Sat. Jul 2nd, 2022

سانحہ چلاس کے غور طلب پہلو

شریف ولی کھرمنگی 

ہم صلیبوں پہ چڑھے زندہ گڑھے پھر بھی بڑھے
وادی مرگ بھی منزل گہہ امید بنی
شب کے سفاک خداوﺅں کو خبر ہو کہ نہ ہو
جو کرن قتل ہوئی ، شعلہ ءخورشید بنی
۸۲ فروری کو تاریخ کا گھناونا ترین جرم کا ارتکاب پیروان یزید و شمر نے کوہستان کے علاقے میں کیا اور باقاعدہ شناخت کے بعد۹۱ موالیان کربلا کو شہید کر ڈالے۔گلگت بلتستان کے غیور عوام نے علماءکی رہنمائی میں صبر و شکر کا دامن تھامے رکھااور اتحاد بین المسلین اور علاقے اور ملک کی امن و امان کو قائم و دائم رکھا ۔ اس عظیم سانحے کے فورا بعد کوہستان کے عمائدین کا شہدا¾ سے یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کرنا ،دوسرے مسالک کے افراد بالخصوص خواتین کا شیعہ مسلک کے ساتھی مسافرین کو بچانا، اور حالات کی انتہائی خرابی کے باوجود نگر کے مومنین کا چلاس اور دیامر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بحفاظت ان کے علاقوں تک پہنچانا اس خطے کے عوام کی عظیم انسان پرور روایات اور مذھبی اقدار کی پیروی کے ثبوت ہیں۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام فرقہ واریت سے متنفر، امن پسند ، محب وطن ، اور انتہائی شائستہ قوم ہے۔ لیکن باہر سے چند دہشت گرد سرکاری ایجنسیوں کی سرپرستی میں عالمی استعمار کی ایماءپر ایسی بزدلانہ اقدام کرکے پورے علاقے کی اور ملک عزیز کی بدنامی کرکے اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ابھی ان معصوم شہیدوں کا چہلم بھی نہیںہوا تھا کہ ان یزیدی پیروکاروں نے دوبارہ اپنی بزدلانہ عمل کا اعادہ کرلیا اور باقاعدہ منصوبے کے تحت گلگت شہر میں امن و امان کو پائمال کرکے دہشت گردانہ حرکات کا سلسہ شروع کیا۔ ۳ اپریل کو بزور بازو ہڑتال کرواتے ہوئے ایجنسیوںکے پروردہ سپاہ صحابہ کے کارکن کے ہاتھوں میں پھٹنے والے گرنیڈ نے ۶ افراد کا جان لے لیا اور اسی کے اوٹ میں تربیت یافتہ دہشت گردوںکی ایک جمع غفیر نے چلاس میں گلگت اور بلتستان جانیوالے مسافروں کو بالکل اسی اندازمیں جس طرح کوہستان میں ایک مہینہ قبل کیا گیا تھا،پوری کانوائے کو روک کر مومنین کے ساتھ جو بربریت کی انتہا کردی اس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتاہے۔نسل یزیدی کے گھناونے فعل کی تفصیل بچ نکلنے والے افراد کی زبانی منظر عام پر آچکے ہیں ، جن سے انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔مسافر بسوںکی پوری کانوائے کو روک کر لوٹ مار،مسافروں کی شناخت کے بعد لرزہ خیز قتل ، ہاتھ پیر باندھ کر پتھروں سے اذیت دینا اور دریا برد کردینا،گاڑیوںکا جلایا جانا اور دریا برد کر دینا ،پولیس کی ٹیم کو زدوکوب کر نا ایسے واقعات ہیںجو کہ ایک باقاعدہ تربیت یافتہ ٹیم ہی کرسکتے ہیں۔ان سب کے باوجوداگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ صرف مقامی افراد نے کیا ہے اور ایجنسیاں ملوث نہیں،تو یہ اس کی جہالت کی انتہا ہوگی۔
ان واقعات سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستانی ایجنسیاں جان بوجھ کر ایسے کام کرواتے ہیں تاکہ استعماری طاقتوں کے ناپاک عزائم کوآسانی سے پورے کرواسکیں۔ملک کا نام نہاد آزاد عدلیہ ، میڈیا کے مکروہ چہرے بھی واضح ہو گئے اور یہ بھی ثابت ہوگیاکہ یہ کٹھ پتلی ادارے در اصل ان شیطانی استعماری طاقتوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں جو انکے بڑوں کو ایوارڈز، ڈالرز دیتے،دورے کرواتے اور اپنی شہ سرخیوں میں ان کے نام ڈالتے ہیں،انہیںملک کے عوام پربیتنے والے مظالم اور عوامی حقوق سے کوئی دل چسپی نہیںاور نہ انسانی اقدار سے ان کادور سے بھی کوئی تعلق ہے۔
سیاسی کٹھ پتلی حکومت سے نہ کوئی امید پہلے تھی اور نہ اب ہے۔اب تو بے اختیار وزیر اعلٰی اور اس کے کارندے بہ بانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہمیں تو پہلے سے ہی ان کے اوقات کا علم ہے۔سانحہ کوہستان میں اسی وزیر اعلٰی نے بیان دیا تھا کہ چونکہ سانحہ ہمارے علاقے میں پیش نہیں آیا اسلئے ہم کچھ نہیں کرسکتے، مگر اب گلگت ہیڈ کوارٹر اور چلاس کے انسان سوز واقعات نے روز روشن کی طرح واضح کردیا کہ تم کہیں بھی کچھ کرنے کے اہل نہیں ہو۔
سب سے اہم معاملہ یہ کہ خطے کے باشعور افراد اور ذمہ داریوں سے آگاہ مختلف مکاتب فکر کے علماءان واقعات پر کب تک کف افسوس ملتے رہیں گے؟کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے، اور کب تک ہم بیرونی اور ایجنسیوں کے پردردہ قوتوں کے مظالم پر ان کے خلاف گلے خشک ہونے تک نعرے لگواتے اور جذباتی تقاریر کرتے رہیں گے؟وہ بھی ان بے غیرت حکمرانوں کے خلاف جن کی بے بسی و لاچاری سب پر عیاں ہیں،اس عدلیہ اور اس کے اندھے چیف کے سامنے جس کو ایک تھپڑ تو انسان سوزی لگتی ہے لیکن بار باردرجنوں معصوم لوگوں کی دن دیہاڑے قتل اور پورے خطے کے لاکھوں عوام کی غیر محفوظ زندگیاں نظر نہیں آتی، ان میڈیا کے مینڈکوں کے سامنے جو ایجنسیوںکی اجازت بغیر ایک لائن تک نہیں چھاپتے، ااور ڈالروں کے بغیر خبر تک نشر نہیں کرتے۔ہم کب تک ان حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے کہ گزشتہ سانحے میںمقامی میڈیا اور اخبارات بھی اصل خبروں کو سامنے لانے سے جان بوجھ کر کترا رہے تھے، اور اس سانحہ میں بھی ایک ہفتہ گزرنے کے ناوجود اب بھی لاتعداد افراد کا لا پتہ ہونا ان کی حقیقتوں سے آشنائی کے لئے کافی ہے۔اور فرض کریں اگر میڈیا خبریں دے بھی دیں اور چند سیاسی چمچہ گر ہماری آواز سن بھی لیں توکیا ہم ان کے اقدامات سے ہم ناواقف ہیں؟ہم نے وزیر داخلہ اور وزیر امور کشمیر کو بھی آزما چکے، باوجود اسکے کہ آزما ئے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے، ہمار ے علماءنے ان کے جھوٹے وعدوں پر بھی صبر کیا، انکی کارروائیاں اور اقدامات بھی دیکھ چکے، پھر بھی ہم بے بس اور لاچار قوم کیوں بنے ہوئے ہیں، اور کب تک بنے رہیں گے؟
ہم یہ نہیں کہتے کہ توڑ پھوڑ کروائیںیا سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں، درندوں کا بدلہ غیر متعلقہ افراد سے لینا دشمنوں سے بھی بدتر حرکت ہے، جس کی ہمیں ہمارا دین بھی اجازت نہیں دیتا،اور گلگت بلتستان کے چاروں فرقوںکے بزرگ اس بات کے دعویدار ہیں کہ ہم امن و سلامتی چاہتے ہیںاور ان بزدلانہ کارروائیوں سے کسی کابھی تعلق نہیں، ہم دہشت گردی کا ذمہ دار سرکاری ایجنسیوں اور تیسری قوت کو قرار دیتے ہیں، ایسے میں ہم سب مل جل کر کیوں ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب نہیں دیتے؟چاروں فرقوں کے علماءو سرکردگان آپس میں مل بیٹھ کر اسکا روہ حل تلاش کیوں نہیں کرتے ؟
ہم نے شہید قائد علامہ ضیاءالدین رضوی ، شہید اسد شاہ زیدی، شہداءاہل سنت اور دیگر تمام شہداءاور خاص طور پر سانحہ کوہستان کے بعد صرف احتجاج کیا، نعرے لگوائے، ہڑتال، پرجوش تقریریں ، ریلیاں نکالیں اور قراردادیں و چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیں، ان سب کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے،جھوٹی تسلیاں اور قراردادوں پر عملدر آمد کی جھوٹی یقین دہانیاں در اصل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ان کٹھ پتلی کرداروںکو ہمارے علاقے کے امن سے کوئی سروکار نہیں،آج تک نہ کسی قرارداد پر عمل درآمد ہوا، نہ مطالبات منظور کرنے کے باوجود ان پر کاروائی ہوئی،بلکہ ایک بھی سانحے میں مجرموں کی شناخت تک بھی عوامی سطح پر نہیں کرائی گئی، جن سے ان دہشت گرد یزیدی ٹولے کو مزید تقویت پہنچی، نتیجتا ہم اتنے بڑے سانحے سے دوچار ہوئے۔
اب بہت ہو چکا ، آج بھی اگر سکردو اور دیگر علاقوں کے علماءاور درد مند افراد چند دن کی ہڑتال اور جذباتی نعرے لگوا کر یہ سمجھ کر بیٹھ گئے کہ ہم نے بہت کچھ کرلیا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرلی ہے ، تو یہ ان شہداءسے اور عوام کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہوگی، نہ تاریخ ہمیں معاف کریگا اور نہ شریعت اسلامی ہمیں بخشیں گے۔ اور اسکا خمیازہ ہماری نسلیں بھگتیں گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام تر سیاسی و سرکاری مفادات اور اداروں سے بالاتر ہوکر پورے علاقے کی بہترین مفادات کے لئے اس سانحے سے ایک جامع پالیسی اختیار کریں ، ایک مشترکہ تحریک اور نہضت قائم کریں جس میں خطے کے تمام مکاتب کے باشعور افراد کو شامل کریں،جو اس خون خرابے سے متنفرہیں۔ علماءاور اکابرین یک جہت ہو کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قرآن مجید کے روبرو عہد کریں کہ سانحہ چلاس اور گلگت اس علاقے کا آخری واقعہ ہے،اور ہم آئندہ کوئی قتل و غارت نہیں ہونے دینگے۔تمام اضلاع سے چاروں مکاتب فکر کے باشعور افراد کو شامل کرکے ایک متفقہ کمیٹی تشکیل دیا جائے جو بغیر کسی بیرونی دباو¾ کے سانحے کی تحقیقات کریں اور مجرموں کو کڑی سزا دیں۔اگر علماءاور با شعور افراد مل جل کر بیٹھیں گے اور مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے تو عوام خود بخود ان کو فالو کرینگے اور جب بلا کسی تفریق مجرموں کا احتساب ہوگا عوام کے سامنے پیش ہوگا تو آئندہ کسی میں ایسے گھناونے حرکت کے بارے میں سوچنے کی بھی ہمت نہیں ہوگی۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ،
وہ کل کے غم وعیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا
جو آج خود افروز جگر سوز نہیں ہے
وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے(اقبال)
Instagram has returned invalid data.
%d bloggers like this: