Wed. Oct 21st, 2020

نمل یونیورسٹی سے پروفیسر کمال الہامی پر تحقیقی مقالہ

فکرونظر: عبدالکریم کریمی
سکردو سے تعلق رکھنے والی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لنگویجز (نمل) اِسلام آباد کی طالبہ خیرالنساءکا مقالہ بعنوان ”حشمت کمال الہامی، شخصیت اور شاعری“ میرے زیر مطالعہ ہے۔ خیرالنساءصاحبہ نے زیر نظر مقالہ (thesis) ایم۔ اے (اُردُو) کی ڈگری کے حصول کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ اِنتہائی خوش آئند بات ہے کہ اِسلام آباد کے اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں گلگت بلتستان کی علمی و ادبی شخصیات کی اُردُو کے فروغ اور ادب کے حوالے سے انجام دی گئی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے اُن پر مقالہ لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ورنہ ماضی میں حالات کچھ اِس طرح تھے کہ شہر کے لوگ ہمیں دیہاتی سمجھ کر نظر انداز کرتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ شہر کے مکینوں کو اب احساس ہوا ہے کہ شہر سے کوسوں دُور دیہات اور اِن دُور دراز پہاڑی علاقوں میں بھی رہ کر کچھ لوگ ادب کی خدمت کر رہے ہیں اور خوب کررہے ہیں۔ لہٰذا اِس علمی کاوش کی بھرپور پذیرائی ہونی چاہئے۔
سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اِس سلسلے کا آغاز گلگت بلتستان کی ایک ایسی علمی و ادبی شخصیت سے کیا گیا ہے جس کو یہاں کے ادب کے آسمان کا چاند تارا کہا جاتا ہے۔ میری مراد جناب پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کی ہشت پہلو شخصیت ہے۔ موصوف اپنی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے گلگت بلتستان کے سرسید کہلاتے ہیں۔
زیر تبصرہ مقالہ جو چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ جس کے بابِ اوّل میں پروفیسر حشمت کمال الہامی صاحب کی شخصیت و حالاتِ زندگی یعنی خاندانی پسِ منظر، پیدائش/نام/بچپن/تعلیم، ملازمت، اولاد، کمال الہامی بحیثیت باپ، بحیثیت اُستاد، فلاحی و سماجی خدمات، شاعری کا آغاز، کمال الہامی صاحب کا نظریہ¿ فن، ایوارڈز اور اعزازات، کُتب و رسائل جن کی اِدارت سے وابستہ رہے اور مقامی و قومی اخبارات جن میں مضامین، کالم اور اشعار لکھتے رہے، پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ بابِ دوئم میں گلگت بلتستان میں اُردُو شاعری کا آغاز اور خصوصاً سرزمین بلتستان میں اُردُو شاعری کا آغاز و ارتقائ، بلتی زبان اور رسم الخط اور گلگت بلتستان کی اُردُو شاعری پر گفتگو کی گئی ہے۔
بابِ سوئم میں جناب کمال الہامی بحیثیت غزل گو، نظم گو، مرثیہ گو کے، آپ کی ہشت پہلو شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
بابِ چہارم میں اُردُو رباعی کی روایت ایک مختصر جائزہ کے عنوان سے رباعی کی تعریف، رباعی کی معنوی خصوصیات، رباعی کی تاریخ، اُردُو میں رباعی کی اِبتدا اور ترقی، اُردُو رباعی شمالی ہند میں، پاکستان میں رباعی کی راویت وغیرہ پر مختصراً تبصرہ کیا گیا ہے۔
بابِ پنچم میں جناب پروفیسر کمال الہامی کی رباعیات پر مشتمل کتاب ”رباعیاتِ کمال الہامی“ کا فنی و فکری جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے جس میں رباعیوں کی تقسیم، مشاہیر، اشخاص، دین و عرفان، اخلاقیات، زبان و ادب، اِنسانی رشتے، تہذیب و تمدن، سائنس، جغرافیہ اور دیگر متفرق دلچسپ موضوعات پر کہی گئی کمال الہامی صاحب کی رباعیات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
بابِ ششم میں مجموعی جائزہ کے طور پر حوالہ جات، کتابیات اور ضمیمہ جات شامل کئے گئے ہیں۔ ضمیمہ جات میں پروفیسر صاحب کی بعض اہم اور یادگار تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ پہلی تصویر میں پروفیسر کمال الہامی صاحب کسی ادبی محفل میں اپنا کلام سناتے ہوئے نظر نواز ہیں۔ دوسری تصویر آپ کے طالب علمی دور کی ہے۔ تیسری تصویر گلگت میں منعقدہ 1987ءاپنی نوعیت کی کل پاکستان پہلی اور آخری محفلِ مشاعرہ کی ہے، جس میں پروفیسر صاحب پاکستان کے نامور شعراءقتیل شفائی، ڈاکٹر حسن رضوی، ناصر زیدی، عطا حسین کلیم، غلام محمد بیگ، ظہیر کاشمیری، جمیل ملک، شمیم بلتستانی، اور اختر امام رضوی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ چوتھی تصویر ناصر زیدی کے ساتھ کھینچی گئی ہے۔ اِسی طرح ایک اور تصویر نامور شاعر سید ظفر عباس، سہیل عباس اور اپنے فرزندِ ارجمند سرتاج علی کمال کے ساتھ کھینچی گئی ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج سکرود کے طلباءکے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی بینائی کو ملتا ہے۔ پھر ایک تصویر میں بحیثیت پرنسپل ڈگری کالج سکردو کے، اپنے دفتر میں اُس وقت کے چیف سیکریٹری امتیاز قاضی، اِنسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان سرمد سعید اور سید اسد شاہ زیدی (مرحوم) کو کالج کے مسائل کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے لی گئی ہے جبکہ زیر تبصرہ مقالہ میں شامل آخری تصویر میں پروفیسر صاحب ملک عزیز کے نوجوان شاعر وصی شاہ کو بلتستان آمد پر بلتی ثقافتی ٹوپی پہنا رہے ہیں۔
105 صفحات پر مشتمل، نمل یونیورسٹی کے اُردُو ادب کے اُستاد ظفر احمد کی نگرانی میں طالبہ خیرالنساءکے اِس مقالے کو ڈاکٹر روبینہ شہناز صدرنشین شعبہ اُردُو نمل یونیورسٹی اِسلام آباد نے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقالہ ایم۔ اے کے معیار کے بالکل مطابق ہے۔
عام کتاب اور اعلیٰ تعلیمی اِداروں سے اعلیٰ ڈگری لینے کے لیے لکھے جانے والے ریسرچ کے اُصولوں پر مبنی تحقیقی مقالہ میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ ڈگری حاصل کئے جانے والے مقالوں کے صفحات نامور اہلِ قلم اور محققین کے زرین خیالات اور تحقیق کے ماحاصل حوالہ جات پر مشتمل نثرپاروں کے حوالوں سے مزّین ہوتے ہیں۔ چنانچہ متذکرہ کتاب کا ہر صفحہ گلگت بلتستان کے اہم محققین کی تحقیقات اور آراءسے آراستہ ہے۔ اِن میں وائس چانسلر علامہ اِقبال اوپن یونیورسٹی اِسلام آباد ڈاکٹر سید الطاف حسین، ایف جی گرلز ڈگری کالج سکردو کی پرنسپل محترمہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ سلیم، نامور مورخ یوسف حسین آبادی، مایہ ناز محقق و ادیب محمد حسن حسرت، ہمہ پہلو صفت ادیب و سیاستدان الحاج فدا محمد ناشاد، پختہ قلم کار شیرباز علی خان برچہ، اِنقلابی شاعرو قلم کار جمشید خان دُکھی، منفرد ڈرامہ نگار محمد عباس کھرگرونگ، پروفیسر موصوف کے دو شاگرد انور بلتستانی اور کمال جمشید کے ساتھ بحیثیت صدر نشین کاروان فکرو ادب غذر و چیف اِیڈیٹر سہ ماہی ”فکرونظر“ غذر/گلگت بلتستان و چترال ناچیز راقم الحروف کے تنقیدی جائزے، تعارف اور تبصرے شامل ہیں۔
اِن کے علاوہ پروفیسرحشمت علی کمال الہامی صاحب کے بچوں اور اُن کی شریکہ حیات کے اُن کے بارے میں محرمِ رازِ درونِ خانہ کی حیثیت سے خوبصورت خیالات بھی بینائی کو ملتے ہیں۔
میں خیرالنساءصاحبہ کی نظر اِنتخاب کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسی شخصیت کا اِنتخاب کرکے اُس پر اپنا مقالہ تیار کیا، جس کی مشک بار شخصیت سے یقینا گلگت و بلتستان کے ہزاروں لوگ کسبِ فیض کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب جتنے بلند پایہ ادیب، قلم کار، کالم نگار، شاعر، محقق، نقاد اور معلم ہیں، اِس سے کئی گنا زیادہ ایک اچھے اِنسان بھی ہیں۔ اپنے پہلو میں ایک ایسا دردمند دِل رکھتے ہیں جو ہمیشہ اِنسانیت کی بھلائی کے لیے دھڑکتا ہے۔ مجھ جیسے نو واردگانِ ادب اور تشنہ گانِ علم آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ زیر نظر مقالہ کسی بھی صورت آپ کی ہشت پہلو شخصیت اور آپ کی بے مثال شاعری کا کماحقہّ حق ادا نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی شخصیت کی کئی پرتیں ہیں۔ پیاز کے چھلکوں کی طرح تہہ در تہہ ہر پرت کے بعد ایک نئی پرت سامنے آجاتی ہے اور ایک نئی دُنیا آباد ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ مقالہ ایک چھوٹی کاوش ہی سہی پھر بھی یہ اعزاز پروفیسر حشمت کمال الہامی صاحب کے سر سجتا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی ادبی تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں جن کے فن اور شاعری پر ایک نیشنل یونیورسٹی تحقیق کرکے یہ ثابت کرچکی ہے کہ گلگت بلتستان کے اِن بلندو بالا پہاڑوں میں اِنسانوں کی صورت میں ہیرے جواہرات اور لعل و گوہر پائے جاتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے خود بھی بہت عرصہ پہلے اپنے ایک مشہورو معروف اور زبانِ زدِ خاص و عام شعر میں اِس حقیقت کی جانب اِشارہ فرمایا تھا
پہاڑی سلسلے چاروں طرف ہیں بیج میں ہم ہیں
مثالِ گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں
اُن کی علمی و ادبی خدمات اِتنی زیادہ ہیں اور اُن کی شخصیت اِتنی وسیع ہے کہ اِس پر صرف ایک مقالہ چی معنی دارد؟؟؟ اِس پر پوری ایک کتاب بلکہ اُن کی شخصیت کے ہر ہر پہلو پر الگ الگ کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ موصوف اپنی گراں قدر خدمات کی وجہ سے گلگت بلتستان کے علم دوست و ادب شناس لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ ”اِین سعادت بزور بازو نیست“ کے بمصداق یہ مقام و مرتبہ گلگت بلتستان کے کسی دوسرے ادیب یا شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔
کہتے ہیں وقت بڑا مہربان ہوتا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کئی لوگ اُن کی شخصیت کے ہر پہلو پر پی ایچ ڈی کریں گے اور کتابیں لکھیں گے کیونکہ وہ واقعی اِس کے مستحق ہیں۔
بس ہماری دُعا ہے کہ پروردگارِ علم و ادب آپ کا علمی سایہ گلگت بلتستان پر تادیر قائم رکھے تاکہ وہ اپنی بے مثال ادبی شہ پاروں سے ہمیں نئے نئے جہانوں کا سیر کرواتے رہے۔ آمین!
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: