Wed. Oct 21st, 2020

شکستہ حالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظم

حیدر علی گوجالی

کوئی سنے توبتادوں میں حال دھرتی کا

امیروقت سے ہے اک سوال دھرتی کا

خزان کے خوف سے سہمے ہیں سارے اہل چمن

کسی کو کیوں نہیں آتا خیال دھرتی کا؟

اس ارض پاک پہ دہشت کا راج ہے ہرسوں

بلاشبہ یہ سبب ہے زوال دھرتی کا

لہو لہو ہے میرے ا رض پاک کا آنگن

شکستہ حال ہے ہر اک نہال، دھرتی کا

امیر شہر بچاتا ہے ایسے لوگوں کو

جو دونوں ہاتھ سے کھاتے ہیں مال دھرتی کا

گلی محلوں میں اپنوں کا خون بہنے سے

ہر ایک پیر وجواں ہے ملال دھرتی کا

 خدایا حسن کی محفل یونہی سجی ہی رہے

کبھی بھی کم نہ ہو حسن و جمال دھرتی کا

نہیں یہاں کوئی منصف جو درد رکھتا ہو
کسے سناوگے حیدر یہ حال دھرتی کا

1 thought on “شکستہ حالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظم

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: