Sat. Oct 31st, 2020

گلگت بلتستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مقیم گلگت بلتستان کے صحافیوں نے ایک ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا۔ جب میں نے اخباروں میں یہ خبر دیکھی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان ملک کے ہر علاقے میں اپنی صلاحتیوں کے جھنڈے گاڑھے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں اتحاد نہیں ہے‘ ہر جگہ بکھرے پڑے ہیں جس کی وجہ سے ان کو کئی مسائل کا شکارہونا پڑتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹ کراچی کے پلیٹ فارم سے کام کرتے تھے تو ہمیں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔آج سے کئی سال پہلے کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے صحافیوں نے اس یونین کا قیام عمل میں لایا تھا۔ اس کے ابتدائی ارکان میںڈیلی اسلام کے چیف رپورٹر‘ سنیئر صحافی و کالم نگار محتر م عبدالجبار ناصر صاحب،روزنامہ بانگ سحر کے چیف ایڈیٹرجناب ڈی جے مٹھل صاحب اور برادرم شہاب الدین غوری صاحب‘ وائس آف گلگت بلتستان کے چیف ایگزیٹیو جناب ایس ایس ناصری اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اس یونین کو زندہ رکھا۔۹۰۰۲ءاور۰۱۰۲ ءکو اس یونین میں بطور سینئر نائب صدر کی حیثیت سے راقم الحروف کو بھی کام کرنے کا موقع ملا۔مجھے خوب اندازہ ہے کہ کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے صحافیوں کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور کتنی سخت گھاٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اب بھی یہ یونین فعال ہے۔اب بھی اس یونین میں میرے کئی جونیئر دوست سرگرم ہیں۔ فیض اللہ فراق‘ ثمر عباس قذافی‘ اسلم انقلابی‘ فیروز خان‘ عباس وفا‘ ایس ایس ناصری‘ریاض الدین‘جان عالم اور اسلم شاہ ہنزائی وغیرہ اس یونین کے اہم حصہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر رفیع عثمانی‘ قاسم شگری‘ ریاض علی یاسینی‘ صادق حسین صادق ‘ رحمت کریم ‘تعلیم شاہ‘علی غلام اب بھی کام کر رہے ہیں۔
ملک کے دوسرے حصوں کی طرح اسلام آباد میں بھی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی‘ بہترین صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے اکثر اخبارات اسلام آباد /راولپنڈی کے طباعتی مراکز سے پرنٹ ہوتے ہیں اور ان کے ہیڈ آفس بھی عملاََ اسلام آبا د /راولپنڈی میں واقع ہیں۔ اور ایک محتاط انداز کے مطابق گلگت بلتستان کے صحافیوں کی اکثریتی تعداد بھی وہاں پر مقیم ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسا فورم ہو جہاں گلگت بلتستان کے اہل قلم او ر صحافی حضرات جمع ہوں اور آپس کے اشتراک وتعاون سے صحافتی امور کو انجام دیں۔ اس حوالے سے گزشتہ کافی عرصے سے مشاورت جاری تھی۔ جب میں اسلام آباد میں تھا تو اس حوالے سے صحافی دوستوں سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ اب جب گلگت بلتستان کے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے قیام کا علم ہوا تو دل خوشی کے بلیوں اچھل پڑا۔ بڑی خوش کن بات یہ ہے کہ اس میں باخبر صحافی شامل ہیں۔ گلگت بلتستان کے صحافیوں کی ایک بڑی ٹیم جمع ہوئی ہے۔ یہ مشاہدے کی بات ہے کہ اسلام آباد /راولپنڈی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو قدر کی نگاہ سا نہیں دیکھا جاتا تھا‘ وجہ صاف ظاہر تھی کہ ان میں اتحاد و یکجہتی نہیں تھی۔ بکھرے پڑے تھے۔ ان کی آواز اسلام آباد اور اس کے گردنواح میں دب کر رہ جاتی تھی۔ثمر عباس قذافی اور برادرم عالم نور حیدر (سینئر نائب صدرایسوسی ایشن)کے ساتھ کئی دفعہ اسلام آباد پریس کلب میں اس حوالے سے بات چیت رہی‘ وہاں کے صحافیوں کا رویہ بھی دیکھا ‘ان کا رویہ مجموعی طور پر کوئی حوصلہ افزا نہیں تھا۔ تاہم اب ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔ گلگت بلتستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان کے صحافی اب جہاں کہیں بھی جائیں گے تو ان کو ان کا جائز مقام مل جائے گا۔ ایسوسی ایشن کے قیام میں برادرم رشید ارشد(ایڈیٹر روزنامہ ہمالیہ ووائش چیئرمین ایسوسی ایشن) کا مرکزی کردار ہے۔ میں ایسوسی ایشن کے تمام عہد اروں جناب اکبر حسین اکبر‘ رشید ارشد‘کریم مدد‘ عالم نور حیدر‘شبیر حسین‘ شفقت حسین‘ زوہیب اختر‘علی شیر‘ منظور حسین اور گورنگ باڈی کے تمام ممبران کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام تحسین پیش کرتاہوں اور ان سے امید کرتا ہوں کہ وہ صحافتی اقدار کو کبھی بھی پامال نہیں ہونے دیںگے اور صحافت میں شرط اول غیر جانبداری ہے‘ انشاءاللہ وہ غیر جانبداری سے اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔
یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھونگا کہ گلگت بلتستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو اپنے لیے ایک الگ ضابطہ اخلاق اپنے علاقائی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینا چاہیے۔ کیونکہ ہمارا علاقہ ہر لحاظ سے مختلف حیثیت کا حامل ہے۔راقم الحروف نے ۹۰۰۲ ءکو گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹ کراچی کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا تھا اس سے بھی استفادہ کیا جاسکتاہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ‘ مدیران اخبار کی تنظیم(CPNA) اور دیگر صحافتی انجمنوں سے اپنی ساکھ کو برقرار رکھتے ہوئے مثبت تعلقات استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کی حکومت سے بھی گزارش کرونگا کہ اس نوخیز صحافتی ایسوسی ایشن کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے‘ یاد رہنا چاہیے کہ انہی صحافیوںکی وجہ سے بہت سے عام لوگ معروف ومشہور ہوئے ہیں ورنہ ان کو ان کے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا،ا ب وہ بڑے بڑے عہدوں پر متمکن ہیں ‘ لہذا اچھے دنوں میں اپنے دوستوں کو ضرور یاد کیا جانا چاہیے۔ میں جب کراچی میں تھا تو گلگت میں مقیم صحافیوں اور اہل قلم سے مستقل رابطے میں تھا‘ ایک دلی خواہش تھی کہ تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے علاقے میں جاکر صحافتی وا دبی برادری کے ساتھ مل کر کوئی خدمت انجام دوںگا تاہم یہاں آکر مجھے اس حوالے سے کافی مایوسی ہوئی‘ بے مروتی و بے التفاتی پر مبنی انداز کو دیکھ کر دلبراشتہ ہوا اور دل نے کہا کہ ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں‘ کیونکہ کچھا تیرا مکان ہے تو خیال کر“ تاہم گلگت بلتستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو چاہیے کہ گلگت بلتستان میں مقیم تمام صحافتی و ادبی انجمنوں سے مضبوط بنیادوں پرتعلقات استوار کرے اور کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے نوجوان صحافیوں سے بھی روابط میں رہے اور ان کے ساتھ اپنے مسائل شیئر کرے اور ان کی بھرپور رہنمائی کرے۔ مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے گلگت بلتستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن اسلام آباد اہم کردار ادا کرے گی‘ اور لیڈری اور رہبری کا تاج اپنے سرلے گی۔ کیونکہ اس یونین میں میرے دوست رشیدارشید‘ جناب اکبر حسین اکبر(ریجنل انچارج پی ٹی وی)جناب کریم مدد(سینئر رپورٹر اے ٹی ٹی ) اوربرادرم عالم نور حیدر جیسے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں جو صحافتی رموز و اوقاف کو اچھے طرح جانتے ہیں۔
میں اپنے ان دوستوں سے گزار ش کرونگا کہ وہ صحافت کی اعلی اقدار کا ہرحال میں پاس رکھے‘ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ‘ اور اس پیشے کا لاج رکھنا بھی صحافیوں کی ذمہ داری ہے۔مرحوم الطاف حسین حالی نے مسدس حالی میں بے ضمیر قلم کاروں اور صحافیوں کے لیے ایک نظم رقم کی ہے۔تو صحافی برادری سے گزارش کرونگا کہ وہ حالی کے بیان کردہ مذموم نکات سے بچتے ہوئے اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیں۔مجھے امید ہے کہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ ملاحظہ ہو۔
بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی
جگر جس سے شق ہو ‘ وہ تحریر کرنی
گنہ گار بندوں کی تحقیر کرنی
مسلمان بھائی کی تذلیل کرنی
یہ ہے صحافیوں کا ہمارے طریقہ
یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: