٦٣ سال قبل ہمارے اجداد نے ایک خونی بغاوت کے نتیجے میں کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کے چنگل سے ٢٧٠٠٠ مربع میل علاقے کو تو آزاد کر لیا مگر آج بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کے دل اور ان کی روحیں جغرافیہ، زبان، نسل اور فرقہ کے قید میں زندہ ہیں. مکمل آزادی آج بھی نہیں ملی ہے
—-
فرقے کے نام پر خونریزی کرنے والے آج بھی قیدی ہیں. زبان اور علاقے کے نام پر نفرتیں اور دوریاں پیدا کرنے والے آج بھی قیدی ہیں. غریب لوگوں کا استحصال کرنے والے بدترین قید میں زندگی بسر کر رہے ہیں. جنکی سوچ قیدی ہو، وہ من مانیاں بے شک ہزاروں کر لے، لیکن آزاد کبھی بھی نہیں کہلاتے
—–

Azaid Abi Baqi hae.
Is bat pa Faiz Ahmed Faiz ki wo nazam yad agaye
Ya dag dag Ujala, Ya shab guzeeda saher
Tha intizar jis ka ya wo saher to nahi
Abi garani-e-shab me kami nahi aye
Najat deeda-o-dil ki gadi nahi aye
Chaly chalo k wo manzil abi nahi aye,,,,,,,,,,,,,,