Sat. Oct 31st, 2020

جیالے ۔۔۔ ذرا احتیاط سے

گلگت بلتستان کو ملنے والی مالیاتی و اصلاحاتی پیکج کے تحت نومبر2009 میں ہونے والے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران سکردو شہر اور سکمےدان کی دیواروں پر ’مہدی شاہ قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہےں‘ کے نعرے عام تھے جو غالباً آج بھی نہیں مٹ چکے ہونگے ۔اسی طرح گزشتہ سال تلس میں آنے والی قدرتی آفت کے دوران ہم نے دیکھا تو سلینگ پل سے اس طرف کی تمام دیواروں پر بھی اسی طرح کے الفاظ نظر آرہے تھے جن میں صرف مہدی شاہ کی جگہ’ محمد جعفر قدم بڑھاﺅ ہم تمہار ے ساتھ ہیں‘ لکھا گیا تھا۔ جبکہ گلمتی ،سنگل اور گرد نواح کے علاقوں میں بھی پیپلز  پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر علی مدد شیر کے حق میں اس طرح کی والی چاکنگ اب بھی موجود ہے۔ یہ سب کچھ مہدی شاہ ،محمد جعفر یا پھر  علی مدد شیر نے خود اپنے ہاتھوں سے نہیں کیا  تھا بلکہ ان کے پیچھھے ایسے کارکن کار فرما تھے جن کی دن رات کی محنت نہ صرف ان لوگوں کے لئے انتخابات میں کامیابی  کا سبب بنی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت کے ساتھ گلگت بلتستان میں  اپنی پہلی قانون ساز اسمبلی کی حکومت قائم کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔
بعدازاں جب مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ ،محمد جعفر سینئر وزیر اور علی مدد شیر کو وزارت تعلیم کا قلمندان سونپا گیا تو اس دوران بھی پیپلز  پارٹی کے جیالے اس امید کے ساتھ یہی نعرے لگا رہے تھے کہ یہ لوگ اقتدار میں بیٹھ کر علاقے کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم کے دوران بھوکے پیاسے رہ کر رات گئے تک وال چاکنگ کرنے اور گلہ خشک ہونے تک نعرے بازی کرنے والے جیالوں کے مسائل حل کرنے میں بھی اپنابھرپور کردار ادا کریں گے۔ ان میں سے کسی کو مرضی کا ٹھیکہ کسی کو مرضی کی ملازمت لینے یا اپنے عزیزوں کو دلانے اور کسی کو پارٹی کی ذیلی تنظیمات میں  من پسند عہدوں سے نوازے جانے کی آس تھی۔ لےکن بد قسمتی سے اقتدار کے نشے میں مست وزیر اعلیٰ اور اس کی کابینہ نے جیالوں کی ان تمام امیدوں پرپانی پھیر دیا اور مسائل حل کرنا تو کجا،  ان سے ملنے تک  بھی گوارہ نہیں کیا، جسکے باعث جیالوں میں مایوسی پھیل  گئی اور آہستہ آہستہ اخباری بیانات کے ذریعے تنقید  کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس دوران کسی کی طرف سے مہدی شاہ سرکار کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی دی گئی تو کوئی مہدی شاہ ہٹاﺅ تحریک کا آغاز کرنے پر اتر آئے۔کسی نے ان کے خلاف وائٹ پیپرجاری کرنے کا عندیہ دیا تو کوئی انہیں وزارتیں تبدیل کروانے اور عہدوں سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔ مگر شاہ اور ان کے وفادار ان سب کی پرواہ کئے بغیر اپنی من مانیاں کرتے رہے۔ نتیجتاً جیالوں کے صبر کا پیمانہ لبزیز ہو گیا اور با لآخر یکم نومبر کو جشن آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے گھڑی با غ میں منعقدہ ایک پر ہجوم تقریب میں پیپلز پارٹی، پی ایس ایفاور پی وائی او کے عہدیدران و کارکنان نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور صوبائی وزراءپر کرپشن ،اقربا پروری،لوٹ کھسوٹ اور بد عنوانیوں کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کرپٹ وزراءکے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک صوائی وزیر بھی جیالوں کی حمایت کر کے کرپشن کے ان الزامات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔جبکہ دیگر وزراءاس نادر موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
چونکہ اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کی خاطر میں بھی اس تقریب کے کسی کونے میں بیٹھ کر جیالوں کی وہ جذباتی تقاریر غور سے سن رہا تھا جس میں و ہ صوبائی کابینہ کے دو ہی وزراءیعنی وزیر خوراک وزراعت محمد جعفر اور وزیر تعلیم  و اطلاعات ڈاکٹرعلی مدد شیر کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ۔بعد ازاں جب جیالوں کی طرف سے ان وزراءپر کرپشن کے الزامات کی خبریں اخبارات کی زینت بنی تو میرے استفسار پر انہی وزراءاور وزیر اعلیٰ کے ہم نوالہ وہم پیالہ بندوں نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ ان کا یہ اشارہ مہدی شاہ یا کسی اور وزیر کی طرف نہیں بلکہ صرف دو ہی وزراءکی طرف ہے جن کی وجہ سے علاقائی سطح پر پوری حکومت کی بد نامی و شرمندگی ہو رہی ہے۔جب میں نے ان سے سوال کیا کہ جن وزراءپر آپ کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں ان کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی اور الٹاوہ سینہ تان کر پریس کانفرنسوں میں آپ لوگوں سے کرپشن کے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کر کے اپنی دفاع کر رہے ہےں ؟جس پر ان کا جواب تھا کہ کرپشن کی تحقیقات کرنا اور ثبوت فراہم کرنا اول تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے وہ صرف نشاندہی کر سکتے ہیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے تا ہم پھر بھی وہ کرپشن کے ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں مگر اس میں جن لوگوں نے رشوت دےکر ملازمتیں لی ہیں وہ بے چارے اپنی ملازمت اور پیسوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔اب آپ ہی بتائیں کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟
ہونا تو یہ چاہئے کہ مہذب معاشرے کی طرح ہمارے وہ وزراءجن کی طرف کرپشن کے حوالے سے انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں وہ زلت کی زندگی سے عزت کی موت بہترہے کے مصداق مزیدار انکشافات کے سامنے آنے سے قبل جیالے اور عوام کے سامنے آپنے آپ کو احتساب کے لئے ییش کرے اوراپنے ماتحت اداروں میں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائے کیونکہ بد سے بدنام برا ہی ہوتا ہے۔ لہذا ان وزراءکے پاس مستقبل میں اپنے لئے سیاسی راہ ہموار کرنے کا یہی ایک حل ہے۔
جی ہاں! اب بات کرے صوبائی وزراءپر عائد کرپشن کے ان الزامات میں حکومتی سربراہ کی مکمل خاموشی کی۔اس میں پہلی بات تو ےہ واضح ہے کہ وزیر اعلیٰ بذات خود اس کرپشن میں ملوث نہیں تا ہم اپنے ہلکاپن اور رنگین مزاجی کے باعث وہ کرپشن کے مرتکب وزراءکے سامنے حمام میں ننگا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں وزراءکئی اہم اور نازک معاملات میں وزیر اعلیٰ کے رازدار سمجھے جاتے ہیں، اسی لیے وہ رازدانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلے عام کرپشن بھی کرتے ہیں پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو اعلیٰ عہدوں سے فارغ کرانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کو بلیک میل کر کے من پسند وزراتیں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس کا بے چارہ مہدی شاہ کے پاس خاموشی اور مصالحت کے لئے منتوں اور اخبارات کے مدیران کو فون کرنے یا کروانے کے سواکوئی حل ہی نہییں۔ لہذا، جیالوں کو چاہیے کہ وہ بھی معاملات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی تحریک کو آگے لےکر چلے کہی ایسا نہ ہو کہ الٹا یہ وزراءتمیں بھی مہدی شاہ کی طرح اپنی سیاسی چال میں پھنسا دیں ۔تازہ ترین اطلاعت کے مطابق چیف سکریٹری نے محکمہ خوراک میں ایک کروڑکی کرپشن کا نوٹس لیا ہے اور اسکی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔جبکہ باوثوق زرائع کے مطابق اسی ہفتے دو اور بندے تین تین لاکھ رشوت دیکر محکمہ تعلیم میں ملازمتیں لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: