Sat. Jun 19th, 2021

عابد کریم کی جشن آزادی گلگت بلتستان کے دن شہادت اور حکام کی بے حسی

شاہین اختر

آزادی کا دن کسی بھی قوم کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے مگر ایک  گھر کے لیے اس وقت باعث زحمت بن گیا جب یکم  نومبر جشن یوم  آزادی گلگت کے مواقع پر قراقرام انٹرنےشنل یونیورسٹی کا  طالب علم عابد کرم  جشن آزادی کی تقریب  کو رنگیں  بنانے کے لیے منعقدہ کھیلوں  میں  حصہ لے کر بہترین  کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا  اور گلگت کی آزازی میں  حصہ لینے  والے شہیدوں میں  شامل ہوا.

 خوش نصیب عابد کرم  کو اللہ تعالیٰ نے جشن آزادی کے دن شہادت تو نصیب کی مگر اُن کی شہادت سے علاقے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کیونکہ  وہ نہ  صرف ایک بہت اچھا  طالب علم تھا بلکہ ایک اچھا کھلاڈی بھی تھا. انھوں نے متعدد بار علاقائی اور ملکی سطح پر بھی کھےلوں مےں حصہ لےا اور نماےا کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہی انعات بھی جےت لیے ۔عابد کے حولے سے اہل علاقے کا کہنا تھا کی وہ انتہائی شرےف ، نےک اور سماجی نوجوان تھاعلاقے میں  سماجی کاموں میں پیش پیش رہنے کے ساتھ ساتھ بے حدبہادور اور ہمدرد انسان تھے علاقے میں  مسائل کی حل کے لیے ہمیشہ  بھاگ دوڈ کرتا تھے اُن کی شہادت پر پورے حلقے کو فخر ہے مگر اُن کی شہادت سے علاقے کو سخت نقصان پہنچاہے۔

عابد کے بھائی نے میڈیا  سے گفتگوں کرتے ہوئے بتایا  کہ ُان کے خاندان نے انتہائی مشکل دور دیکھے ہیں اُن کے والد نائب اللہ بیگ کے فوج میں  بھی خدمات ہیں  اور وطن عزیز  کے محازوں پر قربانیاں  دی ہیں. فوج سے رٹائرہونے کے بعد اُن کے پاس روز گار کا کوئی زریعہ  موجود نہ تھا جس کی وجہ سے اُن کو سخت محنت کرنا پڑا اور والد کی مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے عابد کے تین بھائیوں نے سخت محنت مزوری کی عابد چھوٹا بھائی ہونے کی وجہ سے اُن کو دوسرے بھاےﺅں کی نثبت کم پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور تمام بھائیوں  نے اُن کی تعلم و تربیت پر توجہ دی  تاکہ باقی بھائیوں  نے جن پریشانیوں کا سامنا کیا ہے  ان کا سامنا  عابد کو نہ کرناپڑے.  اسطرح عابد نے بھی سخت محنت کی تاکہ  بہتر تعلم حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان  کی مدد کر سکے .

شہید  عابد کریم  کے بھائی جاوید  نے میڈیا  بتایا  کہ عابد کریم سے اُن کے خاندان کی امیدیں  وابستہ تھی اس لیے اُن کی بہتر متقبل کے لیے اُن کے خاندان نے کوئی کشر نہ چھوڈی ۔عابد کے والدےن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عابد بچپن سے نیک  اور فرمانبردار اولاد تھا ہم نے اپنے دو بیٹوں  کو وظن عزیز  کی خدمت کے لیے فوج میں بھیجا ہوا ہے.  فوج میں ایک بیٹا کھیلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ملک اور قوم کا نام روشن کر رہا ہے. ہمارے  خاندان نے چھوٹے بیٹے  کی تعلم پر توجہ دی تاکہ وہ اعلٰی تعلم حاصل کر کے خاندان کی خدمت کر سکے مگر ان کی خدمت ہمارے نصیب  میں نہیں تھی  اور اللہ تعالٰی نے اُن کو شہادت نصیب کی جس پر ہمیں  فخر ہے.

ابہوں نے مزید کہا کہ  لوگوں کا یہ  کہنا بلکُل غلط ہے کہ جشن آزادی گلگت کے مواقعے پر فیٹس کی حدیں زیادہ  زیادہ رکھی گئی تھی جس کی وجہ سے عابد کریم  کو شہادت ہوئی میراتھن یس کے لیے کوئی فاصلہ مقررر نہیں کیا  گیا تھا.

ایک سوال کے جواب میں  عابد کے بھائی نے کہا  کی عابد کو اس سے قبل کھبی ہارٹ کا مسلہ نہیں  ہوا وہ نہ ان کو کوئی اور بیماری  تھی نہ جانے اُن کو اس دن کیسے شہادت نصیب  ہوئی؟

عابد کریم  نے جشن یوم  آزادی کے لیے خود کو قربان کیا مگر حکومت کے کسی عہدیدار نے اُسے خراج تحسن تک پیش نہیں کیا .  میراتھن ریس  کے اصل بازی جتنے کا حقدار عابد کریم  تھا مگر اُن کی قربانی کو نظر انداز کیا گیا اور نہ ہی قراقرام یونیورسٹی  کی جانب سے اُن کی یاد میں  کوئی تقریب  ہوئی. عابد کی شہادت ہوئے ١٢  دن گزر گیے مگرجشن آزادی گلگت کے حوالے سے میراتھن ریس  منعقد کرنے والے زمہ دار مکمل طور پر خاموش تماشائی بنے بٹھے ہیں  اور نہ ہی گلگت بلتستان حکومت نے عابد کے شہادت پر کسی بھی قسم کی مالی پیکج  کا علان کیا ہے. مشیر سیاحت و کھیل اور امور نوجوانان بھی اس معاملے کو مکمل طور پر نظرانداد کر رہی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے نوجوانوں کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں.

یکم میراتھن  کا انعقاد تو کیا  گیا تھا مگر طبعی قوانین اور ضوابط  کو مکمل طور پر نظر انداز کی گیا تھا. رس کے دوران موجود افراد کا کہنا تھا کی ریس سے قبل اتھلیٹس کا جسمانی معاینہ نہیں ہوا تھا اور ہی کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی سہولیات میسر تھیں. اسی لیے جب عابد کو ہارٹ اٹیک ہوا تو ڈاکٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے قیمتی وقت ضایع ہوا اور ان کو بروقت طبی امداد نہیں دی جاسکی، جسکی وجہ سے انسانی زندگی بچانے کا نادر موقع ہاتھ سے نکل گیا.

یوم آزادی پر شہیدوں کے مزاروں پر تصویریں کھنچوانے والے اس دن شہید ہونے والے سپوت کو مکمل طور پر بھول گیے. تقریب کے دوران حکومت کے کسی وزیر  نے اسے خراج تحسن تک  پیش  نہیں  کیا.

علاقے کے نوجوان طبقہ نے حکومت کی اس حرکت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔۔

حلقہ نمبر ۳ کے عوام نے حکومت سے مطالبہ وہ فوری طور پر عابد کریم  کو شہد کا درجہ دے کر  اُن کے مزار پر پرچم کشائی کی جائے اور لواحقن کے لیے مالی پیکج  کا علان کر کے ان کی دلجوئی کرے.  بصورت دےگر علاقے کے عوام احتجاج کا مظاہرہ کرئنےگے۔۔۔

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: