Fri. Jul 30th, 2021

Pictorial – Large part of Shishkat Village remains under water since January 4, 2010

A large portion of Shishkat Village was submerged after the deadly January 4th landslide at Attabad blocked the flow of the Hunza River in 2010. Six years have passed since the deadly landslide disaster, but even now a large portion of Shishkat is under water.

Moreover, the farmers who lost their fields, orchards and other properties remain uncompensated. Many families are still forced to live in tinned shelters within Shishkat, as well as in Aliabad town, in central Hunza.

This photo feature highlights the plight of the farmers and land owners of Shishkat and other affected village of the Gojal Valley, Upper Hunza, who are waiting for government support.

All photographs have been taken by Noor Pamiri.

Shishkat Gojal Hunza (8)

Two rafts anchored near Shishkat were being used by a Chinese construction company to transport heavy machines and construction material. 
Shishkat Gojal Hunza (6)

Many displaced families still live in tinned shelters.

Shishkat Gojal Hunza (5)

A prayer hall and community center is partially submerged.

Shishkat Gojal Hunza (4)

A large portion of the resurfaced land in the village remains uncultivated. 
Shishkat Gojal Hunza (2)

Thousands of trees were also destroyed by the blocked river.

Shishkat Gojal Hunza (1)

More than a thousand people became displaced after their houses were either destroyed or dismantled due to the fear of the surging water

1 thought on “Pictorial – Large part of Shishkat Village remains under water since January 4, 2010

  1. سانحہ عطا آباد تھا تو قدرت کی طرف سے ایک آفت مگر گوجال کے خیر خواہوں نے اسے گوجالیوں کے لئے ازیت کا سامان بنایا۔ اس سانحہ نے گوجالیوں کی زمین کو نہ صرف ڈبویا بلکہ بعض سرکاری اداروں اور سیاست دانوں کے ضمیر کو بھی ڈبویا۔ ملک دشمنوں نے تو اس سانحہ کو پاکستان کی معشیت پر کاری ضرب لگانے کے لئے بہترین آلہ سمجھا مگر افسوس صد افسوس کہ دشمنوں کے اس ناپاک عزائم کو عملی جامعہ ہمارے ملک کے نامور سرکاری اداروں، سیاست دانوں اور بیوروکریٹ اور نہ جانے کتنے مقامی و غیر مقامی افراد نے پہنایا۔اس سانحہ سے گوکہ ہم بہت کچھ اچھے نتائج اخذ کرکے اپنی زنگیوں کو مزید بہتر طریقے سے گزارنے کے سلیقے سیکھ سکتے تھے۔ مگر ریلیف، معاوضہ، یا امداد کی شکل میں مختلف اژدہوں نے ہمارے اقدار، کلچر، لحاظ ، مروت، خیال داری، رضاکارانہ خدمت اور نہ جانے کتنے اوصاف کو نگل لیا کہ اس کو بحال کرنے میں برسوں بیت جائے۔ مگر امید پر دّنیا قائم ہے ہمیں ان اوصاف کو دوبارہ اپنے اندر پیدا کرنے میں صرف ایک ٹول کی ضرورت ہے اور وہ ہے اپنے ضمیر کو جھنجوڑنا! لہٰذا آج ہم اس یوم ِ سیاہ کو مستقبل کی بہتری اور ترقی کے لئے سنگ میل تصور کرکے گوجال کے غیور عوام کو امید کی کرن دکھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے نوجوانوں کو سیاسی لحاظ سے خود کو مضبوط اور مخلص لیڈرشپ کی پیداوار اور تلاش کا عزم کرنا ہوگا۔ نہ کہ چلے ہوئے کارتوسوں کو مسلسل آزمائیں۔ ہر نوجوان کو صرف نوکری کے متلاشی نہ بننا ہے بلکہ ہر نوجوان خود کو لیڈر تصور کرکے اس معاشرے کو سنبھالنے اور مثبت سمت میں لے جانے کے لئیے کردار ادا کرنے کی ضرور ت ہے۔ خدا ہم سب کو دوبارہ کسی ایسے امتحان سے نہ گزارے۔ آمین!

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.