Wed. Oct 28th, 2020

بروشسکی: پاک و ہند کی ایک میٹھی زبان – آخری حصہ

تحریر: محمد حسن وزیری

بروشسکی زبان کے محققین اور مورخین:

بروشسکی زبان پر ملکی اور غیر ملکی محققین اور ماہرین لسانیات نے بہت کام کیا ہے۔مغربی مورخین اور ماہرین لسانیات میں لورتیمر، بر جر، بِڈلف، زارُوبن، ورما، بر فر، ٹفن اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ بر فرنے بروشسکی گرائمر شائع کیا ۔ ای ۔ ٹفن نے بروشسکی محاورات پر کام کیا اور 5030 محاورات لکھے۔

ملکی محققین اور ماہرین لسانیات میں نصیر الدین ہنزائی، صدف منشی، اسماعیل ناشاد،اسماعیل تحسین، فدا علی ایثار اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ علامہ نصیر الدین ہنزائی نے اردو سے بروشسکی لغت تصنیف کی اور اس کے علاوہ ایک کتاب “Inayi” لکھی جس میں بروشسکی حروف تہجی پر کام کیا۔ انہوں نے بروشسکی شاعری کی بھی کتابیں لکھیں ہیں۔کراچی یونیورسٹی اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے بروشسکی لغت کی دو جلدیں بھی چھپی ہیں۔

صدف منشی جن کا تعلق جمو ں و کشمیر سے ہے، نے اپنی ریسرچ تھیسس بھی بروشسکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء پر لکھی۔ اسماعیل تحسین بروشسکی گرائمر اور حروف تہجی پر تحقیق میں مصروف ہیں اور ان کی کتاب طباعت کے آخری مراحل میں ہے۔

انجمن فکرو سخن نگر اردو ادب کے علاوہ بروشسکی زبان کی ترویج پر بھی کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے۔ اس ادارے میں بروشسکی ادب اور شاعری پر کام کرنے والوں میں اسماعیل ناشاد، نوید نگری، آغا محسنی، قربان علی منتظر، غلام عباس نسیم، سید یحیٰ شاہ ، وغیرہ مشہور ہیں۔

بروشسکی زبان کو معدوم ہونے سے کیسے بچا یا جائے؟

دنیا کے بارہ Isolated زبانوں میں شمار ہونے والی اس زبان کو معدوم ہونے سے بچانے اور اسکی ترویج کیلئے درج ذیل قابل ذکر اقدامات اٹھانے ہونگے۔

۱۔ بروشسکی ریسرچ اکیڈمی اور انجمن فکر و سخن جیسے ادارے بنائے جائیں ۔

۲۔ بروشسکی اکثریتی علاقوں میں اسے بطوردرسی نصاب پڑھا یا جائے۔

۳۔ دیگر علاقائی زبانوں کی طرح بروشسکی زبان کو بھی میڈیا پر کوریج دی جائے تاکہ مختلف بروشسکی پروگرامات کے ذریعے اسے زندہ رکھا جاسکے۔

۴۔ بروشسکی بولنے والے والدین کو چاہیے کہ وہ ملک کے اندر یا با ہر کہیں بھی سکونت پذیرہوں اپنے بچوں کوترجیحی طور پر بروشسکی سکھائیں۔

1۔ حصہ اول 

2۔ حصہ دوئم 

 

1 thought on “بروشسکی: پاک و ہند کی ایک میٹھی زبان – آخری حصہ

Comments are closed.

Instagram did not return a 200.
%d bloggers like this: