Fri. Dec 4th, 2020

علی آباد ہنزہ کے مسایل

گلگت (شاھین ا ختر) سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی وزیر بیگ کا آبائی گاوں علی آبادہنزہ مسائل کا شکار ہے علاقے کے عوام نے وزیر بیگ سے امید یں وابستہ کر کے انھیں اقتدار میں لایا مگر انھوں نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہاں کے عوام سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ میڈیا سے گفتگوں کرتے ہوئے یہاں کے عمائدین اجلال حسین ارگنایزر آل پاکستان مسلم لیگ ہنزہ نگر، شیراللہ،علی قمبیر،ابراہیم بیگ،سماجی کارکن غلام رسو ل اورنمبردار فدا کریم نے بتایا کہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث علی آباد مسائل کا گونسلہ بنا ہوا ہے۔ علاقے کے عوام نے اس امید سے اُنھیں ووٹ دیا تھا کہ وہ اقتدا میں آ کر عوامی خدمت کرئینگے اور عوامی مسائل کا حل نکالنیگے مگر انھوں نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہ دی جس کی وجہ سے عوام ان سے ناامید ہو چکی ہے۔علی آباد کے عمائدین نے میڈیا کو بتایا کہ سابقہ حکومتوں کی دور میں علی آباد میں ترقی ہوئی اور علاقے کے لوگ خوشحال ہوئے مگر موجودہ دور حکومت میں بجا ترقی کے علاقہ مسائل کا شکار ہے انھوں نے کہاعلی آباد ہنزہ نگر کا سنٹر اور شہری علاقہ ہونے کی وجہ سے غیر مقامی لوگوں کا رش میں روز بروزاضافہ ہونے کی وجہ سے سالوں سال علی آباد گنجان علاقہ بن گیا ہیں جس کے حساب سے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں انسان کی سب سے بنیادی ضرورت پانی کا نظام درہم برہم ہو چکا پہاڈوں سے بہہ کر آنے والا پانی بغیر فلٹر کے استعمال کیا جا رہا ہے علاقے میں کوئی فلٹر پلانٹ نہیں جس کے زریعے عوام کو صاف پانی میسر ہو سکے اور علاقے کے جو عوام کوآلودہ اور گدلاپانی پینے پر مجبور ہیں جو بیماریوں کا مرتکب بنی ہوئی ہیں ۔

۔علی آباد کے عمائدین نے میڈیا کو بتایا جب سے چاےئنہ نے کے کے ایچ کی مرمت کا کام شروع کیا ہے علاقہ گرد وغبار سے گیرہ ہوا ہے جبکہ شاہرہ قراقرم ہائی وے کی مرمت کا کام شروع ہونے سے قبل چائنہ کمپنی کے ساتھ باقاعدہ طے ہوا تھا کہ روڈ کے کام شروع ہوتے ساتھ ہی روزانہ ضرورت کے مطابق ٹنیکروں کے زریعے پانی چھٹکایا جائے گا مگر انھوں نے کام شروع کرنے کے بعد ایک دفعہ بھی اس عمل پر عمل درآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہو رہیں علی آباد کے عمائدین نے میڈیاکو بتایاکہ اس سال روڈ کی مرمت کے دوران اوڈنے والی گردوغبار انسانی صحت کے لیے مضر بنے کے ساتھ ساتھ روڈ ساتھ لگائے گئے پھل دار درختوں کے لیئے بھی نقصان پ پہنچا ہیں ان درختوں پر لگے ہوئے پھل بھی ڈسٹ کی وجہ سے خراب ہو گئے ہیں اس علاقے کے بہت سے افراد پھل اور سبزی بئچ کر اپنا رزق روزی کماتے تھے مگر اس سال گرد وغبار کی وجہ سے سارا پھل اور فروٹ ضائع ہوگیے ہیں اور پورا علاقہ گرد وغبار میں ڈوب چکا ہیں جس سے دمہ ،پھیپٹرے اور گلے کی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔علی آباد میں الودگی اور الودہ پانی کی وجہ سے بیماریاں تو عام ہیں مگر ان بیماریوں سے نمٹنے کے لیئے علاقے میں صحت کی سہولیات کی فقدان ہیں زمانہ قدیم کا بنایا ہوا ایک ڈ سپنسری نماں گورنمنٹ ہسپتال تو موجود ہیں مگر سہولیات سے خالی عمارت بھوت بنگلے کا منظر پیس کر رہا ہیں۔

علی آباد کے عمایدین نے میڈیاکو بتایا علی آباد میں آب پاشی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہیں آبادیوں تک پانی نہ پہنچ پانے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں کے کے ایچ کی مرمت نے یہاں کے مقامی باشندوں کو عذاب میں ڈالا ہوا ہیں اور علاقہ ویران ہو چکا ہیں

علی آباد میں گورنیمنٹ سکولوں میں تعلیم کے کوئی بہتر انتطامات نہیں جس کی وجہ سے غریب والدین بھی اپنے بچوں کو بھاری فسیں دے کر پرائیوٹ سکولوں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں علی آباد کے عوام نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہیں کہ اگر حکومت نے یہاں کی غریب عوام کی سہولت کے لیے سکولز بنائے ہیں تو ان کے اندر معیاری تعلیم پر بھی زور دیں۔

علی اباد ضلع ہنزہ نگر کا کاروباری اور انتظامی مرکز ہونے کے باوجود علاقے میں بجلی کے ناقص انتظامات ہیں. یہاں پر سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کی برمار ہیں اور کہی کاروباری مراکز ہیں مگر اس کے باوجود محکمہ پی دبلیو ڈی کی نا اہلی نے یہا ں کے عوام کو بجلی کی معیاری سہولیات سے محروم رکھا ہیں عوام کو بے وقوف بناکے کے لیے بجلی تو دی گئی ہیں مگر ۲۴ گھنٹے میں صرف ۲ گھنٹے کے لیے بجلی دی جاتی جس سے یہاں کے عوام سخت پریشان ہیں

علی آباد کے عمائدین نے صدائے گلگت کو کہا کے کے ایچ کی مرمت کے لیے روڈ پر واقع دوکانیں اور گھروں کی عمارتیں توڈ دی گئی اور بعض لوگوں کی آباد زمینیں کے کے ایچ کی نظر ہو گئی پھل دار درخت کا دئیے گئے پڈوارئیوں کی ملی بگت سے زمینوں کے معاوضے زمین مالکان کی حق کے مطابق نہیں ملے یہاں کے عوام نے اب بھی مطالبہ کیا ہیں کہ علی آباد میں کے کے ایچ کی زد میں آنے والی زمینوں کا دوبارہ ناپ تول ہونا چاہے۔

حکومت نے علی آباد کی غریب خواتیں کو بنظیر انکم سپورٹ پروگرام فنڈز سے بھی یہاں کے خواتین کو محروم رکھا ہیں اصل حق داروں کی بجاے pppکے جیالوں اور اثر رسوخ  رکھنے والوں میں فنڈز تقسم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے غریب اور بیوہ خواتیں احساس کمتری کا شکار ہوئی ہیں

میڈیا سروے کے دوران سلطان جان صدر بزنس ایسوسیشن علی آباد نے گفتگوں کرتے ہوئے کہا کہ علی آباد کے کے ایچ کی مرمت کی وجہ سے علی اباد میں کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہیں بازار کے علاقے میں کے کے ایچ کی مرمت ہونے کی وجہ سے روڈ پر پیدل چلنا وبال جان بن گیا ہیں روڈ کی ٹوٹی پھوٹی حالت اور گرد وغبار کی وجہ سے گاہک کی رش میں بھی کمی ہوئی ہیں اور سارا دن دوکاندارس گاہک کا انتظار کر کے سام کو گھروں کو لوٹ جاتے ہیں انھوں نے مزید بتایا عطاآباد جھیل کی وجہ سے چایئنہ کا کاروبار بھی ختم ہو چکا ہیں چایئنہ کاروبار سے منسلک تاجروں کا دیوالیہ ہو چکا ہیں گلگت کی حالات کی وجہ سے بھی علاقے کی کاروباری زندگی پر برا اثر ہوا ہے غیر مقامی تاجر عدم تحفط کا شکار ہیں حکومت عوام اور تاجروں کی تحفط فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں

صدائے گلگت سے گفتگوں کرتے ہوئے ناراض رہنما پیپلز پاٹی ہنزہ نے بتایا پیپلز پارٹی پر جان قربان کرتا تھا لیکن موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور غلط پالسیوں کی وجہ سے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملی رہا سارے حکمران لوٹ کسوٹ میں لگے ہوئے ہیں وزیراعلی گلگت بلتستان صرف اپنے ہی علاقے کی ترقی کے بارے ہیں سوچتے ہیں گلگت بلتستان کے باقی حلقے ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔

صدائے گلگت سے گفتگوں کرتے ہوئے علی آباد کے عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ  وہ علی آباد کے مسائل پر توجہ دیں جس طرح وزرآعلی گلگت بلتستان سکردو کے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں اسی طرح سپیکیرگلگت بلتستان اسمبلی قانون سازاسمبلی بھی اپنے حلقے پر توجہ دیں کیونکہ یہاں کے عوام اب اپنی حق کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے اس سے قبل اپنی حق کے لیے آواز اٹھانے پر یہاں کے عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور اسسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے موجودہ حکومت کے دور میں اپنی حق کے لئے آواز اٹھانا بھی گناہ ہے۔

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: