Tue. Oct 20th, 2020

سرزمین غذر – ایک نظر

پروفیسر ڈاکٹر شاہد احمد راجپوت
چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری اینڈ پاکستان سٹیڈیز 
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی‘ اسلام آباد
زیرنظر کتاب‘ (جو اب شائع ہوچکی ہے) از محمدجان‘ پڑھ کر انتہائی خوشی اور اطمینان ہوا۔ خوشی اِس بات پر کہ پاکستان کے ایسے دور افتادہ مقام کے بارے میں ایک جامع تحقیقی مقالہ پڑھنے کو مِلاجہاں تاریخ ‘ ادب‘ شاعری‘ عصر حاضر اور مستقبل کے بارے میں مصنف کے احساس اور پُرعزم تجربہ اور حوصلہ جگہ جگہ بکھرا نظرآتاہے۔ اطمینان اِس بات پر کہ یہ کتاب پڑھنے کے بعد صرف ایک شعر میرے ذہین میں آتا ہے۔
بہت دِل خوش ہوا حالی سے ملکر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
حقیقت یہ ہے کہ میں اِس کتاب کے پڑھنے سے پہلے یہی سمجھتا رہا کہ میں گلگت بلتستان کے بارے میں بہت اچھی طرح واقف ہوں۔لیکن اب میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ میری خام خیالی تھی۔ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ زیادہ تر کتابیں شمالی علاقہ جات( گلگت بلتستان) پر عمومی طور پر لکھی جاتی وہی ہیں اور اِس طرف مصنف نے بھی اشارہ کیا ہے۔
یہ کتاب محمدجان نے انتہائی عرق ریزی اور ذمہ داری کے ساتھ مرتب کی ہے۔ اِس کتاب کے آخر میں ما¿خذ کی فہرست بھی بہت زیادہ سودمند اور قابل تعریف کام ہے جو آئندہ کے لکھاریوں کےلئے ایک گرانقدر سرمائے کا کام دے گا۔ کتاب میں مصنف نے جگہ جگہ اشارہ کیا ہے کہ فلاں موضوع اور فلاح جگہ کے بارے میں آئندہ لکھا جائے گا۔ یہ اشارہ ایک طرف تو مصنف کے آئندہ کے پروگرام کے بارے میں خوشخبری دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف قارئین‘ بالخصوص گلگت بلتستان کے قارئین اور نوجوان نسل کو کئی نئے موضوعات فراہم کرتا ہے کہ وہ بھی آگے بڑھ کر اپنے ملک پاکستان کے خوبصورت ترین شمالی وادیوں کے بارے میں یوں ہی قلم اٹھاکر میدان میں اُتریں۔
یہ کتاب ملک کے حکمرانوں‘ خاص طور پرگلگت بلتستان کے حکمرانوں کو مکمل روڈمیپ برائے ترقی وخوشحالی فراہم کرتاہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے محمدجان کے روڈ میپ کی روشنی میں گلگت بلتستان کی ترقی کےلئے سنجیدہ پراجیکٹ بنائے جائیں اوراِن علاقوں کو آس پاس کے شہروں اور ممالک سے سڑکوں کا جال بچھا کر جوڑ دیا جائے۔ یہاں کی معدنیات جو آج تک چھپی پڑی ہیں اُنہیں ایک قیمتی خزانہ سمجھا جائے اور اِس کے حصول اور استعمال کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستان دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرسکے۔
مصنف کا انداز بیان سادہ اور دلچسپ ہے۔ کتاب ایک بار ہاتھ میں اُٹھالیں تو رکھنے کو دِل نہیں چاہتا۔ میں محمدجان کو اُن کی اِس کاوش پر مباکباد دیتاہوں اور اُمیدکرتاہے کہ وہ آئندہ آنے والے برسوں میں اِس قسم کے مزید کارنامے سرانجام دیں گے۔ یہ بھی دُعا ہے کہ محمدجان اور اُن جیسے مزیدنوجوان اِس کتاب جیسے بہت سے سنگ میل تخلیق کریں جن سے پاکستان کا نام روشن ہو اور پورے ملک میں امن بھائی چارے اور محبت کا سماں پروان چڑھتا رہے۔ امین

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: