Wed. Oct 20th, 2021

محبتوں اور صداقتوں کا سفر – اداریہ

سہ ماہی ”فکرونظر“ کی مسلسل اِشاعت کو ٹھیک دو سال ہو رہے ہیں۔ اس دوران سرزمین شمال و چترال کے ممتاز ادیبوں اور قلمکاروں کا علمی تعاون برابر جاری رہا۔ اور ہنوز جاری ہے۔ یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ شمال و چترال کے ادبی اُفق پر ”فکرونظر“ پہلا رسالہ ہے جس میں بغیر رنگ، نسل، فرقہ اور لسان کے تمام علمی و ادبی شخصیات نے اپنا حصہ ڈالا اور دُنیا والوں پر واضح کر دیا کہ جس طرح 1947ءکو بے سرو سامانی کے باوجود ہمارے آباو¿ اجداد نے اکھٹے ہوکر اپنی لاٹھیوں کے زور سے ڈوگروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بالکل اسی طرح وہ دوبارہ ایک ہوئے تھے۔

محبتوں اور صداقتوں کے اس سفر میں ہماری بھرپور کاوش رہی کہ ہم شمال و چترال میں فروغ پانے والے ادب کو دُنیا کے سامنے لائیں اور دُنیا والوں کو بتاسکیں کہ ہم شہر اور شہری سہولیات سے دُور بہت دُور کے ٹو، ہمالیہ اور راکاپوشی کے آغوش میں رہ کر بھی ادب کی خدمت کر رہے ہیں اور بہت خوب کر رہے ہیں۔ نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے۔ وسائلِ محدود اور مسائلِ لامحدود کے باوجود بھی سچے جذبوں کا یہ سفر جاری رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری راہ میں رکاوٹیں بھی گھڑی کر دی گئیں، مسائل پیدا کیے گئے، اے بی سی سرٹیفیکیٹ کے نہ ہونے کا بہانہ بناکر حکومتی اشتہارات کے دروازے بھی ہم پر بند کر دئیے گئے، پھر کچھ احباب نے نہ جانے کیوں ہمیں کچھ عرصہ لکھنا تک بند کر دیا پھر دوبارہ لکھنا شروع کر دیا۔ خیر ”فکرونظر“ کا سفر جاری رہا اور اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس سے اُمید ہے کہ یہ سفر جاری و ساری رہے گا۔
گلگت بلتستان میں گزشتہ چند سالوں سے فرقے اور مسلک کے نام پر آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی۔ معصوم اور نہتے مسافروں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی گئی۔ ایسے وقت میں ”فکرونظر“ اُمید کی کرن ثابت ہوا۔ ”فکرونظر“ میں لکھنے والے معتبر قلمکار جو گلگت بلتستان کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ اور ان کی علمی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان کا کہا ہوا مستند ہے۔ ان کی لکھی ہوئی چیز سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ گلگت بلتستان کے ادب کا شان اور مان ہیں۔ انہوں نے اپنی فکر انگیز تحریروں کے ذریعے قیامِ امن و محبت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں جو کردار ادا کیا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ ”فکرونظر“ کے گزشتہ شمارے اس بات کے شاہدہیں۔
ہماری بھرپور کاوش رہی کہ ہم اس رسالے کے ذریعے نوجوان نسلوں کے ذہنوں کو روشنی دے سکیں۔ اس سلسلے میں رسالے کے اندر بزرگ اور سینئر ادیبوں کے ساتھ ساتھ ”نئے قلم کار“ کے عنوان سے نوجوان لکھاریوں کی تحریریں شامل کرکے ان کی ادبی پرورش و حوصلہ افزائی کی گئی۔ پھر ”آپ کے خطوط“ کے عنوان سے قارئین کے خطوط کو شاملِ اِشاعت کرکے خط لکھنے کی روایت جو دم توڑ چکی تھی، کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ”آپ کی پسند“ کے عنوان سے یہاں کے بزرگ و نوجوان شعراءکے منطوم کلام کے لیے چند صفحات مختص کر دئیے گئے، جس سے ادبی ذوق رکھنے والے ہر فرد کی صلاحیت کو پرداخت ملی۔ سب سے اہم بات ”سخنور ہمارے“ کے عنوان سے طرحی غزلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کہ دُنیائے ادب کے کسی بھی ادبی رسالے میں ایسی کاوش نظروں سے اوجھل تھی، پہلی بار ”فکرونظر“ نے یہ سلسلہ شروع کیا جس کو عوام الناس میں بے حد پذیرائی ملی۔ ہمارے بزرگ اور سینئر شعراءکے ساتھ نوجوانوں نے بھی اس فورم میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ادبی شگفتہ مضامین، کتابوں پر تبصرے، تعارف، سفر نامے، رپورتاژ، خاکے، افسانے، ناول اور حالاتِ حاظرہ پر خصوصی تحریریںرسالے کی زینت بنتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو سال کے مختصر عرصے میں ”فکرونظر“ شمال و چترال میں ایک نمائندہ ادبی پرچہ کی حیثیت سے مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔ ان دو سالوں کی کہانی بہت لمبی ہے۔ جس کو لفظوں کا جامہ پہنانا شاید مجھ جیسے نوآموز کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
رسالے نے اپنے معمول کے شماروں کے ساتھ ساتھ مختلف اہم مواقعوں پر خصوصی نمبرز کی اِشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ اس سلسلے میں رسالے کی پہلی سالگرہ پر ”فکرونظر نمبر“ اور حال ہی میں ”کریمی نمبر“ بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ان خصوصی نمبرز میں بھی ”فکرونظر“ کے لکھاریوں کی تحریریں اس بات کی شاہد ہیں کہ وہ ان علاقہ جات میں ادب کی پرداخت میں کتنی مخلصی سے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ متاثر ”کریمی نمبر“ نے کیا۔ میری توقعات سے بڑھ کر میرے بزرگوں اور دوستوں نے اپنی محبت بھری تحریریں بھیجیں۔ ان کی تحریریں مجھ جیسے نو آموز کو ادبی میدان میں پا بہ رُکاب کرنے میں اپنا کردار ادا کر چکی ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان اگر خود اچھا ہو تو اسے ہر کوئی اچھا ہی نظر آتا ہے۔ نظر میں اثر ہو تو پتھر بھی گہر ہیں، اثر نہ ہو تو لعل و گوہر بھی بے جوہر ہیں۔ میرے فن و شخصیت پر ان احباب کی تحریروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ خود اچھے ہیں، ان کے خیالات اچھے ہیں، ان کی سوچ اچھی ہے، تب ان کو میں اچھا لگا ہوں ورنہ من آنم کہ من دانم۔
اب جبکہ یکم نومبر 1947ءآزادی گلگت بلتستان کے سلسلے میں ”آزادی نمبر“ ایک ایسے وقت میں پیش خدمت ہے۔ جب ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان میں آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی ہے۔ خدارا! اب تو سوچئے گا! جب 1947ءکو ہمارے آباو¿اجداد نے رنگ، نسل اور فرقہ و مسلک سے آزاد رہ کر اپنی لاٹھیوں کے زور سے دُشمن اور ڈوگرہ افواج کو بھگانے میں کامیابی حاصل کی تھی تو کیوں نہ آج ہم ایک دفعہ پھر اسی طرح ملی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کرتے جو ہماری دھرتی ماں گلگت بلتستان میں اپنے مضموم عزائم کی تکمیل کے لیے ہمیں استعمال کر رہے ہیں۔ ذرا سوچئے! کتنی محبت تھی ان علاقوں میں آپس میں رشتہ داریاں ہوتی تھیں خلوص تھا پیار تھا محبت تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ گلگت میں جب شیعہ اثناعشری برادری محرم کے جلوس نکالتی تھی تو اہلِ سنت والجماعت کی جامع مسجد اور شیعہ امامی اسماعیلی مرکزی جماعت خانہ گلگت کے باہر سبیلیں لگائی جاتی تھیں کیونکہ وہ محرم کے جلوس میں شریک اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت کرکے اسے عبادت سمجھتے تھے۔ چند سال صرف چند سال پہلے ہم کتنے قریب تھے مگر آج ایک ہی محلے میں رہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے سے کوسوں دُور ہیں۔ خدارا! کچھ تو سوچئے! اس بے بنیاد لڑائی میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ ہم اپنی نئی پود کو بھی امتحان میں نہ ڈالیں۔ ہمیں آپس میں سرجوڑ کر اپنے شاندار ماضی کی شاندار یادوں کو پھر سے دہرانے اور زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہی جشن آزادی گلگت بلتستان منانے کی اصل روح ہے کہ ہم لوٹ جائیں۔ واپس آجائیں۔
ان دُعائیہ اشعار کے ساتھ اِجازت چاہوں گا۔ زندگی نے وفا کی تو انشاءاللہ العزیز پھر اگلے شمارے کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ اپنا بہت سارا خیال رکھئیے گا اور ہمیں اپنی دُعاو¿ں میں یاد کیجئیے گا۔
مالک مجھے تو صاحبِ افکار بنا دے
حکمت کے ذریعے مجھے ہوشیار بنا دے
ویرانی بڑھی جاتی ہے اِس دیش میں اے دوست!
وحدت کی بدولت اِسے گلزار بنا دے
معلوم نہیں کس لیے بے حس ہے یہ ملّت
اِس قوم کو اِحساس پہ تیّار بنا دے
اِس دیش میں ہر اہلِ وطن کا ہے فریضہ
ہر فرد کا بگڑا ہوا کردار بنا دے
ہر شخص پہ ہے ظالم و جابر کی حکومت
مولا کسی عادل کو ہی سالار بنا دے
ہر وقت ہی میں جہل سے رہتا ہوں گریزاں
تو علم کا ہی مجھ کو طلب گار بنا دے
ظالم سے نہیں مجھ کو سروکار مرے ربّ!
مظلوم کا تو مجھ کو طرفدار بنا دے
غفلت کے عجب خواب کے آغوش میں ہیں سب
اے اہلِ بصیرت اِنہیں بیدار بنا دے
ہو خُلق و مُرَّوت سے مزّین یہ کریمی
یاربّ! مجھے اخلاق کا معیار بنا دے

چیف اِیڈیٹر (عبدالکریم )

1 thought on “محبتوں اور صداقتوں کا سفر – اداریہ

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.