Wed. Oct 28th, 2020

کرفیو اور پابندی

کرفیو کا لفظ پڑھتے ہی قاری یہ سمجھ بیٹھے گا کہ اب کرفیو کے مخالفت میں دلائل اور اس کے نقصانات بیان کیے جائیں گے۔ مگر ہمارا ارادہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ غور سے اگر یہ کالم پڑھا جائیگا تو اس میں کرفیو کے فضائل و برکات اور ثمرات نظر آئیں گے۔گزشتہ کافی عرصے سے پاک آرمی کے جانبازگلگت شہر میں کرفیو لگا کر امن و آمان کو برقرار بلکہ امن کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ ہم قوم ہی ایسی ہے کہ بلکہ سوری ایسی قوم تیار کی گئی ہے کہ ہم کرفیو پسند ہیں۔تین اپریل کے بم دھماکے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ، اگر خدا نخواستہ آرمی بروقت اپنا رول نہ دکھاتی تو پتہ نہیں اب تک کا منظر کیا ہوتا، کیونکہ ہماری زیرک اور متین و فہیم سیاسی قیادت ”لاڑکانہ یاترا“ کے لئے پابہ رکاب تھی اور جو اس مقدس میلے میں شرکت کے لئے نہیں جارہے تھے وہ اسلام سے لبا لب بھرا شہر ”اسلام آباد“ میں اسلام کی نعمتوں اور سہولتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔رہے بیورکریسی کے اعلی دماغ آفیسر تو وہ ”گھوڑیاں بیچ “کر گہری نیند سورہے تھے اور نیچلا طبقہ نہتوں پر گولیاں برسانے میں مصروف تھا۔ اب آپ ہی بتاو¿ کہ فوج نہ آتی تو کون آتا؟ اور کرفیو نہ لگتا ہو کیا لگتا؟
جب کرفیو میں نرمی کا سلسلہ شروع ہوا تو سیاسی بونے بھی نظر آنے لگے، ماشاءاللہ۔جب فوج نے کرفیو لگایا تو گلگت کے شہریوں نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا یعنی کرفیو کے تمام لوازمات بھروئے کار لائے، مثلاََ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہ جانا، اسکولوں میں پڑھائی نہ کرنا،دوکانیں نہ کھولنا،سال بھر جن لوگوں کو چھٹیاں نہیں ملی تھی اپنے بوس کی چمچہ گیری نہ کرنے کی وجہ سے ،انہیں بغیر کسی کے احسان کے کافی دن چھٹیاں ملنے پر چھٹیاں منانا، کرفیو قوانین کے زد میں آنے والوں کا روڈ میں ناک رگڑنا، تندور سے روٹی نان لاکرکھانے کے بجائے فوجی جوتیاں کھانا، پاک آرمی کے جوانوںکو دیکھ کر بھاگنا او ر پولیس کے سپاہیوں کو دیکھ کر صلواتیں سنانا اور بہت کچھ۔۔۔۔۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کرفیو کے لگنے اور پھر نرمی کے بعدزندگی میں ایک ہل چل شروع ہونے لگی تھی مگر سیاسی قیادت نے رنگ میں بھنگ ڈالنا شروع کیا۔ گلگت اور اسکے مضافات میں لفظ کرفیو نے جتنی جلدی مقبولیت حاصل کی تھی اب ایک اور لفظ اس کی جگہ لینے لگا ہے، وہ ہے لفظ پابندی۔ مثلاََ موبائیل سروس کی بحالی پر پابندی،نماز جمع پر پابندی، (کیونکہ دونوں مرکزی مساجد پرتالے لگے ہوئے ہیں)، ہماری زیرک سیاسی قیادت نے حالات کی بگاڑ کے وجوہات معلوم کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس بلایا اور گرماگرم بحث اور طویل مشاورت کے بعدانہیں وہ تمام محرکات ووجوہات معلوم ہوئے جن کی وجہ سے حالات اسی نہج پر پہنچ گئے۔پھر انہوں نے اس کا حل چند پابندیاں عائد کرنے میں نکال ہی لیا۔مثلاَ تنظیم اہل سنت و الجماعت اور انجمن امامیہ پر پابندی،ان کی اخباری بیانات پر پابندی، دونوں مساجد میں مذہبی علماءپر پابندی اور بہت کچھ پر۔ میں چونکہ حکومت کا خیر خواہ ہوں اور ان کی ان تمام پابندیوں کے حق میں ہوں اس لئے چند اور پابندیاں تجویز کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ارباب اقتدار میری تجویز کردہ پابندیوں پرنہ صرف غور کریں گے بلکہ فوراََ عمل درآمد کے احکامات جاری بھی کریںگے۔ مثلاََ یہ کہ گلگت بلتستان کی تمام مذہبی تنظیموں پر پابندی، تمام مذہبی اجتماعات پر پابندی، تمام مساجد اور مکاتب پر پابندی، تما م علماءو شیوخ پرپابندی،رمضان المبارک اور ایام عاشورہ پر پابندی، نماز عیدین و جمعہ پر پابندی، داڑھی رکھنے پر پابندی،تسبیح اور مسواک پر پابندی، اسکول کالج اور یونیورسٹی میں دینیات کی کتب پر پابندی،اسلامی و مذہبی لٹریچر پر پابندی، اسلامی لباس پر پابندی،شیخ و ملا کے لمبے لمبے کرتے اور عماموں پر پابندی،صوم و صلوة پر پابندی، آذان پر پابندی۔ اگر مختصر کہا جائے تو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی پر ہی پابندی لگادی جائے تو بہتر ہے۔میں چیلنج سے کہہ سکتا ہوں کہ حکومت ان تمام پر پابندی لگا کر دیکھے کہ گلگت میں آمن قائم ہوتاہے کہ نہیں، لاریب کہ امن اسلام کے آفاقی قوانین و تعلیمات اور امن معاہدوں پر عمل پیراہونے سے تھوڑا قاتم ہوتا ہے۔ امن تو انہیں پابندیوں کی مرہون منت اور فوری نفاذ سے ہی قائم ہوسکتاہے۔ انتہائی غور سے دیکھا جائے تو جن جن ممالک میں ان قسم کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں وہ ترقی کے منازل طے کرکے کہاں پہنچے ہیں۔ ان کی ترقی کی ایک مثال لے لیجیے۔ وہ لنچ اور پیشاب بھی کھڑے کھڑے چند لمحوں میں کرکے اپنے آپ کو قومی خدمت کے لئے فارغ کرلیتے ہیں۔ اور ان کی زندگیاں ان قسم کے سطحی چیزوں میں مصروف نہیں ہیں جو ہمارے ہاں رائج ہیں ۔مثلاََسب کچھ کو چھوڑ کر نماز کے لئے مسجد جاو¿،بوڑھے والدین کی خدمت کا بہانہ کر کے دفتر سے رفو چکر ہوجاو¿۔مذہبی رسومات و عبادات کی بجاآوری کا نام دیکر کئی کئی دن چھٹیاں کرو اور اپنے آپ کو مخصوص خول کے اندر مقید کرو اور عبادات و اعمال کا نام دیکرگھنٹوں گھنٹوں خلوت کدوں میں رہو۔
یہاں ایک نکتہ ذہن میں رہے کہ ہم مجموعی طور پر ایک ایسی قوم ہے کہ ہم ان پابندیوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے ہیں، لہذا ارباب اقتدار اور بیورو کریسی کے روشن دماغوں سے ہاتھ جوڑ کر گزار ش ہے کہ وہ پاک آرمی سے ریکوسٹ کریں کہ وہ ان تمام چیزوں پر فوری طور پر کرفیو لگادیں۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ عوام کرفیو قوانین پر اچھی طرح عمل پیرا ہوتی ہے۔ یہ مشاہدہ کی بات ہے جب سے گلگت میں کرفیو لگا ہے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی اور نہ کسی انسانی جان کا ضیاع ہوا ہے۔ اب آپ ہی بتاو¿ کہ کرفیو سے فائدہ اُٹھانے میں حرج ہی کیا ہے۔میں یہ تمام تجویزیں میں مکمل نیک نیتی سے دے رہا ہوں ، کسی کو اجازت نہیں کہ وہ میری نیت میں فطور ڈھونڈیں۔زندگی رہی اور سرکاری فرشتوں سے محفوظ رہا تواگلی دفعہ وہ تمام چیزوں کو تفصیل سے بیان کرونگاجن کی آزادی ہونی چاہیے، کیونکہ انسان بنیادی طور پر آزاد پیدا ہوا ہے لہذا اس کو آزادی ملنی چاہیے اور آزادی کو کچلنے والوں پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہونی چاہیے ، بالخصوص وہ پابندیاں جو اوپر ہم نے تجویز کی ہیں۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: