Mon. Oct 26th, 2020

!نہ جانے اب کہاں ہوں میں

( عطاآباد ہنزہ کے ملبے سے آنے والی ایک آواز)

بلند و بالا کوہساروں کے دامن میں

جہاں پہ برف پڑتی ہے

جہاں سانسیں بھی جمتی ہیں

دیار سرد میں

جب دھوپ پڑتی ہے

تو سب کو اچھا لگتا ہے!

میں سورج دیکھ کر

خوش ہو کے

اپنے چھت پہ نکلا تھا!

بہت اچھا سماں تھا

مد بھری آوازیں آتیں تھیں

ہوا کے گیت

دریا کی صدا

بچوں کی کلکاری

میں اس گمنام خطے کے

کسی جنت نما گوشے میں

اک بوسیدہ چھت پہ بیٹھ کے

خوش تھا

بہت خوش تھا!

یکایک آسماں لرزا

مہیب آوازیں آ ئی

شور اٹھا

اک چٹان ٹوٹا

فضا نے رنگ بدلا

اور دریا تھم گیا جیسے

نہ جانے کتنے لمحے گزریں ہونگے

میں کہاں گم تھا!

میرے بچے

میرا گھر

کھیت میرے

پرکھوں کی قبریں

ہزاروں باتیں مجھ کو یادآئی

چند سانسوں میں

نہ جانے کیا ہوا پھر!

ا ک عجب سیلاب آیا

گھر میرا اکھڑا

میں چھت پہ تھا

میں سب کچھ دیکھ کر بھی

کچھ نہیں سمجھا

اور اب تاریک خا موشی ہے

کچھ بھی تو نہیں ہے اب

نہ  آوازیں

نہ  کلکاری

نہ شوخی

اور نہ نادانی

نہ سورج کی تمازت ہے

نہ سردی کا اثر ہے کچھ

مگر میں سوچتا ہوں

میرے بچے، میری بیوی

میری ماں

اور  گاوں والے

سب کہاںہوں گے؟

وہ جانے اب کہاں ہونگے؟

نہ جانے اب کہاں ہوں میں؟

(نور )

23 thoughts on “!نہ جانے اب کہاں ہوں میں

  1. its outstanding,marvelous,awe-inspiring,tremendous and remarkable……………..i can’t mark any more…………….

  2. Dear Nur: It touches, no words to praise. someone can imagine the power of this poem by the tears rolling down on reading it. Our heart goes out for those espcacially for the mother who saw their sons bureid in front of her eyes. May Allah Bless them eternal peace. “AMIN”

  3. nice noor bhai.it is the wonderful expression of the your feelings. i can’t stop my tears while reading it. may GOD bless and give more courage to you to share the feelings of the effected people in your unique way.’amin’

  4. very nice noor …where disaster give us grief but at other hand ..it give us a reason of pondering …. the out comes i the from of literature …carry on noor …
    thanks
    qizill
    KHI

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: