Sat. Dec 5th, 2020

توہین آمیز فلم کے خلاف گلگت میں طلبا اور اساتذہ کا احتجاج

جاگیر بسین گلگت (پ۔۔ر) نارتھ لینڈ پبلک سکول جاگیر بسین نے توہین آمیز فلم کی اشاعت کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں جاگیر بسین کے تمام پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، مختلف سکولوں کے طلباءو طالبات نے اپنے اپنے سکولوں سے احتجاجی ریلیاں نکالی ۔ ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر امریکہ مردہ باد، اور توہین آمیز فلم بنانے والوں کے خلاف مختلف نعرے لکھے ہوئے تھے ۔ اس احتجاجی ریلی میں  نارتھ لینڈ پبلک سکول جاگیر بسین، پھول پبلک سکول جاگیر بسین، اقراءپبلک سکول جاگیر بسین، گورنمنٹ ہائی سکول بوائز جاگیر بسن کے طلبار و طالبات کی کثیر تعداد نے حصہ لیا ۔۔ ا حتجاجی ریلیوں کی قیادت سکول کے اسا تذہ اور پرنسپل صاحبان کر رہے تھے۔ تمام احتجاجی ریلیاں بچنار چوک راجہ بازار جاگیر بسین پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گیے جہاں مختلف ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس جلسے مین شریک ہوئے اور اپنے دینی جذبات کا اظہار مختلف نعروں سے کیا جلسے سے تمام سکولوں کے ہیڈ پرنسپل صاحبان نے خطاب کیا ۔
خطاب کے دوران مقررین نے امریکہ کو دنیا کا نمبر ون دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ امر یکہ مختلف بہانوں سے مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اور موجودہ حکمران امریکہ کے بوٹ چاٹ رہے ہیں احتجاجی جلسے نے امریکہ حکومت سے مطالبہ کیا کی اس ملعون کو سر عام پھانسی دی جائے جس نے مسلمانوں کے آقا اور رسول محمد صلم کی شان مین گستاخانہ فلم کی اشاعت کرکے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیا ہے ۔۔اس جلسے میں اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین نے امریکہ کا جھنڈا اور اس ملعون فلم بنانے والے کا پتلا  بھی نذر آتش کیا
۔جلسے سے خطاب کرنے والوں میں  ہدایت اللہ آختر ایڈمنسٹریٹر نارتھ لینڈ پبلک سکولز گلگت، عثمان غنی پرنسپل چلڈرن ویلفیئر اکیڈمی جاگیر بسین، صادق صاحب مدرس ہائی سکول بوائز جاگیر بسین۔ عبدلمجید مدرس نارتھ لینڈ پبلک سکول جاگیر بسین اور شیر اللہ مدرس نارتھ لینڈ پبلک سکول جاگیر بسین شامل تھے۔
جلسہ تین گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتامی دعا کے ساتھ پر امن طور پر منتشر ہوا۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: