Thu. Feb 25th, 2021

نیشنل یوتھ اسمبلی میں شامل افراد نوجوانوں کے حقیقی مسائل سے ناواقف ہیں: گلگت بلتستان میں مقیم نوجوانوں کے اعتراضات

گلگت(خصوصی رپورٹ)گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو در پیش مسائل کے حل اور وفاقی سطح پر علاقے کے نوجوانوں کی نمائندگی کے نام نیشنل یوتھ اسمبلی کے نام پر نام نہاد اسمبلی اور اس کی خود ساختہ گورنر اور کابینہ نوجوانوں کو بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو بھی اپنی جال میں پھنسادیا۔ایک طرف علاقے کی عوامی اسمبلی پیش بہا و سائل اور حد سے زیادہ مراعات کے باوجود عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر نا کام ہو چکی ہے تو دوسری طرف یوتھ اسمبلی اس کی خوساختہ گورنر اور کابینہ نے نوجوانوں کی نمائندگی کے نام پر حکومت یہ ایک اور بوجھ ڈالاہے۔ایک ایسے وقت میں جب صوبائی حکومت کا اکاؤنٹ صفر ہوا اور سرکاری ملازمین اور پینشنرز تنخواہ اور پنشن کے حصول میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوں تو ایسے میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کا اسلام آباد کی نرم ہواؤں میں بیٹھ کر گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والی برائے نام اسمبلی کی خود ساختہ گورنر اور اس کی کابینہ کے اعزاز میں حلف برداری کی تقریب پر لاکھوں روپے اڑانا علاقے کے غریب عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے ۔

افسوس ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں کو جو علاقے کے دو ملین کو مسائل گرداپ میں پھنسا کر خود پوری کابینہ اور انتظامیہ کے ہمراہ مارگلہ کالج کی ایک طالبہ کی کال پر خود ساختہ یوتھ اسمبلی کے ممبران سے حلف لے رہے ہیں ۔حالانکہ اس نام کی اسمبلی کا وفاقی اور دیگر صوبوں میں کوئی وجود نہیں ہے جبکہ گلگت بلتستان میں نہ اس اسمبلی کا کوئی دفتر اور نہ ہی کوئی کردار رہا ہے اور اس خود ساختہ اسمبلی کے بنے ایک سال سے زا ئد عرصہ گزرنے کے باوجود علاقے کے نوجوانو اں کو در پیش مسائل کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ نوجوان پہلے سے بھی زیادہ ازیتوں ،بے راہ روی اور استحصال کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے مصروف قوم پرست رہنما و طلبا امور کے علمبردار اسلم انقلابی کا کہنا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے زریعے علاقے کے نوجوانوں کا استحصال کر رہے ہیں اور حکمرانوں کے ساتھ تصاویر بنوا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔جبکہ نوجوان آئے روز مسائل سے دو چار ہوتے جا رہے ہیں۔گلگت بلتستان گریجویٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے وجاہت گلگتی کا کہنا ہے کہ گریجویٹس ایسوسی ایشن ایک عرصے سے نواجوانوں کے مسائل حل کرنے میں سر گرم عمل ہے ۔اس لئے حکومت خود ساختہ اسمبلیوں پر توجہ دینے کی بجائے گریجویٹس لون کے اجراء کو یقینی بنائیں۔شعبہ خواتین کی سرگرم رہنما افسانہ بتول اور شگفتہ کا کہنا ہے اسلام آباد میں خود ساختہ اسمبلیوں کے قیام سے علاقے کی خواتین کو در پیش مسائل کو کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ خود ساختہ گورنر کی خود نمائی سے خواتین میں احساس محرومی پائی جا تی ہے ۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار صفدر علی صفدر کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام صرف اور صرف برائے نام اداروں کا قیام اور اس سلسلے میں تقاریب کے انعقاد کی حد تک رہ گیا ہے جبکہ عوام ایک بد ترین استحصال کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں محکمہ سیاحت کھیل و ثقافت اور نوجوانان کا محکمہ نوجوانوں کے مسائل کے حل اور انہیں مثبت سرگرمیو ں کی طرف راغب کرنے میں سرگرم عمل ہے اور گلگت میں کروڑوں روپے کی مالیت سے ایک یوتھ ڈیولپمنٹ سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے ایسے میں نیشنل یوتھ اسمبلی کا قیام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔معروف صحافی ڈبلیو اے یاسینی کا کہنا ہے کہ برائے نام اسمبلی بنے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد گورنر گلگت بلتستان کا نام نہاد اسمبلی کی گورنر اور کابینہ سے صف بنا کونسا قانون ہے؟ابھی تک اس کاغذی یوتھ اسمبلی کا نوجوانوں کے مسائل کے حل میں کوئی کردار نہیں رہا ہے۔وزیر اعلیٰ اور گورنر اسلام آباد میں اور کوئی مصروفیت نہیں ملتی تو وہ اس قسم کے فضول کاموں میں فوٹوسیشن کے زریعے عوام کو بے وقوف بنا رہے

3 thoughts on “نیشنل یوتھ اسمبلی میں شامل افراد نوجوانوں کے حقیقی مسائل سے ناواقف ہیں: گلگت بلتستان میں مقیم نوجوانوں کے اعتراضات

  1. Meray Nam Nihad Sahafio aur tajzia nigaroo dusroon per tanqeed kar k tees mar khan bannay se pehlay apnay gereeban ma janko. Khud aik ticket se 3, 3 mazay la rahay ho, ksi ne ap per ab tak tanqeed ki hai?? Agar such kahain to sub se pehlay ap log hi nam nihad ho. Zati dushmaniyoon ko nikalnay, aur khud k liye jaga na milay, to yahin aik rasta bachta hai??
    Youth Assembly ka apna kam hai, it’s defined. Kam karnay se pehlay hi tanqeed apki gandi aur galeez soch ki akasi karti hai.

  2. Pata nai ye tehreer zati dushmani k elawa aur kis kis k esharay per likhi gayi hai. Yellow and as well as dirty Journalism. Shame on you Sahafio & Tajzianigaroo.

  3. AOA,
    Pehli Bat ya ki National Youth Assembly ya 1 Modle Parliment hy.is ka Hokumatk Sa koi Taluq Nahi ya 1 volenter Plat Form hy jaha koi bi volunteerly ahh sakta hy.jis ka maqsad Pakistan K nowjawanoon ki Salahiyatton ko ujah gar kar k unhey mustaqbil k leader bana hy,
    2sri Bat NYA k membran ki selection Online applications k Zariyee hota hy, jo meber select hota hy un ko membership ki regestration fee bank ma submit karwani parti hy.

    Namnehad Qoumparsat autaurInqalabi Baiyoon sa mera ya sawal hy ki ap loog to baady tabdili ka narah lagaty hoo gb k new steup ko nahi mantey.. phirr ja k election larty hoo aur usi assemly ma ja k haalf ley ty hoo..

    Sahafiyyon sa bi mera gila hy un ko to pata tha ki selecction kis tarh hoti hy phirap loogoon ayse news ko ehmiyat dii,,, Gb ma Corruption aur awami issues boht hai agar ap un par foucus karey to behter hoo ga ap k liye bi aur elaqy k liye bii..

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: