Fri. Oct 23rd, 2020

چچا رمضان کی دانائی

تحریر: محمد جان رحمت جان
mohdjan21@hotmail.com
وحید ایک ذہین بچہ تھا لیکن اُس کے والدین بہت غریب تھے۔ محلے کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں چھ سالہ وحید کے والدین فقیروں سے کم نہ تھے۔ ۔ وحید کی عمر سکول جانے کی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک کسی نے اسی بنیادی تعلیم دلانے تک کا نہیں سوچا تھا.  وہ صبح سویرے ہی گھر سے نکلتا تھا۔ کھیل کود کی نیت سے لیکن اپنے عمر کے بچوں کو سکول جاتے دیکھ کر حیران ہوجاتا تھا کہ وہ کہا جاتے ہیں اور کیوں جاتے ہیں؟ اُس کے ہمسایوں کے بچے ہاتھ میں مختلف رنگ کے بیگ اور کھانے پینے کی چیزیں لیکر جاتے اور وہ حسرت بھری انکھوں سے اُن کو دیکھتا رہ جاتا تھا۔
یہی نہیں وہ تمام لڑکے لڑکیاں مختلف رنگ برنگ کے کپڑے اور مٹھائیاں‘ چوکلٹ‘ بسکٹ‘ ٹافیاں‘ برفیاں‘ کیک‘ اور نہ جانے کیا کیا اپنے ٹیفن میں ڈالے جارہے تھے۔ آپ ہمیشہ اُن کی طرف دیکھتے مگر کوئی مہربانی نہیں ہوتی تھی۔ حالات کی ستم اور غربت کا مارا یہ بچہ گھر آکر اپنے والدین سے پوچھتا کہ میرے لئے کپڑے اور سوٹ بوٹ کہاں ہے جو میں سکول جا سکوں اور مختلف کھانے پینے کی چیزیں لے سکوں۔  ماں کہتی تھی کہ”میرے جگر ہم آپ کو ان سے بھی بہترین چیزیں دیں گے لیکن رمضان مبارک کو آنے دو“۔ بچہ روز یہ سوال کرتا اور والدین کہتے تھے ”رمضان تو آنے والا ہے ہم اپنے بچے کو بہت کچھ دیں گے“۔ مہینے گزرتے گئے بچہ اس انتظار میں رہا کہ رمضان کب آئے گا لیکن وہ جلدی نہیں آیا۔
وحید روزانہ اپنے والدین سے پوچھتا ’چچا رمضان کب تک اآئے گا؟ مجھے بھی دوسرے بچوں کی طرح کچھ خریدنا ہے‘۔ ایک دن وحید  محلے کی مارکیٹ میں مٹی سے کھیل رہا تھا کہ ایک آدمی اپنے ساتھ بڑے بڑے بیگ لیکرایک دکان سے نکلے اور ایک بس میں سوار ہونے کیلئے گئے۔ دوکاندار نے اُسے چچا رمضان کہہ کر پکارا، اور ہاتھوں میں ایک عینک لیے اس کے پیچھے لپکا. “رمضان چاچا” کی عینک دکان میںرہ گئی تھی۔
بچے نے جب یہ نام سننا تو باغ باغ ہوگیا اور اُس آدمی کا پیچھا کرتے ہونے بس میں سوار ہوا اور اُس آدمی سے کہا کہ چچا رمضان میں پچھلے کئی مہینوں سے آپ کے انتظار میں ہو آپ آج آگئے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ آپ آگئے میرے گھر میں آپ ہی کا انتظار ہورہاہے”۔ وہ آدمی شروع میں توحیران رہ گیا لیکن  پھر جیسے کچھ سمجھنے کے بعد وحید کی طرف دیکھنے لگا. دل ہی دل میں اس نے خود کو بتایا کہ ضرور بچے کو گھر کے بڑوں نے لالچ دیا ہوگا کہ ماہ رمضان کے اختتام پر اسکو عیدی ملے گی.
بچے نے کہا” چچا رمضان میرا گھر آگیا چلو نکلو میری امی اور ابو آپ کے انتظار میں ہے کہ آپ آگئے تو وہ مجھے کپڑے‘ ٹافیاں اور بہت کچھ دینے والے ہیں تاکہ میں دوسروں کی طرح سکول جاسکوں اور دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود سکوں“۔ وہ آدمی بڑے دانا اور نیک تھے اپنے سامان کے ساتھ اُس بچے کے ساتھ گئے۔ بچہ اُس کو لیکر اپنے گھر گئے اور شور مچایا کہ چچا رمضان آگئے ہیں۔ گھر پہنچ کر سامان کا بیگ اس آدمی سے اُس کے گھر والوں کو دے دیا تو بچے نے کہا پیسے بھی دے دو آپ نے جیب سے بہت سارے پیسے بھی دئیے اور چل دیا بچہ بہت خوش تھا کہ آخرکار چچا رمضان آگئے لیکن اُن کے والدین حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہوا. بحرحال انہوں نے اُس آدمی کا شکریہ ادا کیا اور وہ چلا گیا۔
قارئین کرام! یہ ایک کہانی ہے ایک خداترس بندے اور غریب بچے کی جس کے والدین نے بچے کو عید رمضان کے نام سے مطمعین رکھا ہوا تھا۔ غربت کی وجہ سے وہ بے بس تھے اور دوسرے بچوں سے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچے کو دلاسا دیتے تھے۔ لیکن خدا کا کا کرنا یہ ہوا کہ اچانک بچے نے خود ایک آدمی جس کا نام رمضان تھا پکڑ کر لے آیا۔ وہ امیر اور خدا ترس تھا اس لئے سمجھ گئے اور بچے کو وہ کچھ دے دیا جو وہ چاہتا تھا۔ اب جب ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں تو ہزاروں ایسے بچے ہیں جو امداد اور مدد کی انتظار میں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بہت کم ہے جو وحید جیسے بچوں کی مدد کرے۔ اُن کی حسرتوں کو سمجھے اور بلا تعامل مدد کریں۔پاکستان میں ایسے بچوں کی کوئی کمی نہیں جو نادار اور غریب ہیں۔ وہ سکول کی دنیا سے دور ہیں۔ وہ بھی سکول جانا چاہتے ہیں لیکن ایک چچا رمضان کے انتظار میں ہے۔ اُن کے والدین ہمیشہ اُن کو ”رمضان“ کے انتظار کا نوید سناتے ہیں اور عید کے موقع پر ہی لوگوں کی عیدی سے کپڑے اور کھانا پینا دیتے ہیں۔اُس دن ہی وہ عیدی کے پیسوں سے کچھ خریداری کرتے ہی بصورت دیگر اُن کو یہ موقع نصیب نہیں۔ ہمارے ہمسائے میں لوگ بھوکے پیاسے ہوتے ہیں لیکن ہم اُن کی اِن حسرتوں اور احساسات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اپنے بچوں کو صبح تیار کرکے بڑے شان سے سکول بڑے بڑے گاڑیوں میں روانہ کرتے ہیں ہمسائے کے لوگ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں امیروں کی کوئی کمی نہیں خود درجنوں گاڑیوں اور سامان تعائش سے لیس ہوتے ہیں لیکن ہمسائیگی میں لوگ فاقوں سے ہوتے ہیں۔
بحثییت مسلمان ہمیں ہمارے پیارے بنی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ تعلیم دی تھی کہ اپنے ہمسایوں رشتہ داروں کا بہت خیال رکھو۔ یہ کونسی ایمان ہے کہ آپ خود تو پیٹ بھر کر کھائے لیکن آپ کا ہمسایہ بھوکھا رہے۔ اُس کے بچے امید اور حسرت پر جیئے اور آپ مزے کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں”اور خداکی ہی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ بناﺅ اورماں باپ اور قرابت داروں اور یتمیوں اور محتاجوں اور رشتہ دار پڑوسیوں اوراجنبی پڑوسیوں اور پہلو میں بیٹھنے والے مصاحین اور پڑوسیوں اور اپنے زر خرید لونڈیوں اور غلام کے ساتھ احسان کیاکرو بیشک اللہ اکڑ اکڑکے چلنے والوں اور شیخی بازروں کو دوست نہیں رکھتا یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بخل کرتے ہی ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو مال اللہ نے اپنے فصل وکرم سے اُن کو دیا ہے اُسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کُفران نعمت کرنے والوںکے واسطے سخت ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے“۔(القرآن‘النسائ:۵۳)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم نے فرمایا” وہ مومن (مسلمان) نہیں جس کا ہمسایہ اُس کے رویے سے محفوظ نہیں“۔ “He is not a believer whose neighbour is unsafe from his mischief.” ایک اور روایت میں آپ کو ایک عورت کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ رات دن عبادت کرتی ہے‘ روزہ رکھتی ہے اور وہ سخاوت کا پیکر بھی ہے لیکن وہ ہمسایوں کو بُرا بھلا کہتی ہے اور ہمسایے اُس سے خوش نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اُس کے لئے جہنم تیار ہے۔ ایک اور عورت کے بارے میں تباتا گیا کہ وہ فرض عبادات بجالاتی ہے لیکن زیادہ نہیں لیکن اُسے اُس کے ہمسایے بہت خوش ہے۔ اللہ کے نبی صلعم نے فرمایا کہ اللہ نے اُس کے لئے جنت فروس بنا رکھا ہے“۔
آیت قرآن اور حدیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہمیں ہمسایوں اور قرابت داروں کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا کبھی آپ نے اپنے ہمسایوں اور غریبوں کے بارے میں سوچا ہے؟ اُ ن بچوں کا بھی سوچوجو سال بھر عیدی کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ ”درد دل کے واسطے پید اکیا انسان کو ‘ ورنہ کیا کچھ کم نہ تھے کروبیاں“۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: