گوشہ اردو

اصل غربت

نور

آج اسلام آباد کے علاقے جی نائین مرکز، المعروف کراچی کمپنی، میں چاۓ پیتے ہوے ایک عجیب واقعہ دیکھا. میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس دو بچے آئے اور ہمارے ساتھ والے ٹیبل پر بھیک مانگنے لگے. ایک کو کچھ روپے ملے. دوسرے کو کچھ نہیں ملا. پہلا بچہ اپنی رقم لے کر آگے بڑھا لیکن دوسرا وہی کھڑا رہا. اسے  پیسے نہیں ملے، لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں. دو تین “معاف کرو”، “چلے جاو” جیسے جملے سننے کے بعد بھی بچہ کچھ نہ کچھ لینے پر بضد تھا. وہ رقم کا تقاضا کر رہا تھا، لیکن ٹیبل پر موجود دونوں افراد مزید دینے سے انکار کر رہے تھے. انہوں نے ویٹر کو بلایا.

 ویٹر بھی ایک چھوٹا سا لڑکا ہے، غالبا بارہ یا پندرہ سال کا. ویٹر نے گاہک کو خوش رکھنے کے لیے لڑکے کو ڈانٹا اور اسے ٹیبل سے دور لے گیا. مجھے لگا کہ شاید وہ ویٹر بھیک مانگنے والے بچے کو مارے گا اور دوبارہ ہوٹل کا رخ نہ کرنے کا کہے گا. لیکن میری آنکھوں نے جو منظر دیکھا اس نے مجھے جھنجھوڑ دیا.

اس چھوٹی عمر کے محنت کش ویٹر نے، جو دن بھر کام کرنے کے بعد شاید سو یا ڈیڑھ سو روپے کماتا ہو گا، اپنی جیب سے پیسے نکالے اور ہم سب سے چھپانے کی کوشش کرتےہوے بھیک مانگنے والے بچے کے ہاتھ میں رکھ دئیے. بھیک مانگنے والا بچہ رقم پا کر وہاں سے چل پڑا اور وہ ویٹر اپنے کام میں دوبارہ مصروف ہو گیا.

یہ معمولی منظر نہیں تھا اور نہ یہ معمولی واقعہ ہے. وہ کم عمر ویٹر مجھ سے ، میر ے ساتھ بیٹھے دوستوں اور ہمارے قریب ٹیبل پر بیٹھے لوگوں سے بہت کم کماتا ہے. لیکن اس کا دل امیر ہے. ہم پیسے زیادہ کماتے ہیں، لیکن ہمارے دل اور ہماری سوچ غریب ہے.

آج  اپنی اصل غربت کا احساس ہو گیا. اصل غربت دل اور دماغ میں ہوتی ہے. دولت اور مال کی کمی غربت نہیں.

Related Articles

2 Comments

  1. Wonderful observation Noor. Very true, every one sees the poverty in its extreme limits prevailing in the palaces and villas in Islamabad, and other big cities.

Back to top button