گوشہ اردو

میں اور جون

جون ایلیا

مصطفی کمال  

وہ ایک ایسی تصویر تھی جسے دیکھ کر حد درجہ کراہت کا احساس ہوتا تھا- منتشر بال ، پچکے ہوے گال، سرخی مائل ہونٹ    اور ایک ہڈی نما قبرستان جیسا جسم – اس تصویر نے مجھے کبھی بھی متاثر نہیں کیا- کتا ب کے فلیپ پیج پر اس تصویر کی وجہ سے میں شدید خواہش کے باوجود بھی اسکی کوئی کتاب کبھی نہیں خرید پایا-

میں نے اسکا کلام سنا ہوا تھا – کبھی کسی دوست کی زبانی اور کبھی کسی اخبار میں-  آہستہ آہستہ تصویر سے میری نفرت پہ کلام کی محبت غالب آئی اور پھر میں نے پھلی دفعہ اسکی کتاب خریدی یعنی میں پہلی دفعہ جناب جون ایلییا سے متعارف ہوا اور آج تک حضرت جون کی سحر سے آزاد نہیں ھو پایا-

جون بھائی کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانی پس منظر کو سمجھنا بہت ا ہم ہے- جون بھائی کے والد علامہ شفیق حسن اپنے دور کے واحد ہندوستانی تھے جو کہ عظیم ریاضی دان، فلسفی، اور

مصطفی کمال

ادیب سر برٹرینڈ رسل کے ساتھ فلسفے اور سیارچوں کے علوم پہ خط و کتابت کرتے تھے اور بقول جون وہ واحد شخص تھے جواپنی زندگی میں جنت اور جہنم کے نقشے بنا چکے تھے- آپ کے بھائی اپنے دور کے نامور نفسیات دان تھے- جون کو علمی ماحول ورثے میں ملی تھی جسکی وجہ سے اسے فارسی، عربی ، عبرانی اور انگریزی زبان پر مکمل دسترس حاصل ھو چکی تھی- عبرانی زبان جاننے والے گنے چنے لوگ تھے جن میں جون بھائی بھی شامل تھے-

جون بھائی معاشرے کے ان مستشنییات میں سے تھے جو کہ صدیوں بعد جنم لیتے ہیں-  اگرچہ لوگوں کے مطابق جون بھائی ایک ہا رے ہوے شخص تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک ہا رے ہو ۓ معاشرے کے کا میاب شخص تھے جو معاشرے کے خود ساختہ نظریات سے بہت اوپر اٹھ گۓ تھے-

جون بھائی تمام زندگی ایک مثالی دنیا کی تلاش میں رہے- وہ بہت بچپن سے ہی خلیل جبران کی طرح اپنے خیالی محبوبہ صوفیه کو خیالی خطوط  لکھتے رہے-

جون بھائی تمام عمر خود کو بچہ سمجھتے رہے- اسکی وجہ جون کا اپنے والد سے کیا ہوا وعدہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر اپنے والد کی لکھی ہوئی تحریروں کو کتابی شکل دیں گے- لیکن پھر نہ کتابیں چھپ سکیں نہ جون بھائی بڑا ہو سکا-

امروھے سے ہجرت کا دکھ وہ کبھی برداشت نہیں کر سکے – وہ تقسیم کے ستاۓ ہوۓ تھے- مہاجروں کے خلاف تعصب نے جون بھائی کو اور بھی برگشتہ کیا-

کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافران . ہندوستان میں أۓ ہیں ہندوستان کے تھے –

جون کے بڑے بھا ئی رئیس امروہوی کے قتل نے جون کے اندر بے بسی کی وہ کیفیت پیدا کر دی جس سے جون کبھی نہیں نکل سکے- اردو کے مشہور ادیبہ فہمیدہ ریا ض کے مطابق  جون بھائی اکثر حیران ہو کر کہتے: تعجب ہے، میں کون ہوں؟ میں کہاں ہوں؟ اور یہ کیا مقام ہے جہاں میں ہوں؟ ان کے روشن اور بے قرار ذہن سے تمام راستے، سڑکیں اور گلیاں، سب محو ہوئے ایک مدت ہو چکی تھی۔

جون بھائی ایک ا یسے انسان تھے جس نے بنا کسی خوف کے ببانگ دھل اپنا نظریہ پیش کیا – جون خود احتسابی کے جتنے زیادہ قائل تھے اس سے زیادہ وہ احتساب کے بھی قائل تھے – وہ سب کا احتساب چا ہتے تھے –

وہ خدا ہو کہ آدم و ابلیس – سب کے سب آزما ۓ جا ئیں گے –

 جون کے مشا عروں میں شعر پڑھنے کا اپنا الگ انداز تھا- وہ صرف شعر نہیں سنا تے بلکہ ہر شا عر کو آواز دے کر پکارتے تھے – شاید اپنے ہونے کا احساس دلانے یا پھر شاید توجہ حاصل کرنےکی خاطر-

جون بھائی ایک انارکسٹ تھے – اس نے ہمیشہ سماج کے خود ساختہ مسیحاؤں اور مذھب کے رکھوالوں کی ڈنکے کی چوٹ پہ مخالفت کی –

جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا د یا قرار .. ہم نے نہیں کیا وہ کا م ہاں بخدا نہیں کیا-

 جون بھائی ایک فلسفی تھے مگر لوگوں نے اسے مسخرہ سمجھا- یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ اردو ادب پڑھنے والوں نے آج تک جون بھائی کو وہ مقام نہیں دیا جسکے وہ حقدار تھے-شاید اسی لیے جون بھائی نے کہا تھا کہ یہ بونوں کا معاشرہ ہے اور میں ایک بونا شاعر ہوں-

جون بھائی طیش کھاتے رہتے تھے۔ علم کی بے قدری پر، انسانی اقدار کی بے حرمتی پر، جہالت کی مکمل حکمرانی پر، ایسی تمام باتوں پر جن پر کئی عشروں سے اب کسی کو غصہ نہیں آتا۔

سسپنس ڈایجسٹ کے لۓ لکھے گۓ جون بھائی کے اداریےآج بھی اتنے ہی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں جتنے تب- اسی لیے سسپنس ڈایجسٹ کے آج کے اداریے بھی جون بھائی کے تب کے  لکھے گۓ تحریروں پر مبنی ہے- جون کس معیار کا مفکر تھا اس کا اندازہ صرف جون بھائی کے دو اقتباسات پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے-

یہ کون لوگ ہیں جو اک دوسرے کو قتل کر ڈالتے ہیں اور یہ قتل کرنے والے ہمیشہ مذھب کے قبیلے سے ہی کیوں اٹھتے ہیں- ہم دیکھتے ہیں کہ عقل اور فلسفے کے لوگ کبھی اک دوسرے کو قتل نہیں کرتے- افلاطون اوردیمقراطیس کے گروہ کبھی اک دوسرے سے نہیں ٹکراۓ- فارابی کے مکتبہ خیال نے شیخ شہا ب کی خانقاہ کے مفکروں پر کبھی حملہ نہیں کیا- ایتھنس کے ہیکل کے دروازے سے کبھی کوئی ایسا ہجوم نہیں نکلا جس نے انسانوں کی گردنیں اڑا دی ہو اور شهروں کو اگ لگا دی ہو- فتنہ و فساد کی اگ ہمیشہ مذہبی فرقوں کے درمیان ہی کیوں بھڑکتی ہے ؟  

ہم ایک ہزار سال سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اورکچھ نہیں کر رہے ہیں-

جون کم ظرف معاشرے کا با ظرف انسان تھا جس نے معاشرے کو انسانی اقدار یاد دلانے کی کوشش کی مگر خود کو تباہ کر بیٹھا اور اپنے تبا ہی پہ وہ نا زا ں رہے –

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس ..  خود کوتبا ہ کر لیا اور ملال بھی نہیں-  

Related Articles

3 Comments

Back to top button