Fri. May 14th, 2021

عالمی یوم ماحولیات اور ہماری ذمہ داریاں

احمد نیر باری 
شعبہ علوم البلاغیات، پنجاب یونیورسٹی 

ماحولیات کا عالمی دن ہر سال 5جون کو دنیا بھر کے 100سے زائد ممالک جن میں  پاکستان بھی شامل ہے بڑے جوش و جذ بے سے منایا جا تا ہے۔ جس کا مقصد موسمی ا ثرات اور اس سے پیدا  ہونے والی تبدیلیوں سے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے۔اسی دن کو ہی سال1972 میں اقوام متحدہ کا بین القوامی کانفرنس برائے انسانی ماحولیات قیام پذیر ہوا. ۔اگلے سال 1973 میں پہلی بار اس دن کو بطور ماحولیات کا عالمی دن منایا گیا ۔جس کے تحت آج تک اس دن کو دنیا کے بیشتر  ممالک میں مختلف قسم کے تقریبات، ،واک اور سیمینارز کے ذریعے لوگوں کے درمیان  آگاہی  پیدا کرنے کے لیے مذکورہ شعبے جن  حکومتی اور غیر  سرکاری ادارے سرگرم عمل نظر آتے ہیں ۔ رواں سال 2012کے لیے اقوام متحدہ نے ایک موضوع یعنی Green Economy: Does it include you (سبز معیشت: کیا آپ اس میں شامل ہیں) جاری ہے جس کا بنیادی  مقصد لوگوں کو اپنے ماحول سے واقف رکھنا اور علم دینا ہے۔

پاکستان کے شمالی علا قہ جات خصوصا گلگت بلتستان اپنے صاف ستھرے ماحول اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ ےہاں کی آب ہوا اور جغرافیائی اہمیت دنیا کے بیشتر ممالک کی نسبت کئی حوالوں سے ماحولیاتی تغیرات اور تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے۔ 2010 میں پیش آنے والا سانحہ عطاآباد کا ناگہانی واقعہ بھی اسی موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ دو  قامت  پہاڑوں پر موجود گلیشرز کا پگھلاﺅ موسمی تبدیلیوں  کا باعث بنتے ہیں جو کہ سیلابی ریلوں اور زمین کا کٹاﺅ جیسے اہم محرکات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ علاقے میں موجود قدرتی جنگلات جو کسی بھی ملک کےلئے معیشت کے اعتبار سے ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتے ہیں کا بے دریغکٹاﺅ اور غیر دانشمندانہ استعمال ماحول کی تباہی کا باعث بن رہا ھے. اس سے نہ صرف انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف انسانی آبادی میں اضافے کی رفتار اور سائنسی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کےلئے جنگلات کی بقا اور اس کی حفاظت ناگزیر ہو چکی ہے۔ موسمی تغیئرات کے نتیجے میں کسی بھی ممکنہ تباہی اور آفت سے بچنے کےلئے علاقائی اور بین القوامی غیر  سرکاری ادارے جن میں سرفہرست اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ماحولیات، فوکس ہیومینیٹرین اسسٹنس، ڈبلیو – ڈبلیو – ایف، ،قراقرم ایریا ڈیویلپمنٹ ارگنائزیشن   شامل ہیں ابتدائی طور پر علاقے کے مختلف اضلاع میں خصوصی تربیتی  پروگرامز کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت مقامی کمیونٹیز کے درمیان شعور و آگاہی پیدا کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں ۔اور یہ کہ اس ضمن میں شجر کاری مہم اور غیر قانونی طور پر جنگلات کے کٹائی کی روک تھام کے لیے سرکاری اداروں کے تعاون سے واچ اینڈ وارڈ (Watch and Ward)کے نظام پر عملی طور پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔دوسری طرف گلگت بلتستان میں ماحولیات  سے متعلق کام کرنے والی مقامی اداروں کو بھی متحرک کر کے اپنے اپنے علاقوں میں ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
تاہم علاقے کے گنجا ن آبادجگہوں میں ٹرانسپورٹ اور دوسری ضروریات زندگی سے پیدا ہونے والی آلودگی  پر قابو پانے کےلئے پہلے سے بنائے گئے قوانین پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایسے علاقوں میں آلودگی میں اضافہ انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا باعث بن رہا ہے ۔ علاوہ ازیں علاقے میں بڑھتے ہوے ٹریفک  اوراس کے دھویں  اور زہریلے  موا د سے قصبوں میں  لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں  اور زرعی اراضی بنجر پڑ رہی ہے۔ اور یہ  کہ تعمیرات  کے سلسلے میں  کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں  کی گئی ہے یہ بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن ررہا ہے۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی اہمیت  کو سامنے رکھتے ہوے حکومتی اور بین الاقوامی ادارے ماحول کی بقا کےلئے اپنا کردار ادا کرے.  بصورت دیگر آلودگی میں اضافے کی صورتحال گھمبیر  سے گھمبیر  تر ہوتی جا رہی ہے اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات  آفات اور تباہیوں کی شکل میں سامنے آئین گیں. اور اس کو روکنا انسانیت کی اوقات سے تجاوز کر جائے گا۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: