Sun. Nov 1st, 2020

صنفی بنیاد پر تشدد کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

گلگت(نمائندہ خصوصی)خواتین کے حقوق اور ترقی کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نافذ العمل قوانین اور معاہدوں کو جلد از جلد گلگت بلتستان میں بھی نافذ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار یاسمین نظر پارلیمانی سیکریٹری برائے منصوبہ بندی ،قانون اور تعمیرات نے بحیثیت مہمان خصوصی ڈیولوشن ٹرسٹ فار کمیونٹی ایمپاورمنٹ (DTCE) اسلام آباد کے زیر اہتمام ’صنفی بنیاد پر تشدد ‘کے موضوع پر گلگت میں منعقد ہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ خواتین اپنے حقوق کیلئے اور صنفی تشدد سے بچنے کیلئے آواز بلند کریںاور اس سلسلے میں مرد حضرات بھی خواتین کی حوصلہ افزائی کریں۔انھوں نے ڈی ٹی سی ای اور دیگر تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا جو اس پروجیکٹ کیلئے تعاون فراہم کر رہے ہیں ۔

سیمینار سے (DTCE) کے سینئر ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر شیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین کے قومی دن (12فروری)کی مناسبت سے منعقدکیا گیاہے۔انہوں نے اپنی پریذینٹیشن میں صنفی بنیاد پر تشدد پر روشنی ڈالی اور صنفی بنیاد پر ہونے والی تشددکی اقسام پر بات چیت کی اور کہا کہ پاکستان اور گلگت بلتستان میں بھی صنفی بنیادوں پر تشدد ہوتا ہے جس کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کرنے اور عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے صوبائی کوارڈینیٹر اسرار الدین ،سابق ممبر ضلع کونسل گلگت پروین علی جان ،لیڈی ٹیچر وسماجی کارکن زیب النسائ، تمغہ شجاعت محترمہ نسرین ناصر اور دیگر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق اور صنفی بنیاد وں پر تشدد کو روکنے کیلئے ہر سطح پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سیمینار کے اختتام پر سیمینار کے شرکاءنے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے اپنے دستخط ثبت کئے کہ 90 فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں جیسے کہ مار پیٹ ،ذہنی تشدداور جنسی تشدد ۔اگر آپ ایسا ہوتے دیکھیں تو اس کو روکیں یا پولیس کو اطلاع دیں‘۔ یہ سیمینار امریکی عوام کی حمایت کے بین الاقوامی ادارے یو ایس ایڈ کے مالی تعاون جبکہ عورت فاونڈیشن اور ایشیاءفاونڈیشن کے باہمی اشتراک سے صنفی مساوات پروگرام کے تحت (DTCE) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: