Fri. Jan 22nd, 2021

کمرہ جماعت اور حکمت عملی کا چولی دامن کا ساتھ ہے

تحریر :۔ شمس الحق قمر گلگت /چترال

دنیا میں کسی بھی کام کی کامیابی ایک پختہ حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس اصطلاح کا استعمال عموماً دنیا کے انتہائی نازک معاملات میں ہوا کرتا ہے مثلاً جنگ، کھیل،سیاست،مہم جوئی وغیرہ ۔ دنیا میں تمام معاملات پر فتح پانے اور کامرانی سے ہمکنار ہونے کے پیچھے حکمت عملی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔میں چونکہ ایک مدرس ہوں اور میرے سامنے تدریس کا محاز ہے جہاں رہتے ہوئے مجھے مختلف تجربات سے گزرنا پڑتا ہے ۔میرے دس پندھرہ سالوں کی درس و تدریس کے تجربے کے دوران جہاں مجھے کامیابی نظر آئی وہ حکمت عملی ہی پر منتج ہوتی ہے یعنی حکمت عملی وہ واحد عمل ہے جس سے کمرہ جماعت کومکمل طور پر اپنے قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور بہ آسانی بچوں کو مخصوص مثبت زاویوں پر گامزن کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی ۔ پیشہ¿ درس و تدریس سے متعلق کتابوں اور تحقیق کے مطابق چھوٹے بچوں یعنی دو سال کی عمر سے لیکر بارہ سال کی عمر کے بچو ں کو پڑھانے کے لئے خاص قابلیت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ بچوں کی نفسیات کو جانتے ہوے کمرہ ¿ جماعت کی مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہر بندے کی بس کی بات نہیں۔ ان کلاسوں کو پرھانے کے لئے کیسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے یہ وہی مدرسین بہتر جانتے ہیں جو ان بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔میرا تجربہ چودہ سال سے ۸۱ سال کے طلبا¿ کو پڑھانے میں ہوا ہے لہذامیں ا ن طر یقہ ہائے تدریس بپر بحث کرونگا جو میری پیشہ وارانہ زندگی کے محور میں گھومتے رہے۔ اس وقت میں ان طریقوں کا ذکر کررہا ہوںجنکی ضرورت کمرہ جماعت میں ہوتی ہے ۔میری نظر میں کمرہ¿ جماعت کو درست انداز سے سنبھالناایک بنیادی حکمت عملی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کمرہ¿ جماعت کو کب اور کن حالات میں کیسے سنبھالنا چاہیئے؟ کمرہ¿ جماعت اپنی جگہ ایک الگ دنیا ہے جسکی اپنی رونق اپنی نیرنگیاں اور اپنے مسائل ہوتے ہیں لیذا ایک مدرس پر فرض ہے کہ وہ اپنے کمرہ¿ جماعت کی ہر خامی اور خوبی پر کڑی نظر رکھے تاکہ طلبا¿ کو انفرادی طور پر بھی معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ استاد کی نظر میں ہیں ۔ جیسے میں نے ذکر کیا کہ کمرہ¿ جماعت ایک بڑی دنیا ہے اس دنیا میں مختلف مسائل سے الجھنے کے بعد جو حکمت عملی مجھے اختیا کرنی پڑیں وہ میں قارئیں کی نذر کر رہا ہوں ۔
٭۔ہر پریڈ میں حاضری لینا
٭۔ہدایات دینا
٭۔نشستوں کی ترتیب
٭۔مدرس کا وقت پر کمرہ¿ جماعت میں داخل ہونا
٭۔مدرس کی شخصیت ( خوش پوشاکی و خوش گفتاری )
٭۔سرگرمی کے دوران وقفہ اور تبدیلی
٭۔کمرہ جماعت میں مدرس کا متحرک رہنا
٭۔وائٹ بورڈ یا بلیک بورڈ کا استعمال
٭۔حوصلہ افزائی
٭۔والدین سے ملاقاتیں
٭۔طلبہ کے یاد نام یاد رکھنا 

٭۔ہر پریڈ میں حاضری لینا :

میں جب کمرہ جماعت میں داخل ہوتا ہو ں تو میر ی پہلی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ میں تمام بچوں کو ایک ایک کرکے گن لیا کرتا ہوںتاکہ کہیں کوئی بچہ بلا وجہ میری کلاس سے باہر نہ رہا ہو ، حاضری رجسٹر میں حاضری لیتاہوں اور جو غیر حاضر ہوتے ہیں ا±ن کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیتا ہوں اور اگلے دن ان بچوں سے استفسار کرتا ہوں کہ وہ کل مجھے میری کلاس میں کیوں نظر نہیں آئے تھے ؟کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھہ بچے چھوٹے اورجھوٹے بہانے بنا کر غیر حاضر رہنے کے عادی ہوتے ہیں اگر ان سے بار بار نہ پوچھا جائے کہ پچھلے دنوں غیر حاضر کیوں رہے تھے تو وہ مہینے میں دو دنوں سے بھی ذیادہ غیر حاضریاں بناسکتے ہیں ۔
٭۔ ہدایات دینا
سیکھنے کے ضمن میںکمرہ¿ جماعت کے ماحول کو ہموار بنانے میں مختصر ہدایات بڑی حد تک مو¿ثر ثابت ہوتی ہیں طلبہ کو یہ سمجھنے میں دشواری قطعی طور پر پیش نہ آئے کہ آئیندہ چالیس منٹوں کا سفر کیسے طے کرنا ہے ۔یہاں پر ایک بہترین مدرس اپنی تمام تر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کو ہونے والی سرگرمی کے بارے میں مختصر مگر جامع انداز میں وضاحت سے بتا دیتا /دیتی ہے تاکہ طلبہ ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔ مثال کے طور پر مجھے اگر آج اردو کے پریڈ میں میر تقی میر کی کوئی غزل پڑھانی ہے تو اس سلسلے کا پہلا قدم خود میری اپنی تیاری ہے اور تیاری کے خاکے کا میری ڈائری میں تحریری طور پر موجود ہونا لازمی ہے اسی منصوبہ بندی کی روشنی میں ،میں شاید طلبا ¿ کو درج ذیل ہدایات دوں گا :۔
۱۔ آج ہم میر کی غزل پر کام کرنے سے پہلے میر کی شخصیت اور شاعری کی خصوصیات پر بحث کریں گے
۲۔اس کے بعد ہم زیر نظر غزل کے صرف دو اشعار کی تشریح کریں گے
۳۔ اشعار بورڈ پر لکھے جائیں گے اور جب بورڈ میں کام شروع ہوگا تب آپ کی نظری بورڈ پر اور توجہ میری جانب ہونا لازمی ہے بصورت دیگر
آپ کو سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
۴۔دوران تشریح اگر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آئے تو ہاتھ ا±ٹھائے تاکہ میں آپ کو تشریح کرنے کا موقع دے سکوں
۵۔مجھے امید ہے کہ آپ نے میری تمام ہدایات غور سے سنی ہوں گی ۔
نوٹ:۔ ان یدایات کو پامال کرنے کی صورت میں آپ کو نقصان ا±ٹھانا پڑے گا اور جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا
یہ ہدایات تو مثال کے طور پر لکھی گئی ہیں لیکن آپ اپنے علاقے ،طلبا¿ و طالبات، طلبہ کی عمریں اور درجہ یعنی جماعت کو پیش نظر رکھتے ہوے ہدایات دے سکتے ہیں لیکن یاد رہے کہ آپ کی ہدایات مختصر اور واضح ہوں

٭ ۔نشستوں کی ترتیب
کمرہ ¿ جماعت میں طلبہ کی نشستوں کی ترتیب اور تقسیم تدریس کے عمل میں بڑی حد تک کار آمد ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کا م کا تعلق سبق کی منصوبہ بندی سے ہوتا ہے مثلاً گول دائرہ بنا کر سرگرمی کرانا،بالکل سامنے سیدھی صفیں بنا کر کام کرنا ، دو دو طلبہ کی جوڑی بنا کر کام کرنا یا چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں طلبہ کوتقسیم کرکے کام کرنا ۔ اس سلسلے میں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو طلبہ ہمیشہ ایک ساتھ سیٹوں میں بیٹھتے ہیں انکی آپس میں دوستی ہوتی ہے ، وہ ایک علاقے یا خاندان کے ہوتے ہیںیا کوئی اور وجہ ہوتی ہے جس بنا پر وہ ہمیشہ ایک ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہی بچے کمرہ¿ جماعت میں خلل ڈالنے کے سبب بھی پائے گئے ہیں لہذا ایک پیشہ ور مدرس کو چاہیے کہ وہ ایسے طلبہ پر کڑی نگاہ رکھے اور ان کی نشستیں تبدیل کرتا /کرتی رہے ۔یہاں پریہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بچے بہت حساس ہوتے ہیںہو سکتا ہے کہ نشستوں کی تبدیلی سے ا±نہیں ذہنی کوفت ہو اور وہ پڑھائی سے اور بھی دور رہیںکیوں کہ ایک طرح سے ہم ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہوتے ہیں۔لہذا اس باریک نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے بہت احتیاط ، پیار اور محبت سے انہیں اپنی سیٹوں سے اٹھا کے دوسری سیٹ میں بیٹھانا چاہیئے تاکہ طلبہ کو تضحیک یا توہیں کا احساس بھی نہ ہواور کمرہ ¿ جماعت کا ماحول اور سیکھنے کا عمل بھی خوشگوار رہے ۔
٭۔ مدرس کا وقت پر کمرہ¿ جماعت میں داخل ہونا
بچے بہت ذہین ہوتے ہیں وہ اپنے استاد کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور جب ایک مدرس کی پوری شخصیت ا±ن پر واضح ہوتی ہے تو وہ بجائے استاد کے قابو میں آنے کے استاد کو چکمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ استاد اگر دیر سے کمرہ¿ جماعت میں آنے کا عادی ہو تو ا±س کلاس میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیںیہی وجہ ہوتی ہے کہ بچے استاد کے سست اوقات کار سے فائدہ ا±ٹھاتے ہوئے اکثر دیر سے کمرہ جماعت میں آتے ہیں۔یا کمرہ جماعت سے باہر ہی رہتے ہیں۔ ایسے کمرہ¿ جماعت کو دوبارہ پڑھائی کے ماحول کی طرف راغب کرنا ایک کٹھن عمل ہوتا ہے ۔ پس ایک مدرس کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ وقت کا پابند ہو اور پل پل کی خبر رکھے تاکہ طلبہ بھی مستعد اور خبردار رہیں
٭۔ مدرس کی شخصیت ( خوش پوشاکی و خوش گفتاری )
ماہرین تعلیم کا یہ عقیدہ ہے کہ بچے اپنے استاد کی نشست وبرخوست سے بلا واسطہ متاثر ہوتے ہیں اور اسی اثر پذیری کو اصطلاح میں” مخفی نصاب“ کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس لئے ایک پیسہ ور مدرس کو پوشاک کے معاملے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اگر ایک استاد کا لباس صاف و شفاف ہے تو طلبہ اسکی بات کو بھی سنجیدگی سے سنتے ہیںاور یوں کمرہ¿ جماعت پر اسکی باتوںکا اچھا اثر ہوتا ہے ۔فرض کیجئے کہ آپ ایک استاد ہیں اور آپ کے سامنے چالیس ایسے تیز طراز بچے بیٹھے ہیں جو آپکی تمام حرکات و سکنات کو اپنے ذہن میں ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ برابر ا±نکی پڑتال بھی کرتے ہیں اور اس کسوٹی کی بنیاد پر آپ کی شخصیت کو اپنے ارد گرد کی دوسری شخصیات سے موازنہ بھی کررہے ہوتے ہیں تو کیا وہ آپ کے گریبان میں لگے داغ سے معنی اخذ نہیں کریں گے ؟

٭۔سرگرمی کے دوران وقفہ اور تبدیلی
کمرہ¿ جماعت میں چالیس یا پینتالیس منٹ بچوں پر بہت بھاری گزرتے ہیں۔ کم و بیش اسی ایک گھنٹے کے اندر طلبہ کو ایک ہی زاویے پر رکھا جائے تو بچوں کا رد عمل قدرے باغیانہ ہوجاتا ہے ، وہ بلا وجہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں اگرچہ وہ جسمانی طور پر آپ کے لیکچر کو سن تو رہے ہوتے ہیں، املا لکھ رہے ہوتے ہیںاورگروپ میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ذہنی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں۔لہذا طلبہ کے اذہان کو ہمیشہ مستعد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ سرگرمی کے دوران وقفہ لیا جائے : اس سے مراد سرگرمی کے دوران خاموش رہنا یا طلبہ کو بالکل بے لگام چھوڑنا نہیںبلکہ اپنی سرگرمی کو ایک نیا موڑ دینا ہے ۔بہتر یہی ہوتا ہے کہ چالیس منٹ کی سرگرمی کو دس، دس منٹ کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹا جائے ۔ یاد رہے کہ سرگرمی میں تھوڑی بہت تبدیلی لانے سے طلبہ ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں۔
٭۔کمرہ جماعت میں مدرس کا متحرک رہنا
کہا جاتا ہے کہ حرکت ہی زندگی ہے ۔ کمرہ¿ جماعت میں استاد کا متحرک رہنا وہ حکمت عملی ہے جس سے طلبا¿کو ایک جاندار کمرہ ¿ جماعت کا احساس ہوتا ہے ۔کرسی میں بیٹھنا گویا طلبہ کو بالکل بے لگام چھوڑنے کے مترادف ہے ۔استاد کو بیٹھا ہوا دیکھ کر طلبہ آپس میں باتیں کرنا شروع کرتے ہیں اور بعض دفعہ تو آپس میں لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی آجاتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ طلبہ کو کام دینے کے بعد کمرہ ¿ جماعت میں گھومنا چاہئے اور اگر ممکن ہو تو ہر طالب علم کے پاس جاکر ا±سکا کام بھی دیکھا جائے تاکہ طلبہ کو معلوم پڑے کہ آپ ان کے کام میں براربر دلچسپی لے رہے ہیں۔
٭۔ وائٹ بورڈ یا بلیک بورڈ کا استعمال
وائت بورڈ یا بلیک بورڈ پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سیکھانے کے عمل میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے ۔ یوں تو اس میں لکھنا ہی گو یا اس کا استعمال ہے تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ کیا آپ کے لکھنے کے دوران طلبا¿ ۰۰۱ فی صد متوجہ ہیں یا آپ ان کی توجہ پسِ پشت ڈال کر خود لکھے جا رہے ہیں۔ یہ بات عموماً دیکھنے میں آئی ہے کہ جب ٹیچر بورڈ پر لکھ رہا ہوتا ہے تو بچے آپس میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کہ بورڈ کا استعمال انتہائی حساس اور مشکل کام ہے۔ ہمیں ایک وقت میں بورڈ پر لکھنا بھی ہوتا ہے اور کمرہ¿ جماعت پر کڑی نگاہ بھی رکھنی ہوتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بورڈ میں لکھتے ہوئے کمرہ جماعت پر نظر دوڑانا بھی اس سرگرمی کا لازمی جزو سمجھا جائے ۔ بہتر مشورہ تو یہ ہے کہ اگر ہو سکے تو کچھ کام کرنے کے بعد کمرہ ¿ جماعت کا ایک راو¿نڈ بھی لگایا جائے ۔ اس ضمن میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جوں ہی بورڈ میں کام شروع ہوجائے تو اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ بورڈ میں لکھی ہوئی مواد کمرہ¿ جماعت کے تمام طلبا¿ کو درست نظر آ رہی ہے ۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیئے استاد کو چاہئے کہ وہ کمرہ ¿ جماعت کے ہر کونے میں جاکر خود اپنی انکھوں سے بورڈ کا جائزہ لے اور یہ یقین ہونے کے بعد کہ ہر بچے کو لکھائی صاف دکھتی ہے تب کام شروع کرے ۔یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا بچوں میں سے کسی کے دیکھنے کی صلاحیت کمزور تو نہیں ۔ بچوں میں بینائی کا جائزہ لینا بھی ایک ماہرانہ کام ہے کیوں کہ بعض مرتبہ جب بچوں کو استاد کی لکھائی ،ان کی اپنی بینائی میں مسلے کی وجہ سے ، صحیح طرح سے نہیں دکھتی تو وہ اسے استاد کی بھونڈی تحریر سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیںاس صورت میں استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں سے ہمشہ پوچھتا / پوچھتی رہے کہ کیا بورڈ میں تحریر شدہ مواد انہیں واضح نظر آتی ہے یا نہیں۔
٭۔حوصلہ افزائی
طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کے کام کو دل سے سراہنا سیکھنے کے عمل میں بڑا معنی رکھتاہے بعض مرتبہ طلبہ اپنی بساط کے مطابق کام کرکے استاد کو دکھا کر خراج کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ ان کا کام ہماری نظر میں اتنا اہم نہ ہولیکن طلبہ یہ کام بڑی محنت سے کر چکے ہوتے ہیں لہذا ان کا جو بھی کام آپ کے سامنے آئے اسے دل سے ملاحظہ فرمائیں اور تصحیح کے ساتھ ساتھ شاباش بھی دیں ۔میرے ایک طالب علم کا خط بہت ہی خراب تھا یہاں تک کہ قلم پکڑوا کر لکھوانا بھی مشکل تھا میںنے دو مینے مسلسل کام کیا لیکن وہ خط درست نہیں کر سکا مجھے درمیاں میں غصہ بھی آتا تھا کہ آخر میری تمام تدا بیرکیوں ضائع جاتی ہیں ایک دن میں نے سوچا کہ میں اسکی نوٹ بک دیکھ کر اسکی لکھائی کی تعریف کروں گا ۔لیذا ایک دن میں نے پوری کمرہ¿ جماعت کے سامنے اسکی نوٹ بک ہاتھ میں ا±ٹھا کر باقی تمام بچوں کو دکھائی اور کہا کہ ©” دیکھو xyz نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے خط کی صفائی میں مثبت تبدیلی لائی ہے مجھے امید ہے کہ xyz مزید محنت سے اپنے خط کو اور بھی خوبصورت بنائے گا !“ دوسرے دن بچہ پرجوش ہوکر اپنی نوٹ بک خود مجھے دکھائی یقین جانئے کہ اب ا±س کے خط میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہوئی تھی میں نے جب مزید تعریف کی تو پانچ دنوں کے اندر ا±س نے وہ کام کر دکھایا جو کہ پچھلے کئی سالوں سے نہیں ہو سکا تھا ۔

٭۔والدین سے ملاقاتیں
طلبہ کے والدین سے ا±ن کے بچوں کی کارکردگی کے حوالے سے ملنا بچوں میں احساس زمہ داری کو جنم دیتا ہے ۔کبھی کھبار طلبہ سے ان کے خاندان کے افراد سے جان پہچان کا ذکر نا بھی سود مند ثابت ہوتا ہے کیوں کہ طلبہ کو احساس ہوتا ہے کہ ٹیچر، والدین اور ہم ایک لڑی میں پروئے ہوئے تسبیح کے دانوں کی طرح آپس میں ج±ڑے ہوئے ہیں ۔
٭۔ طلبہ کے یاد نام یاد رکھنا
جیسے ہر انسان کو اس کا نام بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے ۔ طلبہ استاد کی زبانی اپنا نام سن کے بہت خوش ہوتے ہیں لیکن یہ آسان کام نہیں کہ ایک استاد کو ۰۰۵ طلبہ کے نام یاد رہیں۔خاص کر میرا جیسا کمزور یاد داشت کا انسان ہو تو یہ بڑے جگر جوکھوں کا کام ہوتا ہے ۔تاہم دنیا میں ہر مشکل کام کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے ۔ یہ کام میرے لیئے ایک مشکل مہم سے کم نہ تھا ۔ لیکن بڑی سوچ بچار کے بعد مجھے ایک تدبیر سوجھی :میں نے ایک ڈائری لی جس میں بچوںکی تصاویر کے ساتھ نام و پتہ بھی درج کیا اور ہر روز کمرہ¿ جماعت میں جاتے ہی اپنی ڈائرہ کھولتا ، ڈائری پر ایک نظراور پھرکمرہ¿ جماعت پر ایک نظر سے مجھے اندازہ ہوتا کہ کس کا نام کیا ہے اور کون کہاں بیٹھا ہوا ہے ۔

قابل احترام قارئین ! اگرچہ میدان درس و تدریس میں سینکڑوں طریقہ کار مستعمل ہیں تاہم مذکورہ طریقے میری تدریس میں بڑی حد تک سود مند ہو چکی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں آزما کر دیکھیں گے

 

1 thought on “کمرہ جماعت اور حکمت عملی کا چولی دامن کا ساتھ ہے

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: