Thu. May 19th, 2022

بیٹی کو جہیز دینا ہے …. خیرات دیجیے

آج صبح دفتر جاتے ہوے ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھا جوکشمیر ہاۓ وے پر ایک سگنل کے نزدیک  ہاتھوں میں  پلے کارڈ لیے سڑک کنارے ایک چوٹھے بچے کا کاندھے پر  ہاتھ رکھے کھڑا تھا. گاڑی  رکی تو میں نے پلے کارڈ پر لکھے عبارت کو پڑھا . لکھا ہوا تھا…

“2 دن بعد 2 فروری 

بیٹی کی شادی | پہچان والو، جھوٹ ہو تو اللہ اس 

نابینا کو ذلیل کرے. بے دین ہو کر مرے. یہ سامان ان کی 

قبر کا نور آخرت کا ساتھی نہیں. 

جمع =5  ہزار 

باقی خرچہ = 12 ہزار 

پنکھا، برتن، سلائی مشین، کپڑے” 

دل پسیجا. ہمارے ایک دوست نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور بچے کی طرف بڑھایا. دوسرے دوست نے بھی دینے کی کوشش کی. سگنل کھلا. کار چل پڑی. بچہ خود کو بچاتے ہوے آگے نکل گیا.

دوستوں نے کچھ دیر تک، شاید بزرگ کی حالت زار کے اثر تلے ، خاموشی اختیار کی.

تھوڑی دیر بعد ایف -ایم ریڈیو پر ٩ بجے کی خبریں نشرہونے لگیں.

میموگیٹ …. حنا ربانی  …… صدر زرداری …. جنرل کیانی …. سے ہوتے ہوے خبروں نے “عالمی” رنگ پکڑ لیں. اور گویا ہمیں بھی ایک دوسرے عالم میں پہنچا دیا.

ہم نے  اس بزرگ اور انکی بیچارگی کو بھلا دیا.

مجھے ایسا لگتا ہےکہ نابینا بزرگ کے ہاتھوں میں موجود یہ پلے کارڈ ہمارے معاشرے کا  رپورٹ کارڈ بھی ہے. اور یقینا اس رپورٹ کارڈ کے مطابق بحیثیت معاشرہ ہم کمزوروں کے حقوق کا دفاع نہیں کر پاۓ ہیں. فرسودہ رسومات کی ماری خلقت اپنی بیٹی کسی کے حوالے  کرنے کے لیے بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہے. بے حس معاشرے کے پتھر دل بیوپاری بیٹوں اور بیٹیوں کو ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کی تگ ودو میں لگے ہیں.

ریاست اور حکومت جہیز کے خلاف قانون سازی میں ناکام رہے ہیں اور اگر کوئی آدھی ادھوری قانون سازی ہوئی بھی ہے تو اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکامی ہے.

کامیابی اگر ہے تو نوکری کو طوالت دینے میں، محلاتی سازشوں میں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں، نفرتیں بڑھانے میں  اور فن تقریر و تحریر میں.

عمل کی موت ہو چکی ہے.

اسی لیے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے. دوائیوں نے موت بانٹنا شروع کر دیا ہے. کسان خودکشی کر رہے ہیں. بہت سارے ڈھیٹ ایسے بھی ہیں جو تمام دشواریوں کے باوجود زندہ رہنا چاہتے ہیں. وہ اپنی اولاد کو جنس وافر کی طرح بازار میں لارہے ہیں.

ہزاروں افراد کشکول گدائی تھامے چوراہوں پر دعائیں تقسیم کر رہے ہیں اور سکے جمع کر رہے ہیں. سارے شاید اصلی ضرورت مند نہیں لیکن بہت سارے حقیقی ضرورت مند اور “مستحقین” ہیں.

ان نظر آنے والے فقیروں اور پاکستان کے بیشتر عوام کی جھولی میں یہ حکمران طبقہ “گڈ گورننس” کے ذریعے کچھ نہ کچھ ڈال کر خود کو تھوڑی دیر کے لیے بچاسکتے ہیں. لیکن لگتا ایسا ہے کہ ملتجی نگاہیں اور پھیلے ہاتھ ایک دن، مکا بن کر، سڑکوں  پراپنی بے بسی کا حساب ان نالائق اور مکار حکمرانوں سے  لینگے. پھر ان پاکستانی قذافیوں کو بھی کسی ہجوم کے آگے ہاتھ جوڑنا پڑے گا. لیکن معافی شاید ان کو بھی نہ ملے.

 Source: http://www.noorpamiri.com/2012/01/blog-post_30.html

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: