Mon. Jun 21st, 2021

آہ …صدآہ! گلگت جل رہا ہے

مبارک ہو! اے وہ جنہیں اس علاقے کا امن کبھی نہیں بھاتا، آج تمہاری روحیں آسودہ ہیں، تمہارا دل خوش ہے اور تمہاری مرادیں پوری ہونے کو ہیں اور تمہارے آقا بھی تمہیں تھپکیاں دے رہے ہیں۔ بس تم خوش رہو۔ کوئی بات نہیں کہ گلگت میں آگ لگے، دھواں اُٹھے، عورتیں بیوہ ہوجائیں، بچے یتیم ہو جائیں اور سہاگ لُٹیں۔  آج تین اپریل شام کا وقت ہے۔ دن بھر گلگت اور چلاس میں انسانوں کا خون بہتا رہا اور میری آنکھوں سے بھی خون کے آنسو بہتے رہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں فطرتاَ بزدل واقع ہوا ہوں۔سارا دن گھر میں ہی کبیدہ خاطر حالات پر کُر ھتا رہا۔ ضلع دیامر سے تعلق ہونے کے باوجود فائرنگ اور اسلحہ سے ڈر لگتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے قلم اور کاغذ کے ساتھ واسطہ پڑا ہے اور عنفوان شباب کے سب سے خوبصورت ایام کراچی میں تعلیم و تعلم میں بِیتا یا ہے۔ ۳ پریل ۲۱۰۲ ءکو سارا دن گھر میں ہی گزارا ، پَر پَل پَل کی خبر سے باخبر رہا۔ اتحاد چوک گلگت میں دستی بم حملہ اور فائرنگ میں شہید ہونے اور زخمی ہونے والوں کی دلخراش نیوز ہو یا چلاس (یشوکَل داس) میں وحشت زدوں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کی دلدوز خبروں نے مجھے ذہنی طور پر مفلوج کررکھا ہے۔ میں ان کا نوحہ لکھنے بیٹھا ہوں۔ معلوم نہیں لکھ پاونگا کہ نہیں ۔ بس ملول طبع اور آزردہ دل کی آہیں ہیں قبول کرلیجئے گا، مستحضر ہی سمجھ کر۔
نفرت کی لکیریں کھینچی جاچکی ہیں، بے سود جنگ میں سیاست دانوں اور مذہبی رہنماو¿ں کے بیانات، تقریروں، احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور مطالبوں میں شدت آچکی ہے۔مختلف مسالک اور علاقوں میں محاذ ارائی کا سلسلہ چل نکلا ہے جس کے باعث علاقائی نظم و نسق ابتری کا شکار ہے۔ شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے جبکہ زرداروںاور ”شاہوں“(کرم شاہ اور مہدی شاہ) کے لئے عیش و طرب کے نئے نئے راستے کھل گئے ہیں اور ان کے پٹھوں بھی بغلیں بجا رہے ہیں اور میڈیائی ذرائع سے ملنی والی اطلاعات پر انحصار کرکے کسی میڈیا کے نمائندے کو فون کرکے سپرلیڈ لگانے کی تلقین کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فریضہ ادا کیا۔ تضادات و اختلافات نے معاشرے کو ایک ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہر آدمی حالات سے شاکی ہے۔یوں لگتا ہے کہ کوئی بڑی افتاد پڑنے والی ہے۔عوامی نمائندوں پر سے اعتماد آٹھ چکا ہے اور ان کی عوام دوستی کا سارا بھرم کھل گیا ہے۔لوگ منافقت کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں ۔ انہیں شدید احساس ہو چکا ہے کہ گلگت بلتستان کی بقا سیاسی راست بازی،سیاسی شائستگی اور مذہبی لیڈروں کی وسعت ظرفی اور کشادہ دلی میں مضمر ہے مگرسیاسی ومذہبی رہنما ان اوصاف حمیدہ سے عاری نظر آتے ہیں۔ دل و دماغ میں انگاروں کی مانندسوالات اُمڈ رہے ہیں۔ہر ایک اپنی راگ الاپ رہا ہے۔مشترکات کی بات کرنا جرم بن گیا ہے۔اور ایک طبقہ جس کا نام لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ان تمام سیاسی ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں اور مسلکی ٹائیں ٹائیں فشوں پر ہنس رہا ہے اور ان کی بچگانہ حرکتوں سے محظوظ ہورہا ہے۔ ہے کوئی خلقِ خدا میں ؟کہ ان کو لگام دے ۔اور ہے کوئی سچا راوی؟ جو جان ہتھیلی پر رکھ کر ان کے خبث باطن کو ظاہر و باہر کرے اور ہے کوئی اعلیٰ ادارہ ؟ جو اُن کی انسان کشی پر سویوموٹو ایکشن لے۔شاید بالکل بھی نہیں۔
میرے ہمسائیگی میںایک لاش ہے۔آہ !!! مجھ میں لاش دیکھنے کی ہمت کہاں اور وہ بھی 12سالہ معصوم بچے کی۔۳ اپریل کو اتحاد چوک میں دستی بم حملے میں شہید ہونے والے 12 سالہ ندیم کے عزیز واقارب کی آہیں سنی تو کلیجہ منہ کو آگیا اور دل پھٹنے لگا۔ندیم ولد عبد الحکیم ساکن بارگو گلگت آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔ اُف! آج کا دن کتنا بدقسمت دن ہے۔اب تک کی اطلاعات یہ ہیں کہ کشروٹ ہسپتال میں چالیس زخمی کرّاہ رہے ہیں اور سات معصوم لوگ داعی اجل کو لبیک کہ چکے ہیں۔ چلاس ہسپتال میں ۹ بے گناہ مسافروںکی بے یار و مدگار لاشیں چیخ چیخ کر دہائیاں دی رہی ہیں کہ ہے کوئی اس دھرتی میں جو انصاف مہیا کرسکیں۔چلاس اور گوہرآباد کے علماءو سرکاری انتظامیہ نے سینکڑوں محصور مسافرین کو لے کر گلگت روانہ ہو چکے ہیںامید ہے کہ ان کو عافیت سے ان کے مسکن تک پہنچایا جائیگا۔ اور کتنے ہیں جو ضلع ہنزہ نگر اور دیامر میں محصور ہیں۔ ان کے بارے میں درست معلومات کسی کے پاس نہیں۔ اور نہ ان کی حفاظت کا کوئی مناسب بندوبست۔ آہ ندیم شہید ! تم تو خوش قسمت ہو کہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے مگرلواحقین کو تم وہ بھاری زخم و گھاو¿ دے گئے کہ جو کبھی مندمل ہونا والا نہیں۔یہ ایک ندیم کی بات نہیں۔ آج ایسے کئی ندیم ہیں جو اپنے اپنے اقارب کو گہرے زخم دیکر کہی دور جاچکے ہیں۔ بہت ہی دور جہاں ملاقات موت کے بعد ہی ممکن ہے۔قارئین میں لکھتے لکھتے یہاں پہنچ گیا تھا کہ ندیم کی لاش ایمبولنس میں دروازے کے سامنے پہنچائی گئی۔ میں نے قلم کاغذ چھوڑا اور بھاگ کران کی میت تک جاپہنچا اور صرف اور صرف تین سیکنڈ اُن زیارت کی۔اس سے زیادہ کی مجھ میں تاب کہاں۔۳۱ سالہ شہزاد عالم ولد عبد الرحمن ساکن گونرفارم بھی بم حملہ اور فائرنگ میں شہید ہوئے۔ ہائی سکول نمبر 1 گلگت کے ہفتم کلاس کا اسٹوڈنٹ تھا۔ کتنے معصوم چہرے، حساب کتاب سے بالکل پاک و صاف، میں اس وقت لکھ رہا ہوں مگر آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں جار ی ہیں۔
عجب تفاوت ہے کہ چلاس میں ایس پی جمشید صاحب مسافروں کی حفاظت کرتے کرتے شدید زخمی ہوئے اور گلگت میں اس کا بھتیجا شہزاد عالم سفاک قاتلوں کے ہاتھ جام شہادت نوش کر گئے، کنوداس قبرستان میں شہزاد عالم کا والدمیرا ہاتھ تھام کر دعا کی درخواست کر رہے ہیں اور میرے ہمسائیگی سے ندیم کے ماوں ، بہنوں ،دادیوں ،نانیوں،ٍخالاو¿ں کی آہ و بکا کی آوازیں آرہی ہیں۔کہی دور سے راشد ولد جمعہ خان کے اقارب کی روح فرسا آوازیںبھی مجھے بیقرار و بے کل کر رہی ہیں۔اور کتنے شہیدوں کے پسماندگان کی گریہ و زاری مجھے بے دل و دماغ اور بے دَم کرنے کے لئے مچل رہی ہیں۔ بے شک اسلام میں آہ و بکاءکی کہاں گنجائش ہے مگر پیارے حبیب بھی تو اپنے نابالغ بیٹے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی میت دیکھ کرروئے تھے اور فرمایا تھا کہ ”یا ابراہیم انالمحزونون بفراقک“ یعنی اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر مغمو م ہیں۔
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ” لیس منا من ضرب الخدود و شقّ الجیوب و دعا بدعویَ الجاھلیة“ یعنی نہیں ہے ہم میں سے وہ شخص جو مارے( کسی میت پر) رخساروں کو اور پھاڑے گریبانوں کو اورچیخے ،چلّائے اہل جاہلیت کی طرح۔ مگرفطرت کو کہاں لے جائے۔ کیا انسان فطرت سے لڑ سکتا ہے؟ ناممکن ۔ آنسوو¿ں نے گرنا ہے۔گریبانوں نے چاک ہونا ہے اورفغاںو بکاءکی دل سوز آہوں نے بلند ہونا ہے۔آہوں کے دھوئیں نے نکلنا ہے ، نکلنا ہے ، نکلنا ہے۔ آج کے دن کتنی مائیں اپنے پیاروں پر آنسوو¿ں کی سوغات نچھاور کررہی ہونگیں۔ کتنی سہاگنیں لٹ چکی ہونگیں اور کتنے باپ اپنے بیٹوں سے محروم ہو چکے ہونگے اور کتنے بھائی اپنے بھائیوں کی جدائی میں دھاڑے مارمار کر رو رہے ہونگے۔
آہ صد آہ! انسانیت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والو! اور انسانی خون کے بیو پاریو! کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ اس کادرد کتنا سخت ہوتا ہے۔تم کیوں سوچو گئے ۔ تمہارا تو کچھ نہیں بگڑا ہے نا۔ تمہارے کسی عزیزکا خون تونہیں بہا ہے نا۔اے و ہ حکمرانو! اسلام آباد کے نرم گرم بستروں پرتمہیں نیند کیسے آتی ہے؟ کیا تمہارے سینے میں دل نہیں ہے؟ کیا تم انسانی فطرت سے انکاری ہو؟کیاخلق خدا کو اس طرح کٹتے دیکھ کر تمہار دل نہیں پسیجتا ہے؟ کیا سرخ و سفید معصوم چہروں پر لگاحنائی خون تمہیں جھنجھوڑنے کے لئے کافی نہیں؟کیا جان بحق ہونے والے اور موت و حیات کی کشمکش میں پڑے بے گناہ لوگوں کا دکھ ،درد اور آہیں آپ کی نیندیں اُڑانے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ کیا یہ خونی تماشے دیکھ دیکھ کر تمہارا دل اکتا نہیں گیا ہے؟
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان خونیں معاملات و واقعات کا اعلی ترین سطح پر غور کیا جائے اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور دن دہاڑے لوگوں کو مارنا اور اسلحہ کی نمائش کرنے والے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے جیسی مکروہ روایات کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا جائے۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ گلگت بلتستان کو مقتل بنانے والوں کو بے نقاب کیا جائے اور عوام کو بتلایا جائے کہ اس دھرتی میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والا اصل طبقہ کون ہے۔حکومت، عوام، عدلیہ و انتظامیہ اور فوج کو مل کران پُر تشدد واقعات کے حوالے سے بے لاگ تحقیق کا اہتمام کرنا چاہیے اور جو بھی ملوث ہو اس کا محاسبہ ہونا چاہیے اور آئندہ اس سے حدود میں رکھنے کے لئے سخت اقدامات کرنے چاہیے ۔ اگر ایسانہیں ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ اب تو آگ اور خونی کھیل کا ابتداءہے انتہا کیا ہوگی۔ فاعتبروا یااولی الابصار
—————————————————————————————————————————————-
مضمون ہذا تین اپریل کو لکھی گئی تھی لیکن کرفیو کی وجہ سے اسی بروقت اشاعت کے لیے نہیں بھیجا جاسکا. ادارہ
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: