقہ واریت کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں‘ نتیجتاً عوام کی اکثریت فرقہ وارانہ کشیدگی کے مصائب کو برداشت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مستقل قیام امن کیلئے راقم کی دانست کے مطابق درج ذیل اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہوچکاہے۔
امن پالیسی: سال 2009ءمیں داخلی خود مختاری پر مبنی گلگت بلتستان کے عوامی منتخب نمائندوں کی حکومت قائم ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان کے عوام نے دو تہائی اکثریت فراہم کی۔ اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ ق‘ جمعیت علماءاسلام کے ساتھ اتحادی حکومت قائم لیکن انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ گلگت بلتستان کی حکومت دو سال کا عرصہ گزارنے کے باوجود بھی مستقل بنیادوں پر قیام امن کے حوالے سے باضابطہ پالیسی کا اعلان کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ قیام امن کے حوالے سے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے واضح پالیسی کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے ہر ادارہ اڈہاک ازم کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے امن فارمولے اتنے زیادہ بیان کئے جاتے ہیں کہ قیام امن کیلئے متفقہ پالیسی کا اجراءناممکن نظرآتا ہے۔ گلگت بلتستان کی سطح پر تمام سٹیک ہولڈرز کو قیام امن کیلئے خالص امن پالیسی پر متفق ہونا لازمی ہے۔ جب تک حکومت صوبائی سطح پر قیام امن کے حوالے سے باضابطہ پالیسی کا اعلان نہیں کرتی جس میں علماءکرام سیاست و سرکاری اداروں‘ سیاسی جماعتیں‘ دینی جماعتیں‘ مذہبی تنظیموں کا رول متعین نہ کیاجائے‘ قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ الغرض قیام امن کیلئے امن پالیسی کا اعلان اور اس پر عملدرآمد سے ہی قیام امن مستقل بنیادوں پر ممکن ہے۔
رٹ آف گورنمنٹ: قیام امن کیلئے حکومت کی رٹ کی بحالی اور قانون کی عملداری وقت کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں قانون کی عملداری کا موجودہ نقشہ کچھ ایسا ہے۔
“Law is spider’s web from where big flies get through and small one, get caught!”
مطلب یہ کہ قانون کی عملداری گلگت بلتستان میں صرف غریب کیلئے مختص نظرآتی ہے۔ گلگت بلتستان کے معاشرے میں قانون کی عملداری طاقتور کے خلاف نظر نہیں آتی ہے۔ خطے بھر میں رٹ آف گورنمنٹ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہر فرد کو اس کے حدود کے اندر محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔
علماءکرام کا سیاسی کردار: گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں پر علماءکرام اپنے سیاسی کردار کی ادائیگی لازمی تصور کرتے ہیں۔ سیاسی جماعت کے طور پرکام کرنے کا اختیار ہر طبقے کو حاصل ہے لیکن علماءکرام سیاسی جماعتوں کے ذریعے سیاسی نظام میں سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے غیر سیاسی انداز میں سیاسی امور انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر علاقے میں موجود علماءکرام سیاسی امور میں دلچسپی رکھنا چاہتے ہیں تو پورے خطے کے مشترکہ مفادات‘ معاملات اور مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ صرف مسلکی بنیادوں پر سیاسی امور کی انجام دہی کا لازمی انجام فرقہ واریت اورنفرتیں ہوتی ہیں۔ موجودہ وقت تک گلگت بلتستان میں علماءکرام نے دیدہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر علاقائی مشترکہ مفادات کو مسلک کے نام پر تقسیم درتقسیم کرنے میں آلہ کار بنتے رہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے میں علماءکا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جوکہ ان علماءکرام کا عین شرعی فریضہ ہے۔
سیاست دانوں کا کردار: گلگت بلتستان کے تمام سیاست دانوں کو قیام امن کیلئے اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ہر سیاسی فرد کا فرض بنتا ہے کہ سیاست محور انسانیت رکھے‘ مسلک کے نام پر سیاست کا خاتمہ قیام امن کیلئے ضروری ہے۔ اس لئے تمام سیاسی قائدین کو یہ طے کرناہوگا کہ خطے میں سیاست صرف سیاسی بنیادوں پر کریں۔
زیر نظر مضمون روزنامہ کے ٹو میں سلسلہ وار چھپنے والے مضامین کا دوسرا حصہ ہے. 
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: