Wed. Oct 20th, 2021

تیری یادیں

یہ غالباً جولائی کا مہینہ تھا شام رخصت ہوچکی تھی اور دھیرے دھیرے اُترتی تاریکی نے اب ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا میں اپنے صحن میں بیٹھے نہ جانے کیوں یادوں میں کھویا تھا اس وسیع و عریض آسمان کی طرف نگاہ اُٹھاکے دیکھنے لگا پتا نہیں چاند کی ابتدائی تاریخیں تھیں یا آخری پورے آسمان پر کہیں نظر نہیں آرہا تھا اور ستاروں سے کوئی جگہ خالی نہیں تھی میں یادوں میں کھویا کھویا کرسی پر پڑا تھا کہ اچانک موسم میں تبدیلی آئی اور بارش برسنے لگی میں خیالوں کی دُنیا سے بیدار ہوا مجھے احساس ہوا کہ جب خواب ٹوٹتے ہیں تو نہ چاند چہرے، چاند چہرے رہتے ہیں نہ ستارہ آنکھیں، روشن زندگی بس تاریک آسمان بن کر رہ جاتی ہے میں بڑی مشکل سے اپنے بیڈ روم تک آگیا اور کھڑکی کھول دی، نرم بھیگی ہوئی ہوا سے میرے بال اُڑنے لگے تھے بارش آہستہ آہستہ تیز ہوتی جارہی تھی میں نے دونوں ہاتھ کھڑکی سے باہر پھیلا دیے بارش کی پھوار میرے ہاتھوں کو بھگونے لگی تھی پتہ نہیں کتنے عرصے کے بعد میں نے یوں بارش کو چھوا تھا محسوس کیا تھا میں نے گہرے سانس لینا شروع کر دیا سب کچھ کتنا خوبصورت لگ رہا تھا بارش، ہوا، پھول اور زندگی!
آزاد پنچھی ہوں اُڑتا اُڑتا کہیں سے کہیں نکل جاتا ہوں، واپسی کا خیال یوں نہیں آتا کہ ابھی کوئی انتظار کرنے والا نہیں ہے بہرحال ”شاید پھر نہ ملیں ہم“ کے بعد صرف یادوں پہ زندگی بیتانی پڑی اس لئے ”تیری یادیں“ کے ساتھ ایک دفعہ پھر آپ کے سامنے ہوں۔ یہ سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ یادیں کیا ہوتی ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ اِس وقت مجھے بھی کسی کی یاد آرہی ہو بہرحال یادیں کیا ہوتی ہیں اور کیوں ہوتی ہیں یہ ایک عجیب سا سوال ہے کیونکہ ہم اکثر اوقات اپنی روزمرہ زندگی میں اِس کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں، اکثر کہا جاتا ہے کہ مجھے کسی کی یاد آرہی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یاد کیا ہے اور ہم کیوں یاد کرتے ہیں، کسی وقت کے گزر جانے کے بعد ہم جب کسی چیز کو سوچتے ہیں یا بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے وہ خیالات یا باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں تو اُس آنے والی سوچ کو ہم یاد رکھتے ہیں، جب کوئی چیز ہمارے پاس نہیں رہتی یا وقت جب گزر جاتا ہے تو ہم اُس گزرے ہوئے وقت کو یاد کا نام دیتے ہیں، یادیں دو قسم کی ہوتی ہیں اچھی اور بری ضروری نہیں کہ یادیں بری ہی ہوں کیونکہ اکثر کہا جاتا ہے کہ یادیں انسان کو اُداس کر جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے کہ اچھی چیزوں کو یاد رکھنا ہے لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بری یادیں نہیں ہوتیں اور اُن کو ہم یاد نہیں کرتے بلکہ بری یادیں تو انسان کا جینا دوبھر کر دیتی ہیں شاعر کہتا ہے
یادِ ماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
یادیں کسی بھی انسان کی ہوسکتی ہیں یا پھر مختلف ادوار اور وقتوں کی یادیں جو انسان کے ذہن میں رہتی ہیں، کبھی کسی کو ماں کی یاد ستاتی ہے تو کبھی کسی کو پردیس میں رہنے والے کی یاد آتی ہے اور کبھی گھر والی کو گھر والے کی یاد ستاتی ہے اِس طرح انسان معاشرے میں رہتے ہوئے کوئی بھی رتبہ رکھتا ہو یا کوئی بھی مقام رکھتا ہو، وہ یادوں کو فراموش نہیں کرسکتا، یادیں ہی انسان کی زندگی کا سرمایہ حاصل ہوتی ہیں، بعض اوقات ہماری زندگی کا گزرا ہوا لمحہ یاد کی صورت میں ہماری ساری زندگی پر حاوی ہوتا ہے اور وہی زندگی کا حاصل بھی جب انسان کو زندگی میں برے حالات کا سامنا ہوتا ہے یا حالات تیزی سے بدلتے ہیں اور اس کے مختلف سمت میں چلنے لگتے ہیں تو یادیں ہی اُس کا سرمایہ ہوتی ہیں، جیسے کسی بوڑھے انسان کے پاس اُس کی جوانی کی حسیں یادیں اکثر اوقات بڑھاپے میں انسان اپنی یادوں کے سہارے باقی زندگی بھی گزار دیتا ہے، یادیں انسان کی زندگی کے تجربات پر مبنی ہوتی ہیں جو حالات انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہوں وہی لمحہ بعد میں یادوں کا روپ دھار لیتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
دِل سے تیرا خیال جُدا تو نہیں کیا
رکھا جو تجھ کو یاد بُرا تو نہیں کیا
یادیں ہی ہیں جو ہمیں زندگی میں کچھ کر گزرنے کی ہمت دیتی ہیں، کیونکہ انسان اپنی زندگی میں ہر قدم پر تجربہ کرتا ہے اور پھر یادوں کی مدد سے وہ آنے والے وقت کی منصوبہ بندی کرتا ہے، جو غلطیاں انسان نے اپنے ماضی میں کی ہوتی ہیں وہ اُن سے سیکھتا ہے اور آنے والے وقت کو اُن غلطیوں سے پاک کرنا چاہتا ہے، ہم اپنی زندگی میں اچھی اور بری دونوں یادوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے کیونکہ انسان کے پاس یادیں نہ ہوں تو اُس کا حال اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے کیونکہ جو کچھ وہ کر رہا ہے یا وہ آنے والے وقتوں میں کرنا چاہتا ہے جب اُس کے پاس کوئی یاد نہ ہو یا کوئی ماضی کے معلومات نہ ہوں تو وہ آج بھی ترقی نہیں کرسکتا اور آنے والے وقت میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتا، جیسے مسلمانوں نے ہزاروں سال دُنیا پر حکومت کی، آج مسلمان اُس دور کو یاد کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کیا تھے اور آج کس تباہی کے دہانے پر آپہنچے ہیں، آج امریکہ ساری دُنیا پر راج کر رہا ہے وہ صرف مسلمانوں کی غفلت کا نتیجہ ہے جو آج ہمیں اُس سنہرے دور کو یاد کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو تباہی عراق اور افغانستان میں ہوئی اور ہو رہی ہے، مسلمان خود اس کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ آج کل ہم نے شدید یادوں کو فراموش کرنا سیکھ لیا ہے یا سیکھ رہے ہیں۔
اگر ہمیں وہ دور یاد ہوتا اُس دور کی فتوحات یاد ہوتیں تو آج یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا جو آج مسلم اُمہ کو درپیش ہے اگر ابھی بھی ہم نے اُس وقت کو یاد کرکے کوئی سبق حاصل نہ کیا تو شاید ہمیں اِس سے بھی بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اِس مثال سے ہم اِس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو قومیں اپنا تشخص کھو دیتی ہیں اور اپنا ماضی بھول جاتی ہیں اور یادوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتیں، اُنہیں اِس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو آج ہمیں درپیش ہیں، اِس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یادوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے، حقیقت میں یادیںہی زندگی کا حاصل ہوتی ہیں!!
قارئین! یہ خیالات بھی بڑے بے لگام ہوتے ہیں۔ انسان کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے۔ میں اپنی کتاب کے بارے میں عرض کر رہا تھا میں ان صفحات میں محترم محمد امین ضیا‘ خوشی محمد طارق اور سید رشید الدین سنان کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی کی انتہا ہوگی۔ تینوں قابلِ قدر شخصیات نے نہ صرف کتاب کی پروف ریڈنگ کی، بلکہ اپنے زرین مشوروں سے بھی نوازا۔ میں اُن کی محبت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری صاحب کا شکریہ کہ اُنہوں نے کتاب پڑھی اور اپنے زریں تا¿ثرات سے نوازا۔
میں اپنے بہت ہی قابلِ فخر دوست گلگت بلتستان کے مایہ¿ ناز افسانہ نگار احمد سلیم سلیمی کا اِنتہائی ممنون ہوں۔ احبابِ فکرو سخن میں آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کے افسانوں کی دو کتابیں ”شکستِ آرزو“ اور ”دشتِ آرزو“ میری ذاتی لائبریری کی زینت ہیں۔ میں جب بھی اِن شاہکار کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں مجھے آپ کی ذات سے علمی وابستگی اور ادبی عقیدت کے غائبانہ رشتے کا احساس ہوتا ہے۔ احمد سلیم سلیمی صاحب انتہائی مصروف زندگی گزارتے ہیں۔ اِس کے باوجود اُنہوں نے بڑی محبت سے کتاب پڑھی اور اِس پر تفصیلی تعارف و تبصرہ لکھ کر دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ سلیمی صاحب بے حد شکریہ۔
میں اِن صفحات میں جناب شیر جہاں میر صاحب جنرل منیجر قراقرم کوآپریٹو بینک گلگت بلتستان کے اخلاقی تعاون کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی ہوگی، آپ ایک علم دوست اور ادب نواز انسان ہیں۔ اِس کے علاوہ حلقہ اربابِ ذوق گل%

Instagram did not return a 200.