Fri. Oct 30th, 2020

یوم انسانی حقوق اور گلگت بلتستان

صفدر علی صفدر 

دنیا بھر میں ہر سال دس دسمبر کو یوم انسانی حقوق کے طور پرمنایا جا تا ہے جس کا مقصد عوام الناس میں ان کے بنیادی قانونی و آئینی حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور ارباب اختیار افراد کو انسانی حقوق کے عالمی منشور و قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دینا ہے۔ترقیافتہ ممالک میں انسانی حقوق کے عالمی دن کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے اور ان ممالک میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور سول سوسائٹی اس دن کو انتہائی جوش و خروش سے منارہی ہیں۔اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے زیلی ادارے اور دیگر سماجی اداروں کے زیر اہتمام سیمینار ز،مذاکرے اور ریلیاں نکالی جا تی ہیں جس میں انسانی حقوق کی پا مالی کے خلاف آواز بلند کرنے اور اس بارے میں لوگوں میں شعور اُجاگر کرنے پر زور دیا جا تا ہے ۔ماہرین کی نظر میں ’’انسانی حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو ایک آزاد معاشرے میں بلا امتیاز،مذہب،رنگ و نسل ہرمرد ،عورت ،بچے ،بوڑھے اور جوان کو حاصل ہوتے ہیں ‘‘۔مسلم مفکرین کے نزدیک اسلام نے بنیادی انسانی حقوق کا آغاز آج سے چودہ سو سال قبل کیا جب انحضرتؐ پروحی نازل ہوئی اور اسلام کے دنیا میں آزاد ی،مساوات ،قانون اور معاشرتی ہم آہنگی کے حوالے سے متعارف کئے گئے اصول آج اقوام متحدہ کے چارٹر کا ابتدا ئیہ ہیں اور مغرب انہی اصول و قوانین کو حاصل کرنے میں مصروف عمل ہے۔

10دسمبر 1948ء کو اقوام عالم کی طرف سے منظور شدہ منشور کے مطابق ایک انسان کے بنیادی حقوق میں جان کا تحفظ ،معاشی تحفظ،عدل و انصاف ،حق مساوات ، اظہار رائے کی آزادی ،عمل غیر کی ذمہ داری سے بریت،مذہبی آزادی کا حق اور کمزروں کا تحفظ سر فہرست ہیں ۔ بد قسمتی سے آج مسلم معاشرے میں ان تمام قوانین کو پس پشت ڈال کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا وہ قانون رائج ہے جو ظہور اسلام سے قبل نفاذ تھا۔ اگر ہم عالمی سطح ہرانسانی حقوق کی پا مالی پر ایک نظر دوڑائے تو کو اندازہ ہو گا کہ وہی اسلامی ممالک ہی ہیں جہاں پر قتل و غارت گیری،تشددو بربریت ،کرپشن،اقربا پروری اور معاشرتی نا انصافیوں کا دور دورہ ہے اور ہماری یہ غلطیاں اور کوتاہیاں اسلام مخالف طاقتوں کے سامنے تماشا کے لئے بہترین سٹیچ کی منظر کشی کر رہی ہیں ۔اگر پاکستان کو اس صورتحال کے تناظر میں دیکھا جا ئے تو ہم سب کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں تو انسانی حقوق نام کی کوئی چیز سرے ہی سے موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان اصولوں اور قوانین پرعملدرآمد کیا جا تا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی منشور کا حصہ ہیں ۔ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان صرف نام کی حد تک رہ گیا ہے ۔جمہوریت کے نام نہاد دعوداروں نے اسلامی فلاحی ریاست کی جڑیں کھوکھلا کرنے کے لئے حکومتی اداروں تباہی کے اس نہج تک پہنچا دیا ہے جس کی وجہ سے ملک عالمی سطح پر کرپشن پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد شمار کے گراف میں ہر سال گرتا جا رہا ہے جس کا ثبوت حال ہی میں جاری ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس سے ملتا ہے ۔
اگر ہم گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی بات کریں تو ہماری عقل حیران رہ جا تی  ہے کیونکہ یہاں پر تو ایک اندھیر نگری ہے اور ہر کوئی اندھوں میں کانا راجا کے بیٹھا ہے۔یہاں شاہ سے لیکر شیر تک سب نے انسانی حقوق کی پامالی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ یہاں کے عوام ہر طرح سے ظلم،بربریت اور استحصال کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔نہ یہاں کے عوام کو انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق جانی تحفظ حاصل ہے نہ معاشی ،نہ عزت و ابرو محفوظ ہے اور نہ ہی عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جا تے ہیں ۔یہاں پر بد قسمتی سے طبقاتی نظام تیزی سے فروغ پاتا جارہا ہے جس کی وجہ سے کمزور اور غریب طبقہ غریب تراور کمزور ترین بنتا جا رہا ہے جبکہ ارباب اختیار اور با اثر طبقہ راتوں رات امیر ی کے منازل طے کر رہا ہے۔حق مساوات اور اظہار رائے کی آزادی کی انتہا یہ ہے کہ یہاں پر حق کی بات کرنے والے غدار اور اینٹی سٹیٹ قرار دئیے جاتے ہیں جبکہ اظہار رائے کی بات کرنے والے اور عوام کی آواز بلند کرنے والوں پر ریاستی طاقت ،حکومتی ہتھکنڈوں اور غنڈہ گردی کے زریعے دباؤ ڈالنے کی مذموم کوششیں کی جا تی ہیں۔دینی اداروں کو سیل کرنا اور مذہبی علماء کو پابند سلاسل کرنا مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی واضح مثال ہے۔اس کے علاوہ حکومتی سطح پر ہونے والی بد ترین کرپشن ،اقربا پروری ،رشوت ستانی اور سفارش کلچر نے علاقے کو ہر طرف سے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ افراط زر اور معمولات زندگی سو فیصد مہنگے ہو گئے ہیں جبکہ غربت اور بے روزگار ی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہیں۔لاکھوں روپے خرچ کر کے بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرنیوالے غربت اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے نوجوان تین سے پانچ لاکھ روپے قرضہ لیکر رشوت کے عوض نوکریاں حاصل میں سرگرداں ہیں جبکہ غریب اور مزدور طبقہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔قانون و انصاف کے اعلیٰ اداروں کو سات ماہ سے تالے لگے ہوئے ہیں ،حکومت کی طرف سے جاری کردہ چیکس باؤنس ہو رہے ہیں ،غریبوں اور مسکینوں کے لئے تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کا حصول محال بن چکا ہے جبکہ بیکاریوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔
حکومتی سطح پر پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت اس قدر شدت اختیار کر گئی ہے کہ حکومتی سربراہان کو بھی کشکول لیکر بھیک مانگنے کی نوبت آگئی ہے ۔علاوہ ازیں ٹارگٹ کلنگ ،فائرنگ اور بم دھماکے بھی آئے روز کا معمول بن چکے ہیں اور بے گناہ افراد موت کو گلے لگاتے جا رہے ہیں۔دوسری طرف دور دراز کے علاقوں میں خواتین میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر خود کشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات بھی انسانی حقوق کی پا مالی کی واضح مثالیں ہیں۔ایسے میں انسانی حقوق کی پا مالی کی بات کرنے اور اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے والوں کو بھی رسوا سمجھا جا تا ہے۔ اس لئے علاقے کی اس بد ترین صورتحال میں تبدیلی لانے کے لئے عوام،سول سوسائٹی،وکلاء ،صحافی اور ترقی پسند تنظیموں کو مذید فعال ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھی گلگت بلتستان کو مصائب اور بحرانوں کے اس دلدل سے نکالنے کے لئے کردار ادا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: