Tue. Oct 20th, 2020

گُلشنِ نسیم میں چیری ڈے اور ادبی محفل

تحریر: اشتیاق احمد یاد
ishtiaqyaad@yahoo.com
ماہرین بشریات و عمرانیات اور ادیبوں کے مطابق ایک متوازن اور پُر سکون معاشرہ کے قیام کے لئے بنیادی اجزاءمثلاً سیاست، ریاست، عدالت، مذہب، ثقافت ، صحافت ، ادب ، آرٹ ، کھیل ، تفریح اور موسیقی کا ایک ترتیب کے ساتھ بھر پور انداز میں کردار ادا کرنا ناگزیر ہے ۔ ان ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن معاشروں میں ان عناصر نے عملاً موثر طریقے سے اپنے اپنے حدود و قیود میں رہ کر ایک دوسرے کے حدود میں تجاوُزات (Encroachment)کئے بغیر کردار ادا کیا ہے وہاں بہت حد تک معاشرہ متوازن اور خوشحال ہے ۔ اس کے برعکس جن سماجوں میں ان اجزاءمیں سے چند ایک پر بہت زیادہ توجہ دے کر دوسرے اجزاءکو نظرا نداز کیا گیا ہے وہاں معاشرہ عدم توازن اور انتشار کا شکار ہے ۔ اس تناظر میں ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
زندگی کیا ہے عناصر کا ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاءکا پریشاں ہونا
بدقسمتی سے گلگت بلتستان جیسے جنت ِ نظیرخطّے میں معاشرہ کے ان بنیادی اجزاءمیں سے اکثر کو بہت حد تک نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ان اجزاءمیں ادب (Literature)سرِفہرست ہے جس کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ادب زندگی کی تلخ اور خوشگوار حقیقتوں کو بہت خوبصورت پیرائے میں پیش کرتا ہے اور معاشرہ میں لطیف ، دل گُداز اور انسان دوستی کے جذبات و احساسات کو پروان چڑھانے میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ ادب شینا، بروشسکی ، بلتی ، وخی ، کھوار، اردو، عربی ، فارسی اور انگریزی کسی بھی زبان میں ہوسکتا ہے ۔ مگر ماہرین اور دانشوروں کے مطابق مقامی و مادری زبان کا ادب سب سے زیادہ بامعنیٰ، موثر اور انسانی اور ثقافتی احساسات و جذبات کا حقیقی ترجمان اور عملی تفسیر ہوتا ہے ۔ توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ اہمیت کے اعتبار سے ادب کومقامی ، قومی اور بین الاقوامی اصناف میں تقسیم کرنا اپنی جگہ دُرسُت مگر ادب حقیقت میں آفاقی ہوتا ہے جو دنیا کے تمام سماجوں ، تمام انسانوں اور قدرت کے مظاہر کا ترجمان ہوتا ہے ۔ گلگت بلتستان میں گوکہ موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں نے کسی حد تک ادب کی ترقی و ترویج کے لئے کردار ادا کیا ہے مگر یہ ادب جس حقیقی توجہ کا متقاضی ہے وہ آج تک نہ تو کسی حکومت نے دی ہے اور نہ ہی بیوروکریسی ، قومی ادبی انجمنوں، UNکے اداروں ، این جی اوز، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سِول سوسائٹی نے دی ہے ۔ نتیجتاًگلگت بلتستان میں ادب زبوں حالی کا شکار ہے ۔Corporate Social Responsibilityکے تحت ملٹی نیشنل کمپنیوں اور پرائیویٹ سیکٹر کو ادبی ، ثقافتی اور فلاح و بہبود کی سرگرمیوں کے لئے مالی معاونت کرنا ان کا قانونی فریضہ ہے ۔
مقامی ادب اور ثقافت کو ناپید ہونے سے روکنے اور انہیں پروان چڑھانے کے لئے گلگت بلتستان کے تقریباً تمام اضلاع میں مقامی ادبی و ثقافتی انجمنیں ایک نیک جذبے اور خلوصِ دل سے اپنی مدد آپ کے تحت خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ جن کی حوصلہ افزائی اربابِ بست و کشاد اور سول سوسائٹی کی جانب سے ناگزیر ہے ۔ گلگت میں بھی مقامی ادب و ثقافت اور اُردو ادب کی آبیاری کے لئے مختلف شخصیات اور ادبی انجمنیں خدمات انجام دے رہی ہیں جو کہ نہایت حوصلہ افزاءبات ہے ۔ نامساعد حالات اور پُرگُھٹن لمحات میں بھی ان کی بے لوث کوششیں تپتے صحرا میں ابرِباراں کی مانند ہیں ۔ ایسی ہی ایک ادبی انجمن حلقہ ءارباب ذوق گلگت ہے ۔ اُردو ادب کی ترویج اور امن و آشتی کے فروغ کے لئے اس کی خدمات مثالی ہیں ۔
گلگت کے شعراء، ادیبوں اور دانشوروں کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ انتہائی کشیدہ حالات میں بھی یہ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں اور ہمیشہ دلوں کو جوڑنے اور اخوت و بھائی چارے کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کرتے رہتے ہیں اور حق و سچ کی صدا بلند کرتے رہتے ہیں ۔
اس مقصد کے حصول کے لئے گلگت کی ادبی شخصیات وقتاً فوقتاً ادبی و علمی محافل منعقد کرتی رہتی ہیں ۔ ان شخصیات میں سے ایک ادبی شخصیت جس کا دل ہمیشہ انسانیت ، بھائی چارہ ، اتحاد و یکجہتی اور ادب و ثقافت کی ترقی و ترویج کے لئے دھڑکتا رہتا ہے ۔ پچھلے چھ سالوں سے بلاناغہ ہر سال اپنے دولت خانے (دنیور) میں مئی کے مہینے میں “چیری ڈے”کے نام سے ایک ادبی محفل کا اہتمام کرتے ہیں ۔ جہاں گلگت اور بعض اوقات دیگر اضلاع کے شعراء، ادیب اور صحافی شریک ہوتے ہیں۔ چیری ڈے میں جہاں اعلیٰ قسم کی چیری ، توت اور روایتی طعام کا شاندار انتظام ہوتا ہے وہاں محفل مشاعرہ منعقد کی جاتی ہے اور علمی گفتگو کا سلسلہ بھی چلتا ہے ۔ یہ ادبی ، علمی اور روایتی محفل سجانے کا شرف جس شخصیت کو حاصل ہے وہ ہیں گلگت بلتستان کے معروف ڈرامہ رائٹر، شاعر ، کالم نگار اور فنکار غلام عباس نسیم ، جو بنیادی طور پر درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ ہیں ۔
اِمسال چیری ڈے 27مئی کو حسبِ روایت بڑے اہتمام کے ساتھ منایا گیا ۔ جس میں گلگت بلتستان کے نامور شعراء، ادیب اور صحافیوں عبدالخالق تاج، خوشی محمد طارق، جمشید خان دُکھی ، ظفر وقار تاج ظفر، شکیل احمد شکیل ، عبدالحفیظ شاکر، غلام عباس نسیم، اسماعیل ناشاد، ایمان شاہ ، اسرارالدین اسرار، اشتیاق احمد یاد، ڈاکٹرانصار الدین مدنی ، نذاکت علی ، الیاس حسین ملک، ظہیر عباس، رضا عباس تابش، تیمور، شفقت ، اجلال حسین اور یاور عباس نے شرکت کی۔
آشیانہ ءغلام عباس نسیم میں مہمانوں کی آمد دن کے دو بجے شروع ہوئی اور طعام ، محفل مشاعرہ اور گفتگو کا سلسلہ شام چھ بجے تک جاری رہا۔ نسیم صاحب نے پھولوں ، پودوں اور درختوں کی دیکھ بھال کا مشغلہ بھی خوب اپنایا ہوا ہے شاعر جو ہوئے۔ شعراءمیں جمالیاتی حس بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ ان کے آشیانے کا دالان بہت وسیع ہے جہاں اعلیٰ اقسام کے پھل دار درخت ، رنگ برنگ کے دلکش پھول ، حسین سبزہ اور سبزیاں گھر کی فضاءکو چار چاند لگائے ہوئے ہیں ۔ یہاں انسان کو تازگی ، فرحت اور طمانیت کا بھرپور احساس ہوتا ہے ۔
مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام پھولوں ، پودوں اور درختوں میں گرے ہوئے سبزہ زار میں کیا گیا تھا ۔ شرکائے محفل کے درمیان کچھ غیر رسمی گفتگو ہوئی ۔ اس کے بعد دستر خوان بچھائے گئے ۔ چند لمحوں میں دستر خوان مختلف النوع چیری ، توت اور دیگر پھلوں سے بھر دیئے گئے ۔ دنیا کا مشہور پھل چیری کی چار اور شہتوت کی دو انواع جو نہایت لذیذ تھیں ،کو مہمانوں نے سیر ہو کر کھایا۔ سچ پوچھو تو ہم میں سے اکثر نے یہ لذیذ اور روایتی پھل کھانے کی اگلی پچھلی کسر پوری کر دی ۔ میٹھے اور لذیذپھل کھانے کے کچھ وقفے کے بعد روایتی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ۔ ایک بار پھر دستر خوان کو دیسی سُواچل ساگ، لسی ، مکئی کی روٹی، مکھن سے تر دیسی روٹی( گولی) اور متنوع روسٹ سے مزّین کیا گیا۔ مہمانوں نے روایتی کھانے کو بہت پسند کیا اور اسے بھی خوب سیر ہو کر کھایا۔ اس نعمتِ خداوندی کے کھانے کے بعد سب نے ربِ کائنات کا شکر ادا کیا اور میزبان کی کُشادہ دلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔
شِکم پُری سے فراغت کے بعد ادبی و علمی محفل جمنا شروع ہوئی ۔ اس موقع پر حلقہ ءاربابِ ذوق گلگت کے عہدیداروں نے غلام عباس نسیم کو خصوصی تحفہ پیش کیا ۔ اِسی اثناءایک طرف سے ظفر وقار تاج ظفر نے ازراہ ِ طفنّن کہا کہ یہ تحفہ دیکر اگلے چیری ڈے کے لئے راہ ہموار کی جا رہی ہے ۔ جس پر سب نے ہاں سے ہاں ملاتے ہوئے قہقہہ بلند کیا۔
حسبِ روایت چیری ڈے کے موقع پر ایک پُروقار محفل مشاعرہ بھی منعقد کی گئی ۔ جس میں تمام شعراءنے اپنا کلام پیش کر کے خوب داد وصول کی ۔ اِس محفل ِ مشاعرہ کے شعراءکا نمونہ کلام نذرِ قارئین ہے ۔
لوں کیسے تیرا نام زمانہ خراب ہے
کیسے لکھوں کلام زمانہ خراب ہے
المنتظرتمہارے یہاں منتظر ہیں لوگ
مت آﺅ یا اِمام زمانہ خراب ہے
(عبدالخالق تاج)
اب نہ وہ موسم نہ وہ سوہنی نہ وہ کچا گھڑا
موج میں آتا ہے کیوں پھر بھی ان آنکھوں کا چِناب
کاٹ لی آخر قفس میں آس پر عُمرِ عزیز
کوئی آہٹ ہے نہ دستک اور نہ کوئی انقلاب
(خوشی محمد طارق)
مرے دیار کی قسمت میں شام لکھا ہے
کبھی فساد کبھی قتلِ عام لکھا ہے
میں اپنی جان ہتھیلی پہ لے کے پھِرتا ہوں
نہ جانے کون سی گولی پہ نام لکھا ہے
(جمشید خان دُکھی )
لہو لہو سہی دل دیکھ چشم نم نہیں ہے
ہمارا حوصلہ تیرے ستم سے کم نہیں ہے
قلم ہوئے ہیں کئی سر بجُرمِ حق گوئی
سرِ قلم ہے ستادہ جو اب بھی خم نہیں ہے
(ظفر وقار تاج ظفر)
اِس بے وفا سے شہر کے ماحول میں شکیل
تجھ کو زوالِ عصر کی پرچھائیاں ملیں
(شکیل احمد شکیل )

ظرف کا معیار نہ عہدے میں نہ پیشے میں ہے

عظمتِ فرہاد پنہاں نہ کہ اُس تیشے میں ہے
دل کے آئینے کو دھو لو تم شرابِ عشق سے
تیرا اصلی روپ تیرے قلب کے شیشے میں ہے
(غلام عباس نسیم)
خلوص و مہر کی محفل سجا کر دیکھ لیتے ہیں
چراغِ امن راہوں میں جلا کر دیکھ لیتے ہیں
بسا کر نفرتیں سینوں میں اب تک کچھ نہیں پایا
اخُوت کا حسیں پرچم اُٹھا کر دیکھ لیتے ہیں
(اسماعیل ناشاد)
دوائے دردِ جگر قوم کو پلائے جا
خوابِ غفلت سے ہر اک شخص کو جگائے جا
چراغِ عظمتِ آدم جلا کے سینے میں
آتشِ نفرتِ انساں کو پھر بجھائے جا
(اشتیاق احمد یاد)
ترے وجود کی خوشبو مہک رہی ہے ہر سوُ
وصالِ شوق میں بس جی رہے ہیں ہم
(ڈاکٹر انصارالدین مدنی )
ہم تھے ٹوٹی ہوئی کشتی کے مسافر تابِش
ہاتھ پتوار بنا کر ہی کنارے کو لگے
(رضا عباس تابِش)
مشاعرے میں حلقہ ءاربابِ ذوق گلگت اور شعراءکی خدمات پر لکھی ہوئی نظم کو غلام عباس نسیم اور عبدالحفیظ شاکر نے ترنم میں پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔
چیری ڈے کے موقع پر غلام عباس نسیم نے کہا کہ جن شعراء، ادیبوں اور صحافیوں نے اس محفل میں شرکت کی اس سے مجھے بہت طمانیت ہوئی ۔ مگر کچھ دوست جو اس دارِ فانی میں اب نہیں رہے اُن کی کمی شِدت سے محسوس کی گئی جو چیری ڈے میں ہمیشہ شریک ہوتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ و ہ جسمانی طور پر یہاں موجود نہیں ہیں مگر ان کی حسین یادیں اور باتیں آج ہمارے ساتھ خوشبو کی مانند شریک ہیں انہوں نے معروف فوٹو گرافر و سماجی شخصیت مرحوم کریم جان اور ادب شناس اور زندہ دل شخصیت مرحوم پروفیسر غلام عباس کا خصوصی ذکر کیا۔

چیری ڈ ے کی یہ ادبی و علمی محفل نہایت شاندار اور یادگار رہی ۔ جس میں شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ خطّے میں امن و امان کے قیام اور اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ۔ گلگت میں آج بھی حالات سازگار نہیں ہیں لیکن یہ شعراءاور ادیب اس شورش ِزدہ ماحول اور گُٹھن میں بھی ایک دوسرے سے مل کر نفرتوں کو دور کرنے اور محبت کو عام کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ اس محفل میں گلگت بلتستان کے تینوں مسالک کے احباب نے خوشبوﺅں اور تازگی میں بسے ایک گُلدستے کی مانند دل و جان سے یکجا ہو کر شرکت کی۔

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو
خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: