Sat. Dec 5th, 2020

کھلونے

علی احمد جان 
عید کی نماز کے بعد جونہی میں اپنے محّلے میں داخل ہوا تو دیکھتا ہو ں ’’لوگ‘‘ دو گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بر سرِپیکار ہیں ۔ دونوں گروپ’’ ہتھیا روں‘‘ سے پوری طرح لیس ہیں اور ایک دوسرے پر تواتر گولیاں برسارہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ اندین فلموں کی ڈائلاگ دوہرا رہے ہیں۔لوگوں کی عمریں سات سال سے پندرہ سال کے درمیان تھیں ۔ہتھیاروں سے میرا مطلب پلاسٹک کے بندوق اور گولیوں سے مراد پلاسٹک کے چھرّ ے ہیں۔‘‘

 بچوں کے کھیلنے کی نازک چیز کو کھلونا کہتے ہیں ۔جو teddy bear ،ہوائی جہاز،اور گڑیا کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ بچے اِن سے کھیل کر اپنا جی بہلاتے ہیں ، کھلو نے صر ف کھیلنے کی حد تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ بچوں کی ذہنیت پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ بچپن کورے کاغذ کی طرح صاف ہوتا ہے اور اس پرجو کچھ بھی تحریر کر لیا جائے وہ پتھر پر لکیر کے مصداق اس انسان کی زند گی پر نقش ہوجاتا ہے۔بچپن میں بچوں کا من پسند مشغلہ اور انکا سب سے اچھا دوست انکا کھلونا ہوتا ہے۔جو نہ صرف بچے کے من کو بہلاتے ہیں بلکہ اسکے آنے والی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک ہوائی جہاز کا ماڈل بچے کو اونچی اڈان کا سبق دیتا ہے ،تو نرم نازک گڑیا چھوٹی بچیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے رحم ، پیار اور محبت کا سبق دیتا ہے۔

 لیکن آج بچوں نے ہا تھوں ایک ایسا کھلونا آیا ہے جس نے پوری دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔ جوظلم ،بربریت ،قتل و غارت ، تشّدد، خونریزی کا سبق دیتا ہے ۔ مجھے بچوں کے ہاتھوں میں ’’پلاسٹک کے پسٹل ‘‘ دیکھ کرنہایت مایوسی ہوتی ہے۔میرا خیال ہے کہ آج پورے ملک میں سب سے ذیادہ فروخت ہونے والا کھلونا یہی ہے ۔میں خود سے سوال کرتا ہوںآخر یہ بچوں کو کیا سبق دیتا ہے؟؟؟؟؟؟

اِس سے بھی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ والدین خود بڑے شوق سے بچوں کو مختلف تہواروں میں بطور تحفہ دیتے ہیں۔پاکستان کے تمام علاقوں میں اس کے اثرات ہمارے سامنے ہیں۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ شبِ برات اور دیگر تقریبات میں چائنا بم پھوڑنے کا ایک انوکھا رسم چل پڑا ہے۔ہمیں ہتھیا ر، بندوق اور بارود کی بو سے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ کسی بھی تقریب کو فائرنگ کے بغیر نا مکمل تصّو ر کرتے ہیں۔دہی علاقوں خاص کر گلگت بلتستان ،فاٹا ، بلوچستان میں شادی اور بچے کی ولادت پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ اور بڑے فخر سے یہ بات دوستوں میں دہرائی جاتی ہے۔شہروں میں عید کے چاند نظر آنے پر (جو ہمارے مولویوں کو کبھی ایک ساتھ نظر نہیں آتا) شبِ برات اور دیگر مواقعوں پر دل کھول کر فائرنگ کی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ شہروں میں روزانہ درجنون لاشوں کا گرنا معمول بن گیا ہے ۔

کیا ہم اس خطرناک کھلو نے کے نقصانات سے نا واقف ہیں؟؟؟کہنے کو بھی بے ضرر سی چیز نہیں ہے۔کیو نکہ بچے کھیلتے میں چھّرے لگنے سے اپنی آنکھوں سے محروم ہو چکے ہیں اور کئی ایسی خبریں عمو ماً اخباروں کی زینب بنتے ہیں۔اِس خطر ناک کھلو نے کا شکار گلی محّلو ں کی لائٹیں ٹوٹتی ہیں لیکن اسکا سب سے بڑا نقصان ان بچوں کا مستقبل ہوتا ہے ۔ان کی ذہنوں میں یہ’’کھلونا‘‘ اپنی جگہ پّکی کر لیتا ہے۔جہاں پہلے محّلے کے بلب اسکا شکاربنتے ہیں اسی جگہ اب انسانوں کی کھوپڑی نے لے لی ہے ۔ جہاں پہلے گھر کے برتن اور کانچ کی چیزیں ٹوٹ جاتی تھی وہی اب موت پر گھر اجڑ جاتے ہیں ۔پہلے بچے ایک دوسرے کو چھرّے مارتے تھے وہی آج بے دردی سے گولیاں برساتے ہیں ۔ یہی کھلونے اسامہ اور بیت اللہ محسود جیسے دہشتگردوں کو جنم دیتے ہیں۔اور یہی کھلو نے ہمیں ڈاکٹر عبد السّلام، ڈاکٹر عطا الرحمن ، ڈاکٹر پرویز ہود بائی ، قلم وکتاب ، امن و آمان اور سکوں سے دور کوسوں دور لے جاتے ہیں

میں والد ین سے صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا! آپ اپنے بچوں کو علم ،شعوراور انسانیت کی راہ پر لائیں اور انکے ہاتھوں میں یہ نام نہاد کھلو نہ نہ دیں۔۔۔۔۔ورنہ سب کا خدا حافظ۔

1 thought on “کھلونے

  1. I really appreciate your observation and critical representation of this sensitive issue. This is an extremely dangerous indicator of the existing and growing mentality of us being nation. A child starting with a gun will end up with a gun; a symbol of violence. It is all of our responsibility as parents, elders and members of civil society to realise it as a problem and start fighting against it. For me the first step should also be taken by Government to ban all sorts of toy guns into the country and secondly the parents to say NO to all toy guns.

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: