Sun. Nov 1st, 2020

”دفتر کاکا“ جسے میں جانتا ہوں

تحریر: عبدالسلام ناز
غالباً ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے کہ میرے موبائیل پر ایک ایس ایم ایس آیا۔ یہ گلگت بلتستان کے ایک کالم نگار اور شاعر کی طرف سے تھا۔ اُنہوں نے اپنے ایس ایم ایس میں میری نئی کتاب ”گلگت“ (قدیم تاریخی واقعات، حالات، رسومات، تصورات) کی اِشاعت پر مبارک باد پیش کی تھی۔ ایس ایم ایس کے آخر میں لکھا گیا نام میرے نزدیک کوئی معمولی نام نہ تھا بلکہ میں اُس نام کی قدرو منزلت سے پہلے ہی آگاہ تھا۔ بلکہ اُن کے کالم مقامی و قومی سطح پر چھپنے والے اخبارات میں تواتر کے ساتھ منصہ شہود پر آرہے تھے۔ اِس لئے وہ نام میرے لئے اجنبی نہ تھا بلکہ میں اُن کے کئی کالم جب جب موقع ملتا، پڑھتا رہا تھا اور اُن کے الفاظ اور اُن کی پختہ اُردُو کا مداح بھی تھا۔ اِس لئے میرے نام اُن کا ایس ایم ایس حوصلہ افزا تھا۔ جس کی وجہ سے مجھے بے اختیار خوشی ہوئی کیونکہ گلگت کی ادبی فضا اور اخلاقی اقدار میں جو جمود طاری ہوگیا ہے۔ گلگت بلتستان کے چند لوگ جو خود کو ادیب تو کہتے ہیں لیکن ڈھنگ سے صاحبِ کتاب بھی نہیں اور جو صاحبِ کتاب ہیں اُن کو بھی یہ احساس نہیں کہ گلگت کی ادبی فضا میں کئی کتابیں منصہ شہود پر آکر داد و تحسین حاصل کر رہی ہیں اور یہاں کی ادبی فضامیں روز بروز اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ اِس کے باوجود اُن ادیبوں کی بصارت اور بصیرت گویا چھن گئی ہے۔ اِس لئے وہ اپنے دائیں بائیں نظریں دوڑانے سے قاصر ہیں اور اُنہوں نے اپنے ارد گرد جو محدود دائرہ کھینچا ہے اُس سے باہر نکل کر دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے سے یکسر قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اِس لئے آج تک مجھے میری کسی کتاب کی اشاعت پر ادبی فضا سے ایس ایم ایس کے ذریعے یا زبانی و تحریری انداز میں مبارک بادی موصول نہیں ہوئی تھی۔ اِس لئے میرے موبائیل پر کسی ادیب و شاعر کا آنے والا ایس ایم ایس حیرت کا باعث بنا اور پھر حیرت سے زیادہ خوشی کا موجب بنا۔
گلگت میں ایک بڑا مس¿لہ سر اُٹھا چکا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہاں کے جو بے ذوق ادیب ہیں۔ اُن کی یہ سرشت رہی ہے کہ جو انہیں مفت میں کتابیں دے گا وہ انہی کو ادیب مانتے ہیں اور انہی کے لئے خامہ فرسائی کرتے ہیں اور اگر کوئی کتاب نہ دے تو انہیں درخورداعتنا ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ انہیں ادیب ماننا تو دُور کی بات ہے انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ گلگت میں کونسا ادیب کتنی عدد کتابوں کے ساتھ تشریف فرما ہے اور جب وہ کوئی فیچر لکھتے ہیں یا کوئی مقالہ پیش کرتے ہیں تو وہ اُن لوگوں کو ادیب اور شاعر بناتے ہیں جو صاحبِ کتاب ہی نہیں یا اُن کو اپنا مرکز و محور بناتے ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں دو چار سے زائد کتابیں نہیں لکھی ہیں۔ یہ گلہ صرف مجھے نہیں بلکہ سماجی زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر اُس فرد کا ہے جو باذوق ہیں اور جو وقت اور حالات کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے عین مطابق نئی سے نئی تحریریں اور جدید سے جدید چیزوں سے روشناس کرانے کے متمنی ہیں۔
ایک ادیب یا شاعر کبھی خود غرض نہیں ہوتا۔ لیکن گلگت کی فضا اِس بوباس سے بھری ہوئی ہے۔ ایک اچھا ادیب یا شاعر وسیع القلب ہوتا ہے لیکن گلگت میں تنگ نظری اور جفاکاری عروج پر ہے۔ چند بے ذوق ادیب اور مشاعروں کی حد تک محدود شاعر کسی دوسرے ادیب کی کاوشوں کو سراہنے سے بہرہ مند نظر نہیں آتے تو انہیں سوچنے کی ضرورت ہے۔
گلگت میں چند تحریکیں ہیں جو ادبی محاذ پر سرگرمِ عمل ہیں۔ ان تحریکوں کے بھی اپنے اپنے ذاتی مفادات ہیں۔ میں ان کو تحریکیں کہنا بھی عار سمجھتا ہوں بلکہ انہیں گروہ کہنا زیادہ مناسب خیال کرتا ہوں۔ اِس اصلاح کے بعد میں کہوں گا کہ گلگت میں جو ادبی گروہ پائے جاتے ہیں۔ یہ چند افراد تک محدود ہیں جو ایک دوسرے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ یہاں کی ادبی فضا تعفن زدہ ہوگئی ہے۔ ان گروہوں نے ادبی ماحول میں ایک بے چینی سی پیدا کی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ گروہ تمام تر وسائل سے آراستہ ہیں۔ حکومتی مشنری کو بھی اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دِل کی گہرائی سے گلگت کی ادبی فضا کو چار چاند لگانے کے لئے اپنے ذاتی وسائل بھی بروئے کار لاتے ہیں انہیں کسی گروہ میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور اُن کا استحصال کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔
یہ تو تھی گلگت کی ادبی فضا کی رام کہانی۔
اِس تعفن زدہ ماحول میں ہمیں چند مہربان شخصیات بھی نظر آتی ہیں جن میں سے چند پس پردہ ہیں اور چند اس تعفن زدہ ماحول میں رہنے کے باوجود منظر عام پر آکر بھی گروہ بندی کی زنجیروں سے جکڑے ہوئے نظر نہیں آتے۔ اُن میں ایک نام عبدالکریم کریمی ہیں۔
یہ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے مجھے ایس ایم ایس کے ذریعے میری کتاب کی اِشاعت کے بعد مبارک باد پیش کرکے میرا دِل جیت لیا ہے چونکہ وہ خود بھی ادیب ہیں اور ہم ایک ہی کشتی کے شہسوار ہیں۔ اِس لئے ایک ہی ایس ایم ایس ہمارے بیچ دوستی کا باعث بنا اور اِس دوستی کو آج ڈیڑھ سال ہورہے ہیں۔
عبدالکریم کریمی سے تعلق صرف ایس ایم ایس کی حد تک محدود نہ رہابلکہ اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات سے فراغت کے بعد ہماری کئی ایک مقامات پر کئی اہم اور معلوماتی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ مجھے اُن سے بہت کچھ سیکھنے اور دِل کی باتیں بے دھڑک کرنے کا موقع ملا۔ بہت مہربان اور محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔ ایک دفعہ اُن سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے والا قدرتی طور پر ایک دوست کا اضافہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اُن کی نرم و ملائم باتیں کسی کو ٹھیس نہیں پہنچاتی ہیں۔ میں بھی اُن کے گھر والوں کی طرح کبھی انہیں ”دفترکاکا“ اور کبھی ”منشی کاکا“ کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔
اُن کی شخصیت کئی خوبیوں کا مرقع ہے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اُن کو اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں سرانجام دینے کے لئے ارضِ گلگت و بلتستان کے کئی اہم علاقوں میں جانے اور وہاں رہنے کا موقع ملا۔ اِس لئے اُنہوں نے ہر علاقے کی خوبیوں اور خاصیتوں کو اپنے اندر جذب کرلی ہیں۔ اُن کے اندر تمام علاقوں کی خوبیاں بدرجہ¿ اتم پائی جاتی ہیں۔ شائستگی اور منکسرالمزاجی اُن کی زندگی کا اوّلین فریضہ نظر آتے ہیں۔
جوں جوں وقت بڑھتا جاتا ہے اور جوں جوں اُن کی تصنیفات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اُن کی طبیعت اور مزاج پہلے سے زیادہ نکھرتے اور سنورتے جاتے ہیں۔
تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ”شاید پھر نہ ملیں ہم“ پہلا شعری مجموعہ ہے جو 2008ءکو شائع ہوا۔ اِس کے علاوہ اُن کے کالموں پر مشتمل کتاب ”فکرونظر“ 2009ءاور اُن کی تیسری کتاب ”تیری یادیں“ (دوسرا شعری مجموعہ) 2011ءکو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے۔
عبدالکریم کریمی کی یہ کتابیں گلگت کی ادبی فضا میں بے پناہ اضافے کا باعث بنی ہیں۔ اُن کی شاعری ہو یا نثر دونوں اصناف میں انہیں کمال کی مہارت حاصل ہے۔ میں انہیں یہ کہنے کی غلطی کبھی نہیں کرسکتا کہ وہ دو کشتیوں کے سوار ہیں اور اگر وہ دو کشتیوں کے سوار ہیں تب بھی اُردُو پر اُن کی گرفت جتنی مضبوط، مربوط اور مبسوط ہے یہ خاصیت اور خوبی شاید ہی گلگت کے کسی دوسرے ادیب کے اندر پائی جاتی ہوگی۔
اُردُو پر گرفت مضبوط ہونے اور وسیع ذخیرہ¿ الفاظ ہونے کی وجہ سے ہمیں اُن کے نئے شعری مجموعہ ”تیری یادیں“ میں کئی نئے الفاظ سے شناسائی ہوجاتی ہے۔
غزلوں اور نظموں کا اُسلوب سلیس اور رواں ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ تراکیب مشکل بھی ہیں۔ حالانکہ وہ افتاد طبع نہیں ہیں پھر بھی یہ مشکل پسندی اِس لئے بھی گوارا کرنا پڑتا ہے کہ یہ ایک پختہ شاعر کے تجربے کا خاصہ ہے۔
بحریں کہیں مختصر ہیں اور کہیں طویل ہر شعر میں جذبات و احساسات بھرے ہوئے ہیں ہر غزل دوسری سے مختلف اور ہر آزاد نظم دوسری سے جذباتی وابستگی کے باوجود ایک الگ معنی و مفہوم سے آراستہ ہے غزل اور نظم کو الفاظ کی تزئین و آرائش سے نکال کر اِتنا سہل کر دیا ہے کہ عام قاری اُن جذبات و احساسات اور اَفکار میں ڈوب کر ایک نئے سمندر میں غوطہ زن ہوسکتا ہے۔
گلگت میں بہت کم ایسے شعراءہوں گے جن کے ایک ہی شعری مجموعے میں اِتنی ساری خوبیاں رچی بسی ہوں۔ کہیں کہیں تو کریمی کے اشعار مجھے اُن کے اندر احمد فراز اور فیض احمد فیض کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں پھر چند غزلیں پڑھ کر اور اُن اشعار سے چھلک اُٹھنے والے جذبات اور احساسات سے روشناس ہوکر ایسا لگتا ہے کہ میر تقی میر اور غالب، کریمی کے دِل میں اُتر گئے ہیں کیونکہ میر تقی میر اور غالب نے بھی اپنے انفرادی غموں اور روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور حالات کو اپنے اشعار کا جامہ پہنایا ہے اُن کے کلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے عشق اور عشق میں ناکامی کا بھی برملا ذکر کیا ہے۔
اِس قلبی واردات کا ذکر کریمی کے اشعار میں بھی جابجا ملتا ہے۔ اگر آپ کو اُن کے اشعار میں اِن قلبی وارداتوں کا ذکر واضح طور پر نظر نہیں آتا تو آپ کتاب کے انتساب پر ذرا بنظر غائر نگاہ ڈالیں اور ذہن پر زور دیں تو دِل کی گہرائیوں سے نکلنے اور خون کی روشنائی سے لکھے گئے یہ الفاظ
”اُن اوّلین جمیلہ کاوشوں، عظمیٰ اِرادوں اور شگفتہ یادوں کے نام۔“
یہ اندازہ حقیقت میں بدل دیتے ہیں کہ
”جمیلہ، عظمیٰ اور شگفتہ“
تین اہم کردار ہیں جنہوں نے کریمی کے دِل میں داخل ہوکر اُنہیں ایک نئے جہاں سے روشناس کردیا لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں محبت راس نہیں آتی یا اُن سے ہمیشہ روٹھی رہتی ہے۔
میر تقی میر کا مس¿لہ یہ تھا کہ انہیں یکطرفہ محبت تھی، جس کا خمیازہ انہیں ناکامی کی صورت میں بھگتا پڑا۔
لیکن کریمی دو طرفہ محبت کے حصار میں قید تھے پھر بھی حالات سازگار نہیں تھے یہ غم اور یہ اَلم ہمیں اُن کے اشعار میں ملتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے اشعار میں اپنے درد و غم کا قصہ، ہوسکتا ہے کہ کُھلے الفاظ میں نہ کیا ہو لیکن کہیں کہیں استعارات کی زبان استعمال کی ہے کہیں کہیں تشبیہات کا استعمال بھی ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی کو محبوب رکھنے اور پھر اُسے کھونے کے درد سے آشنا ہیں اور انہیں بڑی باریکی سے اپنے اشعار میں سمو لیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے اشعار میں شرینی پیدا ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار پر جمود طاری نہیں بلکہ اُن میں چند کردار گھومتے پھرتے یا متحرک نظر آتے ہیں شاید اِسی لئے اُن کے اشعار میں ہمیں ایک ہیجانی کیفیت نظر آتی ہے۔
جب تک انسان خود کسی جذبے اور احساس سے سرشار نہ ہو تب تک اُس کے قلم سے نکلنے والے الفاظ بھی احساس اور جذبے سے محروم ہوتے ہیں اور اُن سے روح غائب نظر آتی ہے جب تک شاعر خود کسی تجربے سے دو چار نہیں ہوتا اُس کے اشعار پھیکے نظر آتے ہیں اُن کو پڑھ کر طمانیت کا احساس نہیں ہوتا اُن کو پڑھ کر ضمیر بیدار نہیں ہوتا انہیں پڑھ کر دِل میں ہلچل پیدا نہیں ہوتی
جن اشعار کو پڑھ کر سویا ہوا دِل بیدار ہوجائے جن اشعار کو پڑھ کر دِل کی بے قراری کو قرار ملے جن اشعار کو پڑھ کر محبت کے جذبے میں شدت پیدا ہوجائے جن اشعار کو پڑھ کر محبوب کی تڑپ دِل کو بے سکون کر دے وہ شاعری شاعری کہلانے کا حق رکھتی ہے اور میں ایسی شاعری کا قائل ہوں۔
شاعری اپنی عمر یا اپنے تجربے کی بنیاد پر دقیق اور ادق الفاظ کا مجموعہ بنانے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے دِل کے نہاں خانوں میں چھپے ہوئے جذبات و احساسات کو سہل کرکے دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے۔
وہ شاعری جو عام قاری بڑی آسانی سے پڑھے وہ شاعری جو انسان کو لغت کی طرف نہ دھکیلے ایسی شاعری جلد مقبول ہوتی ہے۔
یہ وہ تمام خوبیاں ہیں جو کریمی کی شاعری کا خاصہ ہیں۔ کریمی شاید جانتے ہیں کہ عام قاری کے دِل میں جگہ بنانے کے لئے کیا طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اُن کا زیرتبصرہ مجموعہ¿ کلام ”تیری یادیں“ تمام اوصاف سے متصف ہے۔ اِس لئے مجھے اُمید ہے کہ لوگ اِس شعری مجموعے کو مفت میں طلب کرنے کے بجائے خود خرید کر پڑھنا گوارا کریں گے اور کریمی کو داد و تحسین سے نوازنے میں بھی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور گلگت کے دیگر ادیب اور شعراءکتاب مفت میں نہ ملنے پر کریمی کو شاعر نہ ماننے کی غلطی کبھی نہیں کریں گے۔
میں اِختتام کرنے سے پہلے کریمی کے شعری مجموعے میں سے اپنے چند پسندیدہ اشعار آپ کی نذر کرتا ہوں۔
جانے یہ کیا ہوا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
دِل میرا لُٹ گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
اِس کا علاج تیرے سوا اور کچھ نہیں
جو درد سا اُٹھا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
تیرے حصول کے لئے کچھ جستجو کرے
یہ فیصلہ کیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
….
ایک شوخی شباب کر بیٹھا
آپ کا اِنتخاب کر بیٹھا
تجھ کو اے دوست جانِ جاں کہہ کر
اپنا خانہ خراب کر بیٹھا
….
آج کے بعد محبت کا کوئی نام نہ لے
ایسی بے کار ریاضت کا کوئی نام نہ لے
ساتھ چھوڑا ہے مرا اُس نے کریمی قصداً
دوسری بار رفاقت کا کوئی نام نہ لے
….
گلوں کے گرد پھیلی خوشبوو¿ں میں رقص کرتی ہیں
وہ نازک تتلیاں جو دائروں میں رقص کرتی ہیں
بدن کی قید سے روحیں نکل کر رات بھر باہم
ہمارے بیچ حائل فاصلوں میں رقص کرتی ہیں
دیارِ غیر میں تم کیوں سوئے مقتل چلے یارو!
وہاں پر سسکیاں ہی راستوں میں رقص کرتی ہیں
….
بھلا دیں گے اُنہیں اب ہم بھلا دینا ضروری ہے
اُمیدوں کے محل کو اب گرا دینا ضروری ہے
جو جلتی دُھوپ میں سایہ میسر کر نہ سکتا ہو
تو آگ ایسے شجر کو بھی لگا دینا ضروری ہے
جو چادر بے حسی کی اوڑھ کر سوئے ہیں دُنیا میں
اب اُن میّت مزاجوں کو جگا دینا ضروری ہے
وفا کے تذکرے جو اب سر بازار کرتا ہے
کریمی اُس کو سولی پر چڑھا دینا ضروری ہے

1 thought on “”دفتر کاکا“ جسے میں جانتا ہوں

  1. Daftar kaka is a nice writing of Abdul Salam Naz on Pamir Times. We hope this online newspaper will promote the Urdu literature in GB.

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: