Mon. Oct 26th, 2020

عالمی حدت میں اضافہ اور اسکے اثرات

زوالفیقار علی غازی 
آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوے جب انتہائی خطرناک خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے تو میں اکثر خود کو انتہائی خطرے میں محسوس کرتا ہوں۔یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں 2050تک 150ملےن افراد موسموں میں  بدلاوکی وجہ سے اپنی موجودہ علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہونگے تو ہمیں بھی سوچنا چاہیے  کہ کہیں ہم بھی خدانخواستہ اس طرح کے حالات سے دوچار تو نہیں ہونگے۔ہم پر ہمارے موجودہ ماحول پراس بدلاو کے اثرات کس طرح سے مرتب ہونگے۔یہ جاننے کے لیے ہمیں  سب سے پہلے اس خطے کی طبعی خدوخال ،ہزاروں سالوں سے رائج ذراعت کے نظام کوجو کہ ہزاروں سالوں سے متعین سمت میں جاری موسمی تغیرات سے اخذ شدہ ہے نیز سردی، گرمی اور بارشوںکے مخصوص اوقات کار کو بھی دےکھنا پڑے گا۔اس کے علاوہ عصر حاضر میں  دنیا  کے مختلف علاقوں میں اس بدلاو کی وجہ سے مرتب ہورہے اثرات کا بھی جائزہ لےنا ہوگا۔
اب اگر آبوہوا میں تبدتبدیلی کی وجوہات کا جائزہ لیا جاے تو سب سے بڑی وجہ اس سیارے جس پر ہم زندگی گزارر ہیں کی  درجہ حرارت میں  اضافہ ہے جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔کرہ ہوائی میں  گرین ہاوس گیسوں کی ضروری مقدار سے زیادہ  مقدار میں  جمع ہونے کی وجہ سے زمین سے ٹکرا کر پلٹ جانے والی زیادہ طول موج کے حراری شعاوں کے انجزب کوگلوبل وارمنگ کا باعث بتایا جاتا ہے۔ان گیسوں میں جن کو گرین ہاوس گیسز  کہاجاتا ہے میں  کاربن ڈائی اکسائڈ، میتھین ا ور کلورو فلورو کاربنز شامل ہیں  جن میں حراری شعاوں کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔کرہ ہوائی میں ان گیسوں کی ایک مخصوص مقدار کرہ ارض پرزندگی کی بقا کے لیے  اشد ضروری ہے ان کی موجودگی زمین کو سرد جہنم بننے سے روکتی ہے لیکن  ان کا ضرورت سے زیادہ  مقدار میں ہونا بھی انتہائی خطرناک ہے۔
لکڑی، پٹرول، ڈےزل،کویلہ ،قدرتی گیس  اور دیگر نامیاتی مرکبات کو جلانے سے یہ  گیس زیادہ  ہوجاتی ہیں نیز  موجودہ معاشی نظام میں  صنعتی پیداوار  کو اس مقام تک پہنچنے میں  اڈھائی سو سال کا عرصہ لگا ہے اور اس دوران ایندھن  کے طور پر مندرجہ بالا ایندھن  کے زراےعوں کا بے تحاشہ استعمال نےز قدرتی جنگلات کے کمرشل بنےادوں پر بے درےغ کٹاوکرہ ہوائی میں  ان گیسز  کا ضرورت سے زیادہ  ارتکاز کا سبب بنا ہے جس کی وجہ سے کرہ ہوائی کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔
درجہ حرارت میں  مسلسل اضافہ قطبین پر موجود برف کے ذخیروں  کے پگھلنے کا باعث بن رہا ہے اور سطح سمندر میں اس وجہ سے مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ سمندری طوفانوں کا اٹھنا اب معمول کی بات ہے۔کئی جزائر کے زیر آب آنے کے خطرات بھی اب یقینی ہو گیے ہیں ۔اس کے علاوہ چاولں کے کاشت کے علاقے یعنی بنگلہ دیش ، برما ، تھائی لینڈ  ا ور دےگرممالک کے نشیبی علاقوں کے زیر  آب آنے سے دنیا  کی ایک  بہت بڑی آبادی خوراک کے حوالے سے غیر یقینی  صورت حال سے دوچار ہو سکتی ہے ۔
موجودہ حالات میں  اب آبوہوا مےں تبدیلی  کے اثرات گلگت بلتستان پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گیئے ہیں . 2005 کے بعد سے موسموں میں  انتہائی غیر یقینی اتار چڑھاو دیکھا جا سکتا ہے۔گلگت بلتستان دنیا  کا وہ واحد علاقہ ہے جو اس حوالے سے انتہائی منفرد ہے کہ یہاں  قطبین  سے باہر پاے جانے والے گلیشرز میں  سے سب سے بڑے گلیشرز پاے جاتے ہیں۔درجہ حرارت میں  اضافے کی وجہ سے اب ہمارے گلیشربتدریج کم ہورہے ہیں ۔گلیشرز سے متعلق ایک مطالعے کے دوران یہ  بات سامنے آ گئی  ہے کہ سیاچن  گلیشر  تیزی  سے پگھل رہا ہے۔ےہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، گلیشرز ز کے تیزی  سے پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں  میں  طغیانی  کی سی صورت ہر سال دیکھی  جا سکتی ہے۔پانی کے بہاو میں  اضافے کی وجہ سے ہمارے زرخیز زمین  کٹاو کی  نزر ہو رہا ہے۔اس حوالے سے ضلع گنگچھے دیگر  علاقوں کے مقابلے زیادہ  متاثر ہوچکا ہے اور ہو رہا ہے۔اس ضلعے میں گاوں کے گاوں کٹاو کی نذر  ہو گیے  ہیں۔ بلغار، ڈغونی،سالنگ،مچولو،ہلدی،تالس اور کئی دےگر دیہات  کا تقریباً65 فیصد حصہ کٹاو کی نذر  ہو چکا ہے۔جبکہ کٹاو کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔کئی دیہات ، بشمول سینٹر خپلو جن کے پانی کے ٹھوس زخائربہت محدود ہیں پانی کی کمی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔
موسمی تبدیلی  کا مشاہدہ کیا  جا سکتا ہے، بارشوں میں اضافہ دیکھا  جا سکتا ہے اور2010اور2011کی طرح کیا  اس سے بھی زیادہ  شدید  حالات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔دریاؤں  میں  طغیانی  سے پھر ایسے  حالات پیدا  ہو جائینگے  کہ سب مل کر بھی کچھ بچانہیں  پائینگے۔لہذا ضروری ہے کہ ابھی سے ضروری اقدامات کیے جائیں ۔گرمی بھی پڑے گی لیکن  بہت کم وقت کے لئے مگر جان لیوا  ثابت ہوگی۔
اب سب سے اہم سوال کہ کےا ہم اس سب کےلئے ذمہ دار مےں؟میرے خیال میں بطور انسان ہاں ہم کسی حد تک ذمہ دارم ہیں لیکن  کسی ایک انسان ،گروہ  یا ملک کو دوش دینا نہیں چاہتے، دراصل اس تباہی کے لئے گزستہ اڑھائی سو سالوں سے رائج  معاشی نظام ہی کو زمہ دار ٹھرایا جانا چاہیے جس نے ہر قیمت  پر انسانوں سمیت ہر شے کی استحصال کو دولت اور آسایش  کے حصول کےلئے جائز جانا ہے۔قشر ارض کے اندر کی اور باہر کی ہر شے کو براے فروخت سمجھا جانے سے آج ہم اس صورت حال سے دوچار ہیں.۔ ہمیں اب  اب یقین  کر لینا چاہے کہ بہت جلد ہمارے گلیشرز ختم ہو جاینگے،  دریاؤں  میں  پانی نہیں ہوگا اور پھر! زرہ برابر سوچنے کی ضرورت ہے۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: