Mon. Jun 21st, 2021

ابھی آزادی باقی ہے

٦٣ سال قبل ہمارے اجداد نے ایک خونی بغاوت کے نتیجے میں  کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کے چنگل سے ٢٧٠٠٠ مربع میل علاقے کو تو آزاد کر لیا مگر آج بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کے دل اور ان کی روحیں جغرافیہ، زبان، نسل اور فرقہ کے قید میں زندہ ہیں. مکمل آزادی آج بھی نہیں ملی ہے

—-

فرقے کے نام پر خونریزی کرنے والے آج بھی قیدی ہیں. زبان اور علاقے کے نام پر نفرتیں اور دوریاں پیدا کرنے والے آج بھی قیدی ہیں. غریب لوگوں کا استحصال کرنے والے بدترین قید میں زندگی بسر کر رہے ہیں. جنکی سوچ قیدی ہو، وہ من مانیاں بے  شک ہزاروں کر لے، لیکن آزاد کبھی بھی نہیں کہلاتے

—–

ابھی آزادی باقی ہے

2 thoughts on “ابھی آزادی باقی ہے

  1. Is bat pa Faiz Ahmed Faiz ki wo nazam yad agaye
    Ya dag dag Ujala, Ya shab guzeeda saher
    Tha intizar jis ka ya wo saher to nahi
    Abi garani-e-shab me kami nahi aye
    Najat deeda-o-dil ki gadi nahi aye
    Chaly chalo k wo manzil abi nahi aye,,,,,,,,,,,,,,

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: