Mon. Oct 26th, 2020

اپنی سوچ پر غور کرنا

عموماَ  لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عرصے سے معاشرہ تین گروپوں میںمنقسم ہوتاآرہاہے قدامت پسند‘ اعتدال پسند اورانتہا پسند۔ ماہرین ان تینوں طبقوں کے بارے میں لکھتے رہے ہیں۔ اب ان کے اتنے ذیلی گروپ بنے ہیں کہ بعض اوقات ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتاہے۔ سوچ‘ تعلیم‘ معیشت‘ جغرافیہ‘ آب وہوا‘ مذہب اور تہذیب نے ان گروپوں کی ہمیشہ نگرانی بھی کی ہے اور قیادت بھی۔ وقت کی نظروں نے کھبی قدامت پسندوں کو ہیرو بنتے دیکھا کبھی اعتدال پسند منظر عام پر آتے رہے اور کبھی انتہا پسند الغرض ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ دور حاضر کے معاشروں میں ان تینوں گروپوں کی موجودگی ہمیشہ ماحول میں تناﺅ کا باعث بن رہا ہے۔ کبھی قدامت پسند اعتدال پسندوں سے الجھتے ہیں اور کبھی انتہا پسندوں سے اور بلترتیب ان تینوں طبقوں کی جنگ روز اوّل سے جاری ہے اور رہے گی۔ معاشرے میں طبقات اور کرداروں کا ہونا المیہ نہیں بلکہ خود معاشرے کی ایجاد ہے۔ خیال‘ سوچ‘ فکر‘ علم ‘ معاش اور صحبت ان کی نمو میں پیش پیش ہے۔ مذہبی دنیا ہو یا معاشی دنیا‘ میڈیا ہو یا عوامی سوچ ہر ایک میدان میں ان تینوں گروپوں کا وجود ہے۔ یہ اور بات ہے کہ 9/11کے بعد یہ گروپ مذہب میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہب سے کئی زیادہ یہ طبقے معیشت کی دنیا میںہے جس کو ماہرین پہلی‘ دوسری اور تیسری دنیا کے نام سے یادکرتے ہیں۔ اس طرح تیسرے درجے کی شہرت والے بھی اپنے طئے ایک گروپ ہے جو غربت کی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کبھی ان کو پہلی گروپ والے استعمال کرتے ہیں اور کبھی دوسرے۔ خیر بات جب ہوتی ہے سماج کی آج کل سماج کئی ایک طبقات میں تقسیم ہے۔ یہاں چند ایک کا ذکر کرتے ہیں جو ہمارے علم میں ہے ہوسکتا ہے آپ بڑے اور وسیع علم کے مالک ہیں تو ہماری سوچ کو برابھلا نہ کہنا کیونکہ سوچ پر سوچ کی کنجائش موجودہے۔ آج کل کسی کی سوچ پر سوچنے اور فکر کرنے کو فیڈ بیگ بھی کہا جاتاہے۔ دراصل فیڈبیگ کا مطلب دبے اور اچھے اسلوب میں پہلی خیال کا توڑ ہے۔
کچھ دن پہلے ایک سیاسی شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ اتفاقاََ اس ملاقات میں ہم چار لوگ تھے۔ ہوٹل کی دیواریں گرنے والی تھی اور کمرے میں شورشرابے کا سماں تھا۔ ہرایک‘ ایک دوسرے سے دست گریباں ہونے کو تیار۔ حالات بہت خطرناک حد تک آگے گئے تھے۔ کوئی کسی کو سننے کو تیار نہ تھا۔ ہر ایک کا موقف بھاری اور وزنی تھا۔ دلائل میں کوئی کسی سے کم نہیں تھا۔ کسی نے جغرافک ٹیلی ویژن کے حوالے سے فطری مثالیں پیش کی تو کسی نے ولڈ ٹاور کی مثال پیش کی۔ کوئی مظلوم کے حق میں تھا اور کوئی مفاد کی ذد میں۔ ایک عرصے تک بحث و مباحثے کے بعد یہ بات سمجھ آئی کہ یہ اختلاف رائے کا مسئلہ تھا اور کچھ بھی نہیں۔ ہر آدمی اپنے خیالات کی نمائندگی کررہا تھا۔ اس محفل میں بات ہوئی عالمی سیاست کی جو آج سے شروع ہوکر روم اور یونان تک جا پہنچی۔ اس بات کو کسی نے منقطع کیا تو بات نکلی کرپشن کی جو نیل سے کاشغر تک پھیلی ہوئی تھی۔ تعلیم کی بات آگئی تو عرب سے عجم پہنچے اپنے سنہرے دور کی باتیں بھی ہوگئی۔ یہ سن کر کہ موجودہ وقت میں ایک امریکہ میں پانچ ہزار سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں جو پورے عالم اسلام میں نہیں۔ وجوہات کی لسٹ بتانے شروع ہوگئے جو بہت طویل تھی۔ پھر تجارت کی بات آگئی اور چین سے یورپ تک کی کہانیاں پیش کی گئی لیکن اپنے علاقے کی مثال کوئی نہ دے سکا کیونکہ تجارت سرے سے ہے نہیں تو مثال کیا پیش کریں۔ مذہب پر تنقید اور تبصرہ بھی ہوا لیکن ہر ایک کی سوچ میں فرق دیکھ کر دنگ رہ گیا۔چار گھنٹے کی گفتگو کے بعد بھی کسی کو بھی یہ نہیں پتہ چلا کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟
اپنے مسائل وسائل کو تاریخ کی پیچیدگیوں سے گزارکر سائل کے سامنے یوں پیش کرتے ہیں کہ سائل کچھ پوچھنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آفرین اُس آدمی کو جو صرف اپنے کسی معمولی کام کی درخواست دینے آیا تھا جس کے سامنے اُس کا لیڈرآخری امید تھا بتا نہ سکا اور سائل اپنی فائل بیگ میں چھپاکر واپس لے آئے۔ ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی بات کیوں نہیں کی۔ کہنے لگے” ہم غریب لوگ اپنی زمینداری سے آگے نہیں سوچتے ہیں۔ ہمیں تین ٹاٹم کی روٹی اور رہنے کے لئے مکان کی ضرورت ہے بھلے دنیا ادھر سے اُدھر ہوجائے۔ ہمیں گھرتک روڈ چاہئے جہاں سے ہم اپنے مال کو شہر تک لے جاسکے۔ ہمیں ایک ہسپتال چاہئے جہاں بیماری کا علاج ہو اس کے ساتھ گاﺅں میں ایک سکول ہو جہاں بچے پڑھ لکھ سکیں“۔ وہ اپنے لیڈر سے اس قدر مایوس تھے کہ کہنے لگے’ہم نے اس آدمی کو اس لئے ووٹ دیا تھا کہ یہ ہمیں قیادت فراہم کریگا ہماری بات سنے گا یہ تو ہماری بات کم یورپ اور امریکہ کی زیادہ کرتا ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتی ہے اور ہمیں اُس سے غرض بھی نہیں‘۔ عام لوگوں کی سوچ اور ہے پڑھے لکھے لوگوں کی سوچ اور۔ سیاسی لوگوں کی سوچ اور ہے اور سماجی لوگوں کی سوچ اور۔ مذہبی لوگوں کی سوچ اور ہے کاروباری لوگوں کی سوچ اور۔۔۔ اب سب کی سوچ میں اختلاف ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ آج کل گھروں میں بھی مختلف سوچ کے لوگ ہیں۔
الغرض ہر ایک میدان میں لوگوں کی سوچ میں فرق ہے۔جب سوچ میں فرق ہوگی تو عمل میں بھی فرق ہوگا۔ اس صورت حال کے باوجود ہم سب کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب کی سوچ ایک ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس صورت حال کی ایک وجہ معاشرے کی گوناگونی ہے جو روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ مختلف پس منظروں کے لوگ ایک جگے میں رہنے لگے ہیں۔ کھانے پینے‘ لباس‘ زبان‘ روّیے سب مختلف ہونے کے باوجود ہم ایک جگے میں رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں زندگی اُس وقت خوشگوار ہوسکتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو تسلیم کریں۔ ہر ایک کی رائے کی قدرکریں۔ کسی کو مرچیاں زیادہ پسند ہے تو کسی کو نہیں لیکن ایک دوسرے کو برداشت کی سرحد یہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ لیڈرز کو بھی اپنی قوم دیکھ کر بولنا چاہئے۔ آج کل زندگی بہت پیچیدہ ہوگئی ہے۔ ایک ہی گھر میں دس قسم کی سوچ اب اس صورت حال میں کوئی یہ چاہتا ہو کہ پوری دنیا میں ایک ہی سوچ کے لوگ ہوتو آپ اس سوچ کو کیا کہیں گے؟ اپنی سوچ پر سوچنے کی کوشش کرنا بھی عین بہترین سوچ ہے۔ ہمیں ابھی ان سوچوں پر سوچنے کی ضرورت ہے جن پر سوچا نہیں گیاہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کبھی آپ نے اپنی سوچ کے بارے میں سوچاہے؟ قرآن پاک کا حکم ہے” اور وہ اُس میں چِلاتے ہونگے‘ اے ہمارے ربّ ہمیں نکال کہ(اب)ہم اچھا کام کرینگے‘ اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے‘ اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں جو سوچناچاہتا اُسے سوچ لیتا‘ ڈرانے والا بھی آپ کے پاس آیا تھا‘ اب چکھو مزہ (سزاکا) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں“( سورة فاطرہ: ۷۳)۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: