Wed. Dec 2nd, 2020

ارباب تعلیم و صحت سے

مجھے اکثر اپنی تحریرں پر فیڈ بیک موصول ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ای میل نے مجھے بے حد مغموم کردیا۔ میرے ایک نوجوان فاضل دوست جو ہائی کوالیفائیڈ ہیں اور علم دوست ہیں اور ادب شناس ہیں۔ انہوں نے موجودہ نظام تعلیم پر بہترین قسم کی تنقید کی ہے اور اس کی ناکامیوں پر ایسی مضبوط گرفت کی ہے کہ دل ان کو دعائیں دیے بغیر نہیں رہ سکا۔اس میں دو رائے نہیں کہ تعلیم ہی کے ذریعے کسی بھی قوم نے ترقی کے منازل طے کیے ہیں۔ تعلیم گاہیں ایسی فیکٹریاں ہیں جہاں سے معاشرے کے دوسرے تمام کارخانوں، فیکٹریوں صنعتوںکو خام مال مہیا کیا جاتا ہے۔
ا س میں کوئی شک نہیں کہ مغربی دنیا تعلیم کو ہی بنیاد بنا کر بام عروج پر پہنچا ہے۔ ایک معتمد سروے کے مطابق اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈی اسکالرز ترکی میں ہیں۔ترکی پر ایک الزام ہے کہ وہ مغرب پسند ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔ ترکی میں ایک نظام تعلیم ہے اور ایک ہی نصاب تعلیم ہے اور اپنی قومی و مادری زبان میں تعلیم دی جاتی ہیں۔ترکی کا ایک سکول ٹیچر امامت اور خطابت کے فرائض بھی انجام دے رہا ہوتا ہے جبکہ ہمارے پروفیسروں تک کو نماز کا سبق درست تلفظ میں نہیں آتا۔ ہمارے ہاں تقسیم در تقسیم کے عمل نے ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دیا ہے۔انگریزی کوماویٰ و ملجا سمجھنے والے قومی ومادری زبان سے اتنے دور ہوئے ہیں کہ اب وہ پیشاب بھی ” انگریزی “ میں ہی کرتے ہیں۔
ایک تعلیمی ورکشاپ میں مجھ سے پوچھا گیا کہ معاشرے کا سب سے مظلوم طبقہ کون ہے؟ میں نے بے دھڑک کہہ دیا کہ استاد،چاہیے دینی مدارس کا ہو یا سکول و کالجز کا۔ سامعین ورطہ حیرت میں رہ گئے۔ وضاحت طلب کی تو میری گزارشات یہ تھی کہ” دیکھیں بھائی مدارس میں طلبہ کو آگے بڑھنے کے بے حد مواقع ہوتے ہیں۔ ان کا قیام و طعام اور تعلیم وتدریس کا سارا بندوبست مدرسہ کرتا ہے۔ بڑے جامعات میں تو بھاری مَد میں وظیفہ بھی دیاجاتاہے۔کتابیں تک مدرسہ و جامعہ سے مل جاتیں ہیں، مگر مجموعی طور پر مدارس کے طلبہ ان مواقعوں سے فائدہ اُٹھانے سے رہ جاتے ہیں۔ وہ سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رہی بات مدارس کے مہتمم حضرات کی تو ان کی پانچویں انگلیاں گھی میں ہوتیں ہیں۔ اور بے چارے اساتذہ دس دس پریڈ پڑھانے اور انتظامی و تربیتی فرائض انجام دینے کے باوجود بھی چار یا پانچ ہزار کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔کاش کوئی دل رکھنے والا انسان ان کے بارے میں سوچتا۔ کالج اور اسکول کے اساتذہ کی حالت بھی کوئی مثالی نہیں ہے۔ان کو دفتروں میں جس طرح ذلیل و خوار کیا جاتاہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔
اسی ورکشاپ میں ایک اور سوال داغا گیا کہ جناب ! سب سے زیادہ آسان کس محکمے میں نوکری حاصل کرنا آسان ہے؟ تو بھی میں بے دھڑک جواب دیا کہ محکمہ ایجوکیشن میں۔ یعنی استاد بننے کی نوکری۔ میں پورے گلگت بلتستان کی بات نہیں کروں گا ، نہ کاچو فیاض کا حوالہ دونگا اور نہ ہی وہ حوالے جو محکمہ ہذا میں بھاو¿ تاو¿ کی شکل میں ہوتا ہے۔ میں صرف اپنے چھوٹے سے گاو¿ں کی بات کرونگا جہاں ایم اے ،ایم ایڈ اور ایم اے بی ایڈ اور ایل ایل بی اور ایم اے اکنامکس جیسے ہائی کوالیفائیڈ لوگ پولیس میں بھرتی ہوئے ہیں اور میڑک پاس لو گ دس دس سال کینٹین اور جنرل اسٹور چلانے کے بعد استاد لگے ہیں۔ اور ایسی ایسی لیڈی ٹیچر ہیں جو گلگت اور چلاس میں بیٹھ کر بھاری تنخواہ کھارہی ہیں۔ ان کی تقرری گاو¿ں میں اس شرط کے ساتھ ہوئی ہے کہ وہ تین سال تک وہاں پڑھاتیں رہیںگیں۔ انہوں نے بھاری رقم دے کر اس شرط کو قبول کرتے ہوئے نوکری تو لے لیں مگر صر ف ایک مہینہ ڈیوٹی دینے کے بعد ایفائے عہد سے مکر گئیں۔ اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ کاش ان کی جگہ وہاں کی مقیم استانیوں کونوکری دی جاتیں جو گزشتہ کئی سال سے نوکری کی امید میں مفت پڑھاتیں رہیں۔ بالآخر و ہ بھی دلبرداشتہ ہوکر اپنی راہ لیں اور ہوا نونہال بچیوں کو مستقبل برباد۔
آخر میں ایک اور سوال ہو ا کہ سب سے معزز پیشہ کونسا ہے تو بھی میر ا جواب تھا استادی۔ کیونکہ آقا نامدار سرورکائنات نے فرمایا ہے کہ ” انمابعثت معلماََ“ یعنی میں معلم( استاد ) بناکر بھیجا گیا ہوں۔کاش آج کے استاد اپنی اس حیثیت کو سمجھتا اور معلمی کے فرائض بخوبی انجام دیتا۔ جس طر ح محکمہ ایجوکیشن کے اعلی احباب استاد کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں اس سے کئی گناہ بڑھ کر ایک استاد اپنی روحانی اولاد کے ساتھ کررہا ہے۔وہ صرف چند لوگوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اوریہ پوری قوم کا ستیاناس کرتاہے۔
میں اتنی گزارش کرنے کی جسارت کرونگا کہ محکمہ تعلیم اور صحت کو ”موتی بازار“ بننے سے بچایا جائے۔ اگرمیرٹ کی پامالی کرتے ہوئے رشوت اور سفارش کی بنیاد پر اساتذہ بھرتی ہوتے رہے اور ملاوٹ شدہ دوائیاں کھلے عام بکتی رہی اور ڈاکٹر ہسپتالوں کے بجائے کلینکوں میں غریبوں کو لوٹتے رہے تو معاشرے کی رہی سہی حالت بھی ختم ہوجائیگی اور ہمارے خرمن میں وہ دانہ بھی نہیں رہےگا جس کی وجہ سے ہم سانس لے رہے ہیں۔اگر اس بیمار معاشرے سے روحانی و جسمانی غذا جو تھوڑی مقدار میں رہا ہے چھین لیا گیا تو اس کا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ کاش میری یہ نحیف سی آوازاونچی گاڑیوں میں سفر کرنے اور اعلی شان کوٹھیوں میں رہائش پذیر وزیر تعلیم ، وزیر صحت اور محکمے کے دوسرے صاحبان بست و کشاد تک پہنچتی اور وہ کشادہ دلی سے غور کرتے۔
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے شام غم مگر شام ہی تو ہے
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: