Wed. Oct 28th, 2020

شکا یت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے!

شریف ولی کھرمنگی
یوں تو ہمارے ملک کا تعلیمی نظام کئی لحاظ سے خامیوں کا مرکب ہے، لیکن جب دور افتادہ اور دیہاتی علاقوں کے مسائل کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خطہ عزیز ، خطہ عظیم جنت نظیر گلگت بلتستان بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پر نظام تعلیم انتہائی مظلومیت سے دوچار ہے۔قدرتی وسائل سے مالامال ، امن و امان کا گہوارہ،معاشرتی ہم آہنگی میں اپنی مثال آپ ایک ایسا خطہ جو کہ بلاشبہ پوری دنیا کے لیے قابل رشک ہے۔لیکن ہم یہاں کے باسی ان نعمات کے حقیقی فیض سے آج تک کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے بلکہ دوسرے علاقوں سے لوگ آکر یہاں کے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا تے ہوئے نہ صرف یہاں کی ثقافت ، طرز زندگی اور اقدار پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ چند سکوں کے عوض ہمارے قدرتی وسائل اور دیگر عظیم نعمات کو بھی لوٹ کر لے جا تے رہے ہیں،مزید بر آں ہمارے معاشرے کے وہ افراد جو دیگر علاقوں اور معاشروں سے بھی آگاہی رکھتے ہیں وہ بھی سرگرداں ہیں اوراس خطے کے اصل ضروریات اور موجود وسائل کے استعمال سے قاصر ہیں۔
یوں تو مسائل سے خالی کوئی بھی خطہ نہیں ،چاہے معاشی مسائل ہو،سیاسی افراتفری ، مذہبی تضادات ، قومیت و علاقہ پرستی ، لسانی مسائل یا کوئی مسئلہ ہو خطہ شمال ان تما م سے دیگر علاقوں کی نسبت محفوظ ترین خطہ ہے۔لیکن سب سے بڑی رکاوٹ جسکی وجہ سے آج تک ہم اپنے حقوق ،معاشرتی اقدار ، ضروریات زندگی اور بنیادی شہری ضروریات کو سمجھنے اور حاصل کرنے سے محروم ہیں ، اول تو نئے نسل کی تربیت کے لیے لوگوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق شعور کی ناپیدگی، تعلیمی و تربیتی ضروریات سے بے رغبتی سماجی ذمہ داریوں سے نا آشنائی اور نظام تعلیم میں موجود خامیاں ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں سیاسی پشت پناہی اور رشوت کے ذریعے نالائق لوگوں کی بطور اساتذہ بھرتیوں کی وجہ سے تعلیم و تعلم برائے نام رہ گیا ہے۔پہلے صرف تعینا تی کیلئے ایسے ناجائز حربے استعمال ہوتے تھے مگر اب تو گریڈ سولہویں تک کی پروموشن اور من پسند کے علاقوں میں تعیناتی بھی رشوت اور سیاسی سفارش کے ذریعے ہوتی ہے۔
سرکا ری تعلیمی اداروں کی ابتری اپنی جگہ، لیکن وہ ادارے جن کے دعوئے بہت بڑے ہیں، جن میں ہمارے غریب والدین اپنے بچوں کو جائیدادیں بیچ کر داخل کرواتے ہیں، بھاری فیسیں بھرتے اور اسکول کے علاوہ ٹیویشن کی بھاری اخراجات ادا کرتے ہیں ، یہی دعویداران علوم و تربیت گاہ بھی اپنی بزنس چمکانے ، پرسنٹیج زیادہ شو کرنے ، ایک دوسرے ادارے کی نسبت پاپولرٹی بڑھانے ،ذاتی نمود و نمائش اور شہرت کمانے کے لئے آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔والدین کو زیادہ سے زیادہ ترغیب دینے کیلئے مذہبی فلیور دینا ، پروگرامات کی شیڈول، رنگین پوسٹرز اور تصاویر ، ٹی وی اور کیبل پر کمرشلز ،غرض ہر طرح سے ایڈورٹائزینگ میں ہی ان منافع خوروں کا پورا سال نکل جاتاہے۔ایسے میں نظام تعلیم و تربیت کیسے ممکن ہو، کہ جن سے ہم باشعو ر معاشرہ ساز طلباءکی پیداوار کی توقع کر سکیں؟سکردو شہر میں موجود درجنوں ایسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جو کہ اب منافع بخش کاروباری ادارے بن چکے ہیں ، ان میں سوائے چند ایک کے اساتذہ کی اکثریت نہ صرف خود معاشرتی شعور سے نابلد ہیں بلکہ ان کا مر کز و محور ہی فیسیں اور تنخواہیں بنانا ہو کر رہ گیا ہے، جس کے لیے ایک ساتھ ایک آدھ سرکاری نوکری کے ساتھ کئی ایک نجی اسکولوں میں پڑھانا اور ساتھ میں ٹیویشن سینٹرز بھی چلانا وغیرہ شامل ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ والدین اور طالبعلم خود بھی اپنی کامیابی و ناکا می کا ذمہ دار ہوتا ہے اور طلباءکی غفلت ، برے سوسائٹی کے برے اثرات ، گلی محلے کا گندہ ماحول بھی ان کو تعلیم و تربیت سے بے بہرہ کنے کے وجو ہات ہیں، لیکن جو تعلیم و تر بیت کے مراکز ہیں اور جو ان امور کے ذمہ دار ان ہیں، جب وہ خود تربیت یافتہ نہ ہوں ، انسان ساز نہ ہو اور معاشرتی اقدار ، تعلیم و تعلم کا کوئی اسکو اتا پہ نہ ہوبلکہ انٹر و گریجویشن کی ڈگری لیکر کاروباری اداروں کی طرح معلم کے پاکیزہ نام کو استعمال کر رہا ہو ایسے میں ہم طلباءکو کیا سمجھا سکیں گے، ان برائے نام انگلش میڈیم اسکولوں کی نسبت تو وہ سرکاری ادارے اچھے ہیں جہاں ٹیچر ز کم از کم سی ٹی، بی ایڈ کی شرائط کوتو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔
سکردوشہر میں موجود کسی بھی پرائیویٹ ادارے کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تقریبا ہر اسکول کے آدھے طلباءبورڈ کے امتحان میں بطور پرائیویٹ امیدوار شامل ہوتے ہیں ، باقی آدھے ریگولر طلباءمیں سے ایک چوتھائی طلباءتھرڈ ڈویژن میں یا اس سے بھی کم سطح پر اور ایک آدھ ہی کچھ بہتر نتائج حاصل کر پاتے ہیں، اور المیہ یہی ہے کہ ان دو تین اچھے مارکس والے طلباءکی تصویریں اور رزلٹ دکھا کر یہ ادارے سال بھر کا بزنس چلاتے ہیں، زیادہ تعداد میں طلباءکو داخلہ دلوانے کیلئے والدین کو بیوقوف بنانے اور ٹی وی ، کیبل پر کمرشل چلانے کے لیے سب سے بڑا نسخہ یہی ہے، یہ صرف ہوائی باتیں نہیں بلکہ گزشتہ سات سالوں سے ایک ادارے سے منسلک ہونے اور بیشتر اسکولوں کے قابل فخر طلباءکی حالت زار دیکھ کر بیان کر رہا ہوں ۔
ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے میں ان اداروں کے سربراہان ، مالکان ، اور اساتیز سے دست بستہ گزارش کرتا ہوںکہ خدارا ہوش کے ناخن لیں،علاقے کی ترقی،پسماندگی کا خاتمہ ، حقوق کا حصول ،اور تمام تر مشکلات کا حل، اور ہم سب کی ذمہ داریوں کا پورا ہونا، طلباءاور نئے نسل کی بہتر تعلیم و تربیت میں مضمر ہیں اور یہ صرف برائے نام ایف ایس سی ٹیچر ز اور میٹرک پاس لوگوں کے ذریعے ممکن نہیں، صرف نام کے انگلش میڈیم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اساتذہ کی تربیت ہو تو وہ طلباءکی تربیت کر سکیں گے، ورنہ بڑے بڑے دعوے اور ایڈورٹائزنگ سے آپکی بزنس تو بڑھ جائیگی لیکن قوم مزید اندھیرے کی جانب بڑھیگی۔سال میں صرف دو اے گریڈ طلباءنکال کر کالر چوڑے کر نا ہی کامیابی نہیں، نہ ہی آدھے سے زیادہ طلباءکو پرائیویٹ کرواکر چند ایک طلباءکی ایوریج کو دوسرے اسکولوں سے زیادہ شو کر نا معیار ہے، بلکہ یہ دوسروں کو بیوقوف بنانے کے آلے ہیں جس سے اب ہر کوئی واقف ہو چکے ہیں،کامیابی اسوقت تک نہیں کہلائے گی جب تک کلاس کے تمام طلباءکی ایوریج سالانہ رزلٹ معیاری نہ ہوں ورنہ صرف دکھاوے کے دانت کا کوئی فائدہ نہیں۔اگر آج ہم ان بے معنی اور دکھاوے کی چیزوں کو ختم کر کرے حقیقت پسند ی سے کام نہ کریں اور باشعور ، بابصیرت اور لائق اساتزہ کو اسکولوں میںنہ لائیں اور موجودہ اساتذہ کی بہتر ٹریننگ نہ کروائیں تو جو معاشرتی ترقی، باشعور نسل کی پرورش، اور ایک تربیت یافتہ مستقبل کی توقع کرنا خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔اور جو سلسلہ چلا آرہا ہے وہ تو شاہین کے بچوں کو خاکبازی کا درس دینے کے مترادف ہے جس سے اقبال عظیم ایک صدی قبل دل شکستہ تھے۔ شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے سبق شاہین بچوں کو دے رہا ہے خاکبازی کا (اقبال ؒ)
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: